سنن ابو داؤد · جامع ترمذی · سنن ابن ماجہ · مسند احمد · سنن دارمی
Sunan Abi Dawud · Jami' at-Tirmidhi · Sunan Ibn Majah · Musnad Ahmad · Sunan ad-Darimi

ظہار سے متعلق سلمہ بن صخر رضی اللہ عنہ کی حدیث

Hasan (حسن) · Urdu & English translation by HadeethEnc

Reference حوالہ
58155Hasan حسن
عن سلمة بن صخر رضي الله عنه قال: كُنْتُ امْرَأً أُصِيبُ من النساء ما لا يُصِيبُ غيري، فلما دخل شهر رمضان خِفْتُ أن أصيب من امرأتي شيئا يُتَابَعُ بي حتى أصبح، فَظَاهَرْتُ منها حتى يَنْسَلِخَ شهر رمضان، فَبَيْنَا هي تَخْدُمُنِي ذات ليلة، إذ تَكَشَّفَ لي منها شيء، فلم أَلْبَثْ أن نَزَوْتُ عليها، فلما أصبحت خرجت إلى قومي فأخبرتهم الخبر، وقلت امشوا معي إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم ، قالوا: لا والله. فانطلقت إلى النبي صلى الله عليه وسلم فأخبرته، فقال: «أنت بِذَاكَ يا سلمة؟»، قلت: أنا بذاك يا رسول الله -مرتين- وأنا صابر لأمر الله، فاحكم فيَّ ما أراك الله. قال: «حَرِّرْ رقبة»، قلت: والذي بعثك بالحق ما أملك رقبة غيرها، وضربت صَفْحَةَ رَقَبَتِي، قال: «فصم شهرين متتابعين»، قال: وهل أصبت الذي أصبت إلا من الصيام؟ قال: «فأطعم وَسْقًا من تمر بين ستين مسكينًا»، قلت: والذي بعثك بالحق لقد بِتْنَا وَحْشَيْنِ ما لنا طعام، قال: «فانطلق إلى صاحب صَدَقَةِ بَنِي زُرَيْقٍ فَلْيَدْفَعْهَا إليك، فأطعم ستين مسكينًا وسقًا من تمر وكُلْ أنت وعِيَالُكَ بَقِيَّتَهَا»، فَرَجَعْتُ إِلَى قَوْمِي، فقلت: وجدت عندكم الضِّيقَ، وَسُوءَ الرَّأْيِ، ووجدت عند النبي صلى الله عليه وسلم السَّعَةَ، وَحُسْنَ الرَّأْيِ، وَقَدْ أَمَرَنِي -أَوْ أَمَرَ لِي- بِصَدَقَتِكُمْ.
سلمہ بن صخر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں، میں ایک ایسا شخص تھا، جو بیوی کے ساتھ اتنی مرتبہ صحبت کیا کرتا تھا، جو عام طور پر لوگ نہیں کرتے۔ جب ماہ رمضان آیا، تو مجھے ڈر ہوا کہ اپنی بیوی کے ساتھ کوئی ایسی حرکت (جماع) نہ کر بیٹھوں، جس کی برائی صبح تک پیچھا نہ چھوڑے۔ چنانچہ میں نے ماہ رمضان کے ختم ہونے تک کے لیے اس سے ظہار کر لیا۔ ایک رات کی بات ہے، وہ میری خدمت کر رہی تھی کہ اچانک اس کے جسم کا کوئی حصہ نظر آ گیا، تو میں اس سے صحبت کیے بغیر نہیں رہ سکا۔ جب میں نے صبح کی تو اپنی قوم کے پاس آیا اور سارا ماجرا سنایا۔ نیز ان سے درخواست کی کہ وہ میرے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ سلم کے پاس چلیں۔ وہ کہنے لگے:اللہ کی قسم یہ نہیں ہو سکتا! چنانچہ میں خود ہی آپ صلی اللہ علیہ سلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور پوری بات بتائی۔ آپ صلی اللہ علیہ سلم نے فرمایا: ”سلمہ! تم نے ایسا کر ڈالا ہے؟“ میں نے جواب دیا : ہاں اللہ کے رسول! مجھ سے یہ حرکت ہو گئی ہے، -دو بار اس طرح کہا- میں اللہ کا حکم بجا لانے کے لیے تیار ہوں۔ آپ میرے بارے میں حکم کیجیے جو اللہ آپ کو سجھائے۔ آپ صلی اللہ علیہ سلم نے فرمایا: ”ایک گردن آزاد کر دو“۔ میں نے اپنی گردن پر ہاتھ مار کر کہا: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے! اس کے علاوہ میں کسی اور گردن (غلام) کا مالک نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ سلم نے فرمایا: ”تو دو مہینے کے مسلسل روزے رکھو“۔ میں نے کہا: میں تو روزے ہی کے سبب اس صورتِ حال سے دوچار ہوا ہوں! آپ صلی اللہ علیہ سلم نے فرمایا: ”تو پھر ساٹھ صاع کھجور ساٹھ مسکینوں کو کھلاؤ“۔ میں نے جواب دیا: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا، ہم دونوں تو رات بھی بھوکے سوئے، ہمارے پاس کھانے کا کوئی سامان نہیں تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ سلم نے فرمایا :”بنی زریق کے صدقے والے کے پاس جاؤ، وہ تمھیں اسے دے دیں گے۔ ساٹھ صاع کھجور ساٹھ مسکینوں کو کھلا دینا اور جو بچے اسے تم خود کھا لینا اور اپنے اہل و عیال کو کھلا دینا“ اس کے بعد میں نے اپنی قوم کے پاس آ کر کہا: مجھے تمھارے پاس تنگی اور غلط رائے ملی، جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ سلم کے پاس گنجائش اور اچھی رائے ملی۔ آپ صلی اللہ علیہ سلم نے مجھے -یا میرے لیے- تمھارے صدقے کا حکم فرمایا ہے۔
— HadeethEnc اردو ترجمہ
Salamah ibn Sakhr (may Allah be pleased with him) reported: I was a man more given to sexual intercourse with women than others. When the month of Ramadan came, I feared lest I would have intercourse with my wife, and this would continue till the morning. So I swore that my wife would be as impermissible for me as my mother till the end of Ramadan. One night, however, when she was serving me, something of her was revealed, prompting me to jump upon her right away. In the morning, I went out to my people and informed them about this matter. I said: "Go along with me to the Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him)." They said: "No, by Allah." So I went to the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) and informed him of the matter. He said: "Did you really do it, Salamah?" I said: "I did it twice, O Messenger of Allah, I am content with the judgment of Allah. So take a decision about me as Allah revealed to you." He said: "Free a neck (a slave)." I said: 'By the One Who sent you with truth! I do not possess a neck other than this," striking the surface of my own neck. He said: "Then fast two consecutive months." I said: "Indeed, the very act I committed was because of fasting." He said: "Feed sixty poor people with a Wasq of dates." I said: "By the One Who sent you with truth! We passed the night hungry; there was no food in our house." He said: "Then go to the collector of Zakah of Banu Zurayq, and let him give it to you, and feed sixty poor people with a Wasq of dates, and you and your family eat the remaining dates." I came back to my people and said to them: "I found with you restriction and bad opinion, but I found with the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) spaciousness and wise opinion. He has ordered me – or for me – to be given from your Zakah."
— HadeethEnc English translation

Reference حوالہ

1Source book اصل کتاب
سنن ابو داؤدSunan Abi Dawudجامع ترمذیJami' at-Tirmidhiسنن ابن ماجہSunan Ibn Majahمسند احمدMusnad Ahmadسنن دارمیSunan ad-Darimi
Original wording: اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام دارمی نے روایت کیا ہے۔
2Grade درجہ
Hasan حسن
Good: acceptable, slightly below Sahih
قابلِ قبول: صحیح سے کچھ کم درجہ
Graded by: HadeethEnc scholars
درجہ: HadeethEnc کے علماء
3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadiths
ترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
4Hadith ID نمبر
HadeethEnc #58155

نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.

Explanation تشریح

صحابیٔ رسول سلمہ بن صخر رضی اللہ عنہ نے رمضان میں اپنی شدتِ شہوت کی وجہ سے اپنی بیوی کے ساتھ جماع کرنے سے رکنا چاہا۔ انھوں نے اس اندیشے کے تحت ان سے ظہار کر لیا کہ کہیں وہ اپنی بیوی کے ساتھ عملِ جماع میں مصروف ہوں اور فجر طلوع ہو جائے۔ مگر ایک رات انھوں نے جماع پر ابھارنے والی چیز دیکھی اور جماع کر بیٹھے اور اس گناہ کی زود اثری سے خائف ہو کر اپنی قوم کے لوگوں سے کہا کہ وہ ان کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کے پاس چلیں اور اس مسئلے کا حکم دریافت کریں اور ان کا عذر پیش کریں۔ لوگوں نے ان کے ساتھ جانے سے انکار کر دیا۔ اس لئے وہ خود گئے اور رسول اللہ ﷺ کے سامنے اپنا مسئلہ پیش کیا۔ آپ ﷺ نے کہا کہ کیا واقعی تم نے یہ کام کیا ہے اور اس کے مرتکب ہوئے ہو؟ انھوں نے جواب دیا: ہاں! تو نبی ﷺ نے اس مسئلے کے سلسلے میں اللہ کا حکم انھیں بتلایا کہ وہ ایک گردن آزاد کریں اور یہ نہ پائیں تو مسلسل دو ماہ کا روزہ رکھیں اور اگر اس کی طاقت نہ ہو تو ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلائیں۔ انھوں نے اپنی کمزور حالی، قلاشی، غلام آزاد کرنے اورکھانا کھلانے کی عدمِ ملکیت سے باخبر کیا، تو اللہ کے رسول ﷺ نے انہیں اپنی قوم سے صدقہ لینے کا حکم دیا کہ وہ انہیں کھجور دیں تاکہ اسے اپنے ظہار کا کفارہ بنائیں اور اس میں سے جو بچ رہے اسے اپنے اہل و عیال کو کھلائیں۔

Explanation

This Companion, Salamah ibn Sakhr (may Allah be pleased with him) wanted to halt copulation with his wife throughout the month of Ramadan given the intensity of his sexual desire. Therefore, out of fear that he might have intercourse with her, which would continue to the time of the Fajr, he took an oath of Zhihār, making her as impermissible for him as his mother until the end of the month. However, one night, he was allured into having sexual intercourse with her, which he did. Thereafter, he felt fearful of the consequences of his sin. So he requested his people to accompany him to the Messenger (may Allah's peace and blessings be upon him) to ask him about the ruling on this issue and beg him for pardon on his behalf, but they refused to go with him. So he went to the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) by himself and related this incident to him. The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) asked him if he was sure that he had actually done this, and Salamah replied in the affirmative. Thereupon, the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) informed him of the ruling of Allah in his case; which is that he should free a slave; and if he cannot afford it, he should fast for two consecutive months; and if he is unable to do so, he should feed sixty poor people. However, Salamah (may Allah be pleased with him) informed the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) of his helplessness and poverty, possessing no slave or even food. In response, the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) ordered that he should be given dates from the charity of his people so that he could expiate therewith for his oath of Zhihār and take the rest to feed his wife and children.

Topics موضوعات