جس کی دو بیویاں ہوں اور اس کا میلان ایک کی جانب ہو، وہ قیامت کے دن اِس حال میں آئے گا کہ اس کا ایک پہلو جھکا…
Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- سنن ابو داؤدSunan Abi Dawudجامع ترمذیJami' at-Tirmidhiسنن نسائیSunan an-Nasa'iسنن ابن ماجہSunan Ibn Majahمسند احمدMusnad AhmadOriginal wording: رواه أبو داود والترمذي والنسائي وابن ماجه وأحمد
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #58125Sunan Abi Dawud & Jami' at-Tirmidhi & Sunan an-Nasa'i & Sunan Ibn Majah & Musnad Ahmad (HadeethEnc 58125)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم فرما رہے ہیں کہ جس شخص کی ایک سے زیادہ بیویاں ہوں اور ان کے درمیان طاقت بھر انصاف نہ کرے، مثلا اخراجات، رہنے کے لیے گھر کی فراہمی، لباس اور رات گزارنے میں برابری نہ کرے، قیامت کے دن اس کی سزا یہ ہوگی کہ اس کے جسم کا آدھا حصہ ایک جانب جھکا ہوا ہوگا۔ بالکل اسی طرح جیسے اپنے معاملات میں ایک جانب جھکا ہوا تھا۔
حدیث کے فوائد
- دو یا دو سے زائد بیوی ہونے کی صورت میں ان کے درمیان انصاف کے ساتھ (حقوق) تقسیم کرنا شوہر پر واجب ہے۔ اس کے لیے یہ حرام ہے کہ دوسری بیویوں کو چھوڑ کر کسی ایک کی طرف مائل ہوجائے، خواہ نان ونفقہ کے معاملہ میں ہو، شب گزاری میں ہو یا حسن معاشرت وغیرہ میں۔
- باری اور اس طرح کی دوسری چیزیں جو انسان کے بس میں ہیں، ان کی تقسیم برابر کرنا ضروری ہے۔ رہی بات محبت اور قلبی میلان وغیرہ ایسی چیزوں کی، جو انسان کے بس میں نہيں ہوا کرتیں، تو وہ اس حدیث میں داخل نہيں ہیں۔ اسی طرح کی چیزوں کا ذکر اس آیت میں ہوا ہے: "تم چاہتے ہوئے بھی عورتوں کے درمیان انصاف نہیں کر سکتے۔" [سورہ نساء : 129]
- انسان کو اسی جنس کا بدلہ ملے گا جس جنس کا اس کا عمل ہوگا۔ چنانچہ جس طرح مرد دنیا میں ایک بیوی کو چھوڑ کر دوسری کی طرف مائل ہوگیا تھا، اسی طرح قیامت کے دن جب حاضر ہوگا تو اس کا جسم ایک جانب جھکا ہوا ہوگا۔
- بندوں کے حقوق کی اہمیت۔ بندوں کے حقوق معاف نہيں ہوں گے۔ کیوں کہ بندے اپنے حقوق کے حصول کے لیے کوشاں رہا کرتے ہيں۔
- جب مرد کو یہ خدشہ ہوکہ وہ اپنی بیویوں کے درمیان انصاف نہیں کر پائے گا تو اس کے لیے مستحب ہے کہ ایک ہی بیوی پر اکتفا کرے تاکہ دین میں کوتاہی کا مرتکب نہ ہو۔ اللہ تعالی کافرمان ہے: "لیکن اگر تمہیں برابری نہ کرسکنے کا خوف ہو تو ایک ہی کافی ہے"۔ [النساء: ۳]
Explanation
The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) informs that whoever has more than one wife and does not maintain justice between them as much as possible, by providing equal treatment in terms of financial support, housing, clothing, and overnight stay, half of his body will be hanging down as a punishment for him on the Day of Judgment. Such inclination is a punishment for his injustice, reflecting his unfair treatment.