ایک مرتبہ ایک آدمی ایک لق و دق صحرا سے گزر رہا تھا کہ اس نے بادل سے ایک آواز سنی
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- صحیح مسلمSahih MuslimOriginal wording: اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #5776Sahih Muslim (HadeethEnc 5776)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
ایک مرتبہ ایک آدمی ایک وسیع صحرا میں تھا کہ اس نے ایک بادل سے ایک آواز سنی: فلاں کے باغ کو سیراب کردو۔ پس بادل کا ایک ٹکڑا وہاں سے اپنے مقصد کے لیے الگ ہوا اور ایک کالے پتھروں والی زمین پر پانی برسایا۔ پھر ایک نالی میں ساری نالیوں کا پانی جمع ہوکرآگے بڑھنے لگا۔ وہ صحرا نَورد پانی کے پیچھے چلتا رہا۔ اس نے ایک آدمی دیکھا جو اپنے باغ میں کھڑا اپنی کدال سے پانی ادھر اُدھر پھیر رہا تھا۔ اس نے اس باغبان سے کہا: اے اللہ کے بندے! تیرا نام کیا ہے؟ اس نے اپنا نام بتلایا، تو وہ وہی نام تھا، جو اس نے بادل سے سنا تھا۔ باغبان نے اس نووارد سے پوچھا: اے اللہ کے بندے! تم میرا نام کیوں پوچھ رہے ہو؟ اس نے کہا: میں نے اس بدلی میں، جس کا پانی برس کر تیرے باغ میں آیا ہے،تیرا نام سنا تھا؛ کوئی کہہ رہا تھا: فلاں کے باغ کو سیراب کردو۔ وہ در اصل تیرا یہی نام تھا۔ اب ذرا مجھے بتلا کہ تو کون سا خیر و بھلائی والا عمل کرتا ہے، جس کی بنا پر اس فضل و کرامت کے مستحق قرار پائے؟ اس نے کہا: تو مجھ سے پوچھ ہی ڈالا تو سن! میرے اس باغ سے جتنی پیداواراور پھل ہوتا ہے، میں اس کے تین حصے کرلیتا ہوں؛ ایک حصہ صدقہ کردیتا ہوں، ایک حصہ میں اور میرے بچے کھا لیتے ہیں، اور ایک حصہ باغ کی زراعت و آبادکاری میں لگا دیتا ہوں۔
Explanation
While a man was walking through a barren land, he heard a voice coming out of a cloud, saying: “Irrigate the garden of so-and-so.” Thereupon, the cloud drifted in a certain direction and discharged its water over a rocky plain. The streamlets flowed into a channel. This man followed the channel until it reached a garden and he saw the owner of the garden standing in its center, working with his spade to change the course of the water. He asked him: “O slave of Allah, what is your name?” He told his name, which was the same as he heard from the cloud. The owner of the garden then asked him: “O slave of Allah, why did you ask my name?” He replied: “I heard a voice from a cloud which poured down this water, saying: 'Irrigate the garden of so-and-so.' I would like to know the good you do with your garden that made you deserve such an honor.” He said: “Now that you asked me, I will tell you. I estimate the produce of the garden and distribute one-third of it in charity, spend one-third on myself and my family, and invest one-third back into the garden, for cultivation and development.”