اللہ کے نام سے میں آپ پر دم کرتا ہوں، ہر اس چیز سے جو آپ کو اذیت پہنچائے، ہر جاندار اور حسد کرنے والی نگاہ…
Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- صحیح مسلمSahih MuslimOriginal wording: اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #5650Sahih Muslim (HadeethEnc 5650)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث میں اس بات کا بیان ہے کہ جبرائیل علیہ السلام نبی ﷺ کے پاس تشریف لائے اور پوچھنے لگےکہ کیا آپ کو شکایت ہے یعنی کیا آپ مریض ہیں؟۔ آپ ﷺ نے جواب دیا کہ: ہاں میں مریض ہوں۔ اس پر انھوں نےکہا: اللہ کے نام سے میں آپ پر دم کرتا ہوں، ہر اس چیز سے جو آپ کو اذیت پہنچائے، ہر جاندار اور حسد کرنے والی نگاہ کے شر سے حفاظت کے لئے۔ اللہ تعالیٰ آپ کو شفا دے، میں اللہ کے نام سے آپ پر دم کرتا ہوں۔
یہ اشرف الملائکہ جبرائیل علیہ السلام کی طرف سے نبی ﷺ کے لئے دعا ہے جو اشرف الرسل ہیں۔
جبرائیل علیہ السلام کے اس قول میں کہ: ”کیا آپ کو مرض کی شکایت ہے؟“ اور آپ ﷺ کے جواب میں کہ: ”ہاں میں مریض ہوں“ اس بات کی دلیل ہے کہ لوگ جب مریض سے پوچھیں تو اس کے اس طرح کہنے میں کوئی حرج نہیں کہ میں مریض ہوں۔ اور یہ کہ ایسا کہنا شکوہ شکایت میں نہیں آتا۔ شکوہ تو یہ ہوتا ہے کہ آپ انسانوں کے سامنے اللہ تعالی کی اس انداز میں شکایت کریں کہ مجھے اللہ نے فلاں فلاں بیماری میں مبتلا کر دیا ہے۔ آپ کا مخلوق کے سامنے رب کی شکایت کرنا جائز نہیں ہے۔ اسی لئے یعقوب علیہ السلام نے کہا تھا: ﴿إِنَّمَا أَشْكُو بَثِّي وَحُزْنِي إِلَى اللَّـهِ﴾ ”کہ میں تو اپنی پریشانیوں اور رنج کی فریاد اللہ ہی سے کر رہا ہوں“۔ (یوسف : 86)
”ہر جاندار اور حسد کرنے والی نگاہ کے شر سے (حفاظت کے لئے)۔ اللہ تعالیٰ آپ کو شفا دے“ یعنی تمام بشری و جناتی اور دیگر نفوس کے شر سے اورحسد بھری نظر کے شر سے جسے بعض لوگ صرف نظر کا نام دیتے ہیں کیوں کہ حاسد شخص (العیاذ باللہ) یعنی وہ آدمی جو اس بات کو ناپسند کرتا ہے کہ اللہ اپنے بندوں کو اپنی نعمتوں سے نوازے اس کا نفس خبیث اور شرانگیز ہوتا ہے اور اس خبیث و شر انگیز نفس سے بعض اوقات ایسی شے کا خروج ہوتا ہے جس کا اثر اس شخص تک پہنچتا ہے جس سے حسد کیا جائے۔ اسی لئے کہا کہ: ”اور ہر حسد کرنے والی نگاہ کے شر سے (حفاظت کے لئے)۔ اللہ تعالیٰ آپ کو شفا دے“ یعنی اللہ اسے ٹھیک کرے اور اس کی وجہ سے پیدا شدہ بیماری کو دور کرے۔ جبریل علیہ السلام نے کہا کہ: "بسم الله أرقيك"۔ (اس سے پتہ چلتا ہے کہ) انھوں نے دعاء کا آغاز اور اختتام بسم اللہ سے کیا۔
Explanation
Angel Gabriel (peace be upon him) came to the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) and asked him: O Muhammad, are you suffering from illness? He said: Yes. So Gabriel recited Ruqyah on the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him), saying: "In the Name of Allah" seeking His aid, "I recite Ruqyah over you" and seek refuge for you "from everything that harms you", whether small or big, "from the evil of every soul" that is malicious "or the eye of an envier" to afflict you, "may Allah cure you", guard you, and protect you from all diseases. "In the Name of Allah, I recite Ruqyah over you" is repeated for emphasis, and it begins and ends with it to signify that none can bring benefit or harm except Allah Almighty.