صحیح مسلم
Sahih Muslim

کیوں نہیں، تم اپنی کھجوروں کا پھل توڑو، ممکن ہے کہ تم (اس سے) صدقہ کرو یا کوئی اور اچھا کام کرو۔

Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc

Reference حوالہ
58163Sahih صحیح
عن جابر بن عبد الله قال: طُلِّقَتْ خالتي، فأرادت أن تَجُدَّ نَخْلَهَا، فَزَجَرَهَا رجل أن تخرج، فأتت النبي صلى الله عليه وسلم فقال: «بلى فَجُدِّي نَخْلَكِ، فإنك عسى أن تَصَدَّقِي، أو تفعلي معروفا».
جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ میری خالہ کو طلاق دی گئی، انہوں نے (دورانِ عدت) اپنی کھجوروں کا پھل توڑنے کا ارادہ کیا تو ایک آدمی نے انہیں باہر نکلنے پر ڈانٹا، تو وہ نبیﷺ کے پاس آئیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیوں نہیں، تم اپنی کھجوروں کا پھل توڑو، ممکن ہے کہ تم (اس سے) صدقہ کرو یا کوئی اور اچھا کام کرو“۔
— HadeethEnc اردو ترجمہ
Jābir ibn ‘Abdullāh (may Allah be pleased with him) reported: My maternal aunt was divorced, and she wanted to collect the harvest from her date-palm trees. A man rebuked her for going out to the trees. So she went to the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) who said: "No, go and collect the harvest from your trees, for perhaps you will give (some of it in) charity or do a good deed with it."
— HadeethEnc English translation

Reference حوالہ

1Source book اصل کتاب
صحیح مسلمSahih Muslim
Original wording: اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔
2Grade درجہ
Sahih صحیح
Authentic: reliable chain and text
مستند: سند اور متن دونوں درست
Graded by: HadeethEnc scholars
درجہ: HadeethEnc کے علماء
3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadiths
ترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
4Hadith ID نمبر
HadeethEnc #58163

نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.

Explanation تشریح

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جابر رضی اللہ عنہ کی خالہ کو ان کے شوہر نے طلاق دے دی، انہوں نے دورانِ عدت میں اپنے کھجوروں کا پھل توڑنا چاہا تو ایک شخص نے انہیں اس سے منع کر دیا، پس انہوں نے نبی ﷺ سے دریافت کیا تو آپ ﷺ نے بتایا کہ ان کے نکلنے میں کوئی حرج و گناہ نہیں ہے، اور یہ اس بات کا فائدہ دیتی ہے کہ مطلقہ بائنہ اپنی عدت گزاری میں متوفیٰ عنہا (جس کا شوہر فوت ہو گیا ہو) کی عدت گزاری کی طرح نہیں ہے، مطلقہ جب چاہے اپنی ضرورت کے مطابق باہر نکل سکتی ہے، اسی کے ساتھ عمومی طور پر عورت کا اپنے گھر میں رہنا ہی زیادہ افضل و بہتر ہے اور ازحد حفاظت و صیانت کا باعث ہے، اس لیے کہ نبی ﷺکا فرمان ہے کہ ”عورتوں کا گھر ان کے لیے بہتر ہے“۔ یہ فرمان عبادت، مسلمانوں کے ساتھ نماز پڑھنے اور بھلائی کی باتیں سننے کے متعلق ہے، تو پھر اس کے ماسوا کے بارے میں کیا حکم ہو گا؟!

Explanation

This Hadīth indicates that the aunt of Jābir (may Allah be pleased with him) was divorced, and she wanted to collect the harvest of her palm trees during her waiting period. A man prevented her from doing so. Therefore, she asked the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) about it, and he told her that she may go out of her house. As such, an irrevocably divorced woman is not like a widow. In her waiting period, the divorcee may go out whenever she wants, although it is better and more protective that she stays at home. In this respect, the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) said: "Their homes are better for them." This very statement refers to women's practice of worship, their prayer in congregation with the Muslims, and listening to good things. This is even more so applicable to other things of a mundane nature.

Topics موضوعات