سنن ابو داؤد · مسند احمد
Sunan Abi Dawud · Musnad Ahmad

رسول اللہ ﷺ ہم ازواجِ مطہرات کے پاس رہنے کی باری میں بعض کو بعض پر فضیلت نہیں دیتے تھے۔ ایسا دن کم ہی گزرتا…

Hasan (حسن) · Urdu & English translation by HadeethEnc

Reference حوالہ
58129Hasan حسن
عن عروة قال: قالت عائشة رضي الله عنها : «يا ابن أختي كان رسول الله صلى الله عليه وسلم لا يُفضِّل بعضنا على بعض في القَسْم، مِنْ مُكْثِه عندنا، وكان قَلَّ يومٌ إلا وهو يَطُوف عليْنا جميعًا، فَيَدْنُو مِنْ كلِّ امرأة مِنْ غَيْر مَسِيسٍ، حتى يَبْلُغ إلى التي هو يومُها فَيَبِيتُ عندها» ولقد قالت سَوْدة بنت زَمْعَة: حِينَ أسَنَّتْ وفَرِقَتْ أنْ يُفارِقَها رسول الله صلى الله عليه وسلم : يا رسول الله، يَوْمِي لعائشة، فَقَبِل ذلك رسول الله صلى الله عليه وسلم منها، قالت: نَقول في ذلك أَنْزَل الله تعالى وفي أَشْبَاهِها أُراه قال: {وإن امرأة خافت من بعلها نشوزًا} [النساء: 128].
عروہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: ”میرے بھانجے! رسول اللہ ﷺ ہم ازواجِ مطہرات کے پاس رہنے کی باری میں بعض کو بعض پر فضیلت نہیں دیتے تھے۔ ایسا دن کم ہی گزرتا تھا کہ آپ ﷺ ہم سب کے پاس نہ آتے ہوں اور بجز جماع کے ہر ایک سے قریب ہوئے بغیر اپنی اس بیوی کے پاس چلے جاتے اور شب باشی کرتے ہوں، جس کی باری ہوتی۔“، اور کہتی ہیں کہ جب سودہ بنت زمعہ (رضی اللہ عنہا) عمر رسیدہ ہو گئیں اور انھیں اندیشہ ہوا کہ رسول اللہ ﷺ انھیں الگ کر دیں گے، تو کہنے لگیں :اے اللہ کے رسول ! میری باری عائشہ کے لیے رہے گی۔ چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے ان کی یہ بات قبول فرما لی۔ عائشہ رضی اللہ عنہاکہتی ہیں: ہم کہتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے اسی سلسلے میں یا اسی جیسی اور چیزوں کے سلسلے میں آیتِ کریمہ: ﴿وَإِنِ امْرَأَةٌ خَافَتْ مِن بَعْلِهَا نُشُوزًا﴾ ”اور اگر عورت کو اپنے شوہر کی بد مزاجی کا خوف ہو“ (سورۃ النساء : ۱۲۸) نازل فرمائی۔
— HadeethEnc اردو ترجمہ
‘Urwah reported: ‘Ā'ishah (may Allah be pleased with her) said: "O my nephew, the Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him) did not give preference to one of us over the other in terms of his division of the time he spent with us. Every day, except rarely, he used to visit all of us. He would come near each of his wives without having sexual intercourse with her, until he would reach the one whose turn was on that day and he would, thus, stay with her overnight. When Sawdah bint Zam‘ah became old and feared that the Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him) might divorce her, she said: 'O Messenger of Allah, I give my day to ‘Ā’ishah.' The Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him) accepted it from her. We believe that Allah, the Exalted, revealed about this incident or similar ones the verse: {If a wife fears cruelty or desertion on her husband's part...} [Sūrat An-Nisā':128]"
— HadeethEnc English translation

Reference حوالہ

1Source book اصل کتاب
سنن ابو داؤدSunan Abi Dawudمسند احمدMusnad Ahmad
Original wording: اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔
2Grade درجہ
Hasan حسن
Good: acceptable, slightly below Sahih
قابلِ قبول: صحیح سے کچھ کم درجہ
Graded by: HadeethEnc scholars
درجہ: HadeethEnc کے علماء
3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadiths
ترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
4Hadith ID نمبر
HadeethEnc #58129

نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.

Explanation تشریح

اس حدیث میں آپ ﷺ کا اپنی بیویوں کے مابین باری سے متعلق عدل و انصاف کا بیان ہے، اس طرح کہ کسی کو کسی پر فوقیت نہیں دیتے تھے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ تقریبا ہر روز آپ اپنی تمام بیویوں کے پاس جاتے تھے اور ان کے ساتھ حسنِ معاشرت اور ان کے دلوں کی طمانیت کے لیے جماع کے سوا ہر طرح کی ملاطفت و مداعبت فرماتے تھے، پھر جس کے یہاں رات گزارنی ہوتی وہاں جاتے۔ جب سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا بوڑھی ہو گئیں، تو انھیں خوف دامن گیر ہوا کہ نبی ﷺ انھیں الگ کر دیں گے۔ انھوں نے آپ کی زوجیت میں باقی رہنا اور اس شرف و فضل سے سرفراز رہنا چاہا اور یہ شرف و فضل تمام مومنین کی ماں اور سید المرسلین ﷺ کی بیوی ہونا ہے، اس لیے انھوں نے کہا: میں اپنی باری عائشہ کو ہبہ کرتی ہوں اور نبی ﷺ نے اسے قبول فرمایا۔
پھر عائشہ رضی اللہ عنہا نے اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان: ﴿وَإِنِ امْرَأَةٌ خَافَتْ مِن بَعْلِهَا نُشُوزًا أَوْ إِعْرَاضًا فَلا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا﴾ ”اور اگر عورت کو اپنے شوہر کی بد مزاجی اور بے پروائی کا خوف ہو تو دونوں آپس میں صلح کر لیں اس میں کسی پر کوئی گناہ نہیں“ ذکر کیا کہ یہ اسی حالت یا اسی طرح کی چیزوں کے لیے نازل ہوئی۔

Explanation

This Hadīth highlights the justice of the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) in dividing the nights among his wives. He did not favor anyone over the other. ‘Ā'ishah (may Allah be pleased with her) mentioned that the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) used to pass by his wives every night, and he would fondle his wives and spend some intimate time with them without having sexual intercourse. He did that to comfort them, and out of maintaining good companionship with them. He used to spend the night at the house of the one whose turn was up. When Sawdah bint Zam‘ah grew older, she became worried that the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) might leave her, but she wanted to stay as his wife and keep that honor, being a Mother of the Believers and one of the wives of the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him). Therefore, she decided to give up her day to ‘Ā'ishah, and the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) accepted that from her.
Then, ‘Ā'ishah (may Allah be pleased with her) mentioned that the verse: {If a wife fears cruelty or desertion on her husband's part…} [Sūrat An-Nisā': 128] was revealed concerning this situation and others like it.

Topics موضوعات