اگر کسی مرد نے اپنی بیوی کو اپنے بستر پر بلایا، لیکن اس نے آنے سے انکار کر دیا اور مرد نے اس پر غصہ ہو کر رات…
Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- صحیح بخاریSahih al-Bukhariصحیح مسلمSahih MuslimOriginal wording: متفق علیہ
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #58098Sahih al-Bukhari & Sahih Muslim (HadeethEnc 58098)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
اس حدیث میں اس بات کی دلیل ہے کہ اگر شوہر اپنی بیوی کو ہم بستری کی غرض سے بلائے تو بیوی پر لازم ہے کہ وہ اس کی اس ضرورت پوری کرے ورنہ خود کو فرشتوں کی لعنت کے حوالے کردے۔ لیکن یہ وعید اس شرط کے ساتھ مقید ہے کہ شوہر غصے کی حالت میں رہے جیسا کہ بخاری کی روایت میں یہ بات وارد ہے، تاہم اگر شوہر اس سے مطمئن و راضی ہو تو کوئی حرج نہیں، اسی طرح اگر کوئی شرعی عذر ہو جیسے اگر وہ اس قدر بیمار ہو کہ اس کی ازدواجی ضرورت پوری کرنے کے قابل نہ ہو یا اس کو ایسا عذر لاحق ہو جس کی بناء پر وہ ہمبستری نہ کرسکتی ہو تب بھی کوئی حرج نہیں، بصورت دیگر بیوی پر واجب ہے کہ وہ ہمبستری کے لیے تیار ہوجائے اور اس کی دعوت پر لبیک کہے اور اگر بیوی پر شوہر کا یہ حق ہو تو شوہر پر بھی ضروری ہے کہ جب وہ اپنی بیوی کی جانب سے محسوس کرے کہ وہ ازدواجی ضرورت کی خواہشمند ہے تو وہ بھی اس کی اس خواہش کو پوری کرے تاکہ وہ بھی اس کے ساتھ حُسنِ معاشرت کا وہی برتاؤ پیش کرے جو بیوی نے اس کے ساتھ کیا، کیوں کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے ﴿وَعَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ﴾ ”ان کے ساتھ اچھے طریقے سے بودوباش رکھو“۔
Explanation
This Hadīth indicates that a woman should answer her husband's request of having sexual intercourse with her, or else she exposes herself to the angels' curse. This is restricted, however, by the husband's anger, as in Al-Bukhāri's narration. If he does not object to her refusal, there is no problem. This also applies if the wife has a legitimate excuse, such as being too sick to have sex or having another excuse that prevents her from coming to the husband's bed. Other than that, she has to respond to him. On the other side, the husband has to fulfill the sexual needs of his wife, if he notices that she wants to have sexual intercourse or asks him to do so. Allah says: {And live with them in kindness.} [Sūrat An-Nisā': 19]