سنن ابو داؤد
Sunan Abi Dawud

سب سے بہتر نکاح وہ ہے جس میں آسانی زیادہ ہو۔

Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc

Reference حوالہ
58110Sahih صحیح
عن عقبة بن عامر قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «خير النكاح أيْسَرُه»، وقال النبي صلى الله عليه وسلم لرجل: أتَرضى أن أُزَوِّجَكَ فُلانة «قال: نعم، قال لها: أترْضَين أن أُزوِّجَكِ فلانا» قالت: نعم، فزوجها رسول الله صلى الله عليه وسلم ، ولم يَفرض صداقًا، فدخل بها، فلم يُعطها شيئًا، فلما حضرتْهُ الوفاة قال: إن رسول الله صلى الله عليه وسلم زوجني فلانة، ولم أُعطها شيئًا، وقد أعطيتها سَهمي من خَيبر، فكان له سهم بخيبر فأخذتْهُ فباعتْهُ فبلغ مائة ألف.
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ "سب سے بہتر نکاح وہ ہے جس میں آسانی زیادہ ہو"۔ نبی ﷺ نے ایک آدمی سے پوچھا: کیا تم اس بات پر رضامند ہو کہ میں فلاں عورت سے تمہارا نکاح کردوں؟ اس نے جواب دیا : جی ہاں۔ پھر آپ ﷺ نے اس عورت سے پوچھا کہ کیا تمہیں یہ بات قبول ہے کہ میں فلاں شخص سے تمہاری شادی کردوں؟ اس نے جواب دیا: جی ہاں۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے اس کی شادی کر دی اور حق مہر مقرر نہ کیا۔ اس شخص نے اس عورت سے جماع کر لیا لیکن (بطور حق مہر) اسے کچھ نہ دیا۔ اپنی وفات کے وقت کہنے لگا کہ رسول اللہ ﷺ نے فلاں عورت سے میری شادی کرائی تاہم (بطور حق مہر) میں نے اسے کچھ نہیں دیا۔ اب میں خیبر کی زمین سے میرا جو حصہ بنتا ہے وہ اسے دیتا ہوں۔ خیبر کی زمین میں سے اس شخص کا ایک حصہ تھا جو اس عورت نے لے کر بیچ دیا اور جس کی قیمت ایک لاکھ تک پہنچ گئی۔
— HadeethEnc اردو ترجمہ
‘Uqbah ibn ‘Āmir reported that the Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him) said: "The easiest marriage is the best marriage." The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) said to a man: "Would you like me to marry you off to so-and-so?" He said: 'Yes.' He also asked the woman: "Would you like me to marry you off to so-and-so?" She said: 'Yes.' He then married them off without prescribing a dowry. The man consummated marriage with the wife without giving her anything. When he was about to die, he said: "The Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him) married me off to so-and-so, and I did not give her anything; and (now) I grant her my share from (the booties of the battle of) Khaybar." So she took his share and sold it for one hundred thousand (dirhams).
— HadeethEnc English translation

Reference حوالہ

1Source book اصل کتاب
سنن ابو داؤدSunan Abi Dawud
Original wording: اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔
2Grade درجہ
Sahih صحیح
Authentic: reliable chain and text
مستند: سند اور متن دونوں درست
Graded by: HadeethEnc scholars
درجہ: HadeethEnc کے علماء
3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadiths
ترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
4Hadith ID نمبر
HadeethEnc #58110

نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.

Explanation تشریح

عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ اس حدیث میں بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے نکاح کو آسان بنانے پر ابھارا اور وضاحت فرمائی کہ نکاح کی افضلیت حق مہر کم ہونے کے ساتھ ہے اور یہ کہ کم حق مہر کے عوض نکاح کرنا مستحب ہے اور بہت زیادہ حق مہر خلافِ افضل ہے اگرچہ یہ جائز ضرور ہے۔ کیونکہ جب حق مہر کم ہو گا تو جو شخص نکاح کرنا چاہے گا اس کے لئے اس میں دشوار ی نہیں ہو گی اور یوں نکاح کی کثرت ہو گی جو کہ ایسا عمل ہے جس کی ترغیب دی گئی ہے اور غریب لوگ بھی شادی کر سکیں گے اور اس سے نسل انسانی میں اضافہ ہو گا جو کہ نکاح کا اہم مقصد ہے۔ پھر عقبہ رضی اللہ عنہ نے ذکر کیا کہ آپ ﷺ نے ایک شخص کے سامنے یہ بات رکھی کہ آپ ﷺ اس کی شادی ایک عورت سے کر ديتے ہیں اور پھر یہی بات عورت کے سامنے بھی رکھی۔ جب دونوں اطراف نے رضامندی کا اظہار کر دیا تو نبی ﷺ نے ان کی شادی کرا دی ۔ مرد نے عورت کے لیے حق مہر مقرر نہ کیا اور (بطور حق مہر) اسے کچھ دیے بغیر ہی اس سے مباشرت کر لی۔ جب اس شخص کی موت کا وقت قریب آیا تو اس نے اپنی غنیمت میں ملنے والی خیبر کی زمین میں سے ایک حصہ اسے بطور مہر دے دیا۔ عورت نے اسے لے کر بیچ دیا جس کی قیمت ایک لاکھ ہوئی۔

Explanation

‘Uqbah ibn ‘Āmir (may Allah be pleased with him) reported that the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) urged people to make marriage easy and affordable. The Prophet explained that marriage would be better with a low dowry. Hence, a low dowry is recommended, while an expensive dowry is inadvisable, despite being permissible. When the dowry is low and affordable, marriage will be easier and the marriage rates will increase, as the poor will be able to afford it. This will lead to having offspring, which is one of the most important objectives of marriage. ‘Uqbah (may Allah be pleased with him) mentioned that the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) offered a man to marry him off to a specific woman, and he offered the same to the woman. After both parties consented, he married them off. However, the husband had not specified any dowry to the wife and consummated the marriage without giving her anything. When his death became imminent, he granted her a piece of land that he was given from the booties of Khaybar. His wife took it and sold it for hundred thousand dirhams.

Topics موضوعات