اللہ کے رسول ﷺ نے ہمیں خطبۂ حاجت سکھایا
Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- سنن ابو داؤدSunan Abi Dawudجامع ترمذیJami' at-Tirmidhiسنن نسائیSunan an-Nasa'iسنن ابن ماجہSunan Ibn Majahمسند احمدMusnad AhmadOriginal wording: رواه أبو داود والترمذي والنسائي وابن ماجه وأحمد
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #58060Sunan Abi Dawud & Jami' at-Tirmidhi & Sunan an-Nasa'i & Sunan Ibn Majah & Musnad Ahmad (HadeethEnc 58060)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بتا رہے ہیں کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ان کو خطبۂ حاجت سکھایا۔ دراصل خطبۂ حاجت سے مراد وہ کلمات ہیں، جو خطبوں اور ضروری کاموں کے آغاز کے وقت کہے جاتے ہیں۔ مثلا خطبۂ جمعہ اور خطبۂ نکاح وغیرہ۔ اس خطبے کے اندر کئی غیر معمولی باتیں موجود ہیں۔ مثلا اللہ کا ہر طرح کی تعریف کا حق دار ہونا، صرف اسی سے مدد اور مغفرت طلب کرنا، گناہوں پر پردہ ڈالنے اور درگزر کرنے کی گزارش کرنا، تمام برائیوں اور نفس کی برائیوں سے اللہ کی پناہ میں جانا وغیرہ۔
پھر اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ ہدایت اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ جسے وہ ہدایت دے، اسے کوئی گمراہ نہیں کر سکتا اور جسے وہ گمراہ کر دے، اسے کوئی ہدایت دے نہیں سکتا۔
پھر اللہ کے ایک ہونے کی گواہی اور اس بات کا ذکر کیا کہ اللہ کے علاوہ کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے۔ ساتھ ہی رسالت کی گواہی اور اس بات کا ذکر کیا کہ محمد صلی اللہ علیہ و سلم اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔
اس خطبے کو تین آیتوں کے ساتھ ختم کیا، جن کے اندر اللہ عز و جل سے ڈرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ وہ اس طرح کہ اللہ کے احکام کی تعمیل کی جائے اور اس کی منع کی ہوئی چیزوں سے دور رہا جائے۔ وہ بھی، اللہ کی خوش نودی کے حصول کے لیے۔ ان آیتوں میں بتایا گیا ہے کہ جو شخص یہ کام کر لے گا، اس کے نتیجے میں اس کے اقوال و اعمال درست ہو جائیں گے، اس کے گناہ مٹا دیے جائيں گے اور اسے دنیا میں خوش گوار زندگی اور آخرت میں جنت نصیب ہوگی۔
حدیث کے فوائد
- نکاح اور جمعہ کے خطبوں کا آغاز اس خطبے کے ذریعے کرنا مستحب ہے۔
- خطبے کے اندر اللہ کی تعریف، دونوں گواہیاں اور بعض قرآنی آیات ہونی چاہئیں۔
- اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنے صحابہ کو دین سے متعلق سبھی ضروری باتیں سکھا دی۔
Explanation
Ibn Mas‘ūd (may Allah be pleased with him) informs that the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) taught them the sermon of need, which is to be said upon the start of sermons and when in need of something, like the marriage sermon, the Friday sermon and others. This sermon comprises sublime meanings, including that Allah is worthy of all kinds of praise, seeking help from Him alone, with no partner, concealment and pardon of sins, and seeking refuge with Him from all evils, the evils of the souls and others.
Then, the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) informed that guidance lies in the Hand of Allah. So, whoever Allah guides, none can lead astray, and whoever Allah leads astray, none can guide.
Then, he mentioned the testimony of monotheistic belief and that none is truly worthy of worship except Allah and the testimony that Muhammad is the servant and Messenger of Allah.
He concluded the sermon with these three verses, which contain the command to fear Allah Almighty by observing His commands and prohibitions in pursuit of His pleasure, and state that the reward for those who do so is that they will be guided to righteous deeds and words, their sins and misdeeds will be expiated and forgiven, and they will be given a good life in this world and win Paradise on the Day of Judgment.