صحیح بخاری · صحیح مسلم
Sahih al-Bukhari · Sahih Muslim

مرض الموت میں رسول اللہ ﷺ پوچھتے رہتے تھے کہ ”کل میرا قیام کہاں ہو گا، کل میرا قیام کہاں ہو گا؟“ آپ ﷺ عائشہ…

Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc

Reference حوالہ
58131Sahih صحیح
عن عائشة رضي الله عنها أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يَسْأَلُ في مرضه الذي مات فيه، يقول: «أيْن أنا غَدًا، أيْن أنا غَدًا» يُريد يوم عائشة، فأَذِنَ له أزواجه يكون حيث شاء، فكان في بيْت عائشة حتى مات عندها، قالت عائشة: فمات في اليوم الذي كان يدور عليَّ فيه، في بيتي، فَقَبَضَه الله وإنَّ رأسه لَبَيْنَ نَحْري وسَحْري، وخَالَطَ رِيقُه رِيقِي، ثم قالت: دخَل عبد الرحمن بن أبي بكر ومعَه سِواك يَسْتَنُّ به، فنظر إليه رسول الله صلى الله عليه وسلم ، فقلت له: أعْطِني هذا السواك يا عبد الرحمن، فَأَعْطَانِيه، فَقَضَمْتُه، ثم مَضَغْتُه، فأعْطَيته رسول الله صلى الله عليه وسلم فاسْتَنَّ به، وهو مُسْتَنِد إلى صدري.
عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ بیان کرتی ہیں کہ مرض الموت میں رسول اللہ ﷺ پوچھتے رہتے تھے کہ ”کل میرا قیام کہاں ہو گا، کل میرا قیام کہاں ہو گا؟“ آپ ﷺ عائشہ (رضی اللہ عنہا) کی باری کے منتظر تھے، پھر آپ کی بیویوں نے آپ کی چاہت کےمطابق قیام کی اجازت دے دی، پھر آپ ﷺ عائشہ رضی اللہ عنہا ہی کے ہاں مقیم رہے یہاں تک کہ انہیں کے پاس آپ ﷺ نے وفات پائی۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ آپ ﷺ کی وفات اسی دن ہوئی جس دن قاعدہ کے مطابق میرے یہاں آپ کے قیام کی باری تھی، وفات کے وقت سرِ مبارک میرے گردن و پیٹ کے درمیان یعنی سینے پر تھا اور میرا لعاب آپ ﷺ کے لعاب کے ساتھ ملا تھا۔ پھر انہوں نے بیان کیا کہ عبدالرحمٰن بن ابو بکر داخل ہوئے اور ان کے ساتھ (ہاتھ میں) مسواک تھی جس سے وہ مسواک کر رہے تھے۔ آپ نے ان کی طرف دیکھا تو میں نے کہا: اے عبدالرحمٰن! یہ مسواک مجھے دے دو۔انہوں نے مسواک مجھے دے دی۔ میں نے اسے تراشا پھر اچھی طرح چبا کر (نرم کیا) اور آپ ﷺ کو دی، پھر آپ ﷺ نے اس کے ذریعہ مسواک کیا، اس وقت آپ ﷺ میرے سینے سے ٹیک لگائے ہوئے تھے۔
— HadeethEnc اردو ترجمہ
‘Ā'ishah (may Allah be pleased with her) reported: The Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him) used to ask in his final illness: "Where will I be tomorrow? Where will I be tomorrow?" He was looking forward to ‘Ā'ishah's turn [to stay with her]. So, his wives allowed him to stay wherever he wished. He stayed at ‘Ā'ishah's house till he died there. ‘Ā'ishah added: "He died on the day of my turn in my house, and he was taken unto Allah while his head was between my chest and neck, and his saliva mixed with mine." ‘Ā'ishah then said: "‘Abdur-Rahmān ibn Abu Bakr came in carrying a tooth-stick that he was cleaning his teeth with. The Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him) looked at it, so I said to him: 'O ‘Abdur-Rahmān, give me this tooth-stick.' He gave it to me and I cut it, chewed it (its end) and gave it to the Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him) who cleaned his teeth with it while he was resting against my chest.”
— HadeethEnc English translation

Reference حوالہ

1Source book اصل کتاب
صحیح بخاریSahih al-Bukhariصحیح مسلمSahih Muslim
Original wording: متفق علیہ
2Grade درجہ
Sahih صحیح
Authentic: reliable chain and text
مستند: سند اور متن دونوں درست
Graded by: HadeethEnc scholars
درجہ: HadeethEnc کے علماء
3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadiths
ترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
4Hadith ID نمبر
HadeethEnc #58131

نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.

Explanation تشریح

عائشہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ ﷺ کی زندگی کے آخری ایام کو بیان کر رہی ہیں کہ آپ ﷺ اس مرض میں تھے جس میں آپ کی وفات ہوئی تھی، آپ ﷺ سوال کرتے ہوئے کہہ رہے تھے کہ ”کل میرا قیام کہاں ہو گا؟، کل میرا قیام کہاں ہو گا؟“یہ سوال اپنی بیویوں سے عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس جانے کے لیے اجازت لینے کا اشارہ تھا، یہی وجہ ہے کہ وہ یہ بات سمجھ گئیں اور آپ ﷺ کو اس کی اجازت دے دی، آپ ﷺ انہیں کے حجرے میں رہے یہاں تک کہ آپ کی وفات ہو گئی، اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کی روح قبض کرلی اس حال میں کہ آپ ﷺ کا سر ان کے سینے پر تھا، (بین سحرھا) یعنی سینہ کے بالائی یا پیٹ کے نچلے حصے کے مابین اور ”ونحرھا“ یعنی گردن میں ہار پہننے کی جگہ، پھر انہوں نے بیان کیا ہے کہ مسواک کے ذریعہ ان کا تھوک رسول اللہ ﷺ کے تھوک کے ساتھ مل گیا تھا، وہ اس طرح کہ اسی وقت حالتِ نزع میں عائشہ رضی اللہ عنہا کے بھائی عبد الرحمٰن بن ابو بکر نبی ﷺ کے پاس حاضر ہوئے اور ان کے پاس ایک تر مسواک تھا، جس سے اپنے دانتوں سے رگڑ رہے تھا، جب نبی ﷺ نے عبد الرحمٰن کے ہاتھ میں مسواک دیکھا تو اس جانب نگاہ اٹھائی گویا اس کی رغبت رکھتے ہوں، عائشہ رضی اللہ عنہ اسے سمجھ گئیں اور اپنے بھائی سے مسواک کو لے لیا، اور مسواک کے بنے ہوئے سرے کو تراشا، اور نیا سرا بنایا، اسے چبا کر خوب نرم کیا، پھر نبی ﷺ کو پیش کیا جس سے آپ ﷺ نے مسواک کیا، تو گویا عائشہ رضی اللہ عنہا قابل رشک اور خوش قسمت تھیں اور ان کے لیے یہ لازم تھا، کہ نبی ﷺ کی وفات اس حال میں ہوئی کہ آپ ﷺ کا سر مبارک ان کے سینے پر تھا۔

Explanation

‘Ā'ishah (may Allah be pleased with her) tells us about the last days in the life of the Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him). During his last illness, he used to ask: "Where will I be tomorrow? Where will I be tomorrow?" This question was intended as a gentle, indirect request by the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) to his wives to stay at ‘Ā'ishah's house. They understood this and granted him permission to stay with her. He stayed in her house until he died. ‘Ā'ishah (may Allah be pleased with her) mentioned that he died on the day of her turn. Allah, the Exalted, took his life when his head was between her chest and neck. She added that his saliva was mixed with hers because of the tooth-stick. The story goes that ‘Ā'ishah's brother, ‘Abdur-Rahmān ibn Abu Bakr (may Allah be pleased with him) entered holding a tooth-stick whilst the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) was in the throes of death. When the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) saw the tooth-stick, he looked at it as if he wanted it. ‘Ā'ishah understood the look, took it from her brother, chopped the top off, chewed it to make it palatable, and then handed it to the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him). He took it and used it. After his death, ‘Ā'ishah (may Allah be pleased with her) would always be envied, because the Prophet (may Allah's peace and blessings upon him) died whilst his head was resting against her chest.

Topics موضوعات