خبردار ! کوئی بھی آدمی کسی بیوہ عورت کے پاس رات نہ گزارے، ہاں مگر وہ اس سے نکاح کیا ہو، یا ایسا قریبی رشتہ…
Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- صحیح مسلمSahih MuslimOriginal wording: اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #58172Sahih Muslim (HadeethEnc 58172)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
نبی ﷺ نے آدمی کو کسی اجنبی عورت اور خاص طور پر ثیبہ یعنی شادی شدہ عورت کے پاس رات گزارنے سے منع فرمایا ہے، یہاں پر ثیبہ یعنی شادی شدہ عورت کو خاص کیا ہے، کیونکہ غالباً ایسی عورتوں کے پاس لوگوں کا آنا جانا ہوتا ہے بر خلاف باکرہ عورت کے یعنی غیرشادی شدہ عورت کے، کیونکہ عام طور پر ایسی عورتیں مردوں سے سخت دوری بنائے ہوتی ہیں، اور اس وجہ سے بھی کہ اولویت کی بنیاد پر تعلیم دی ہے، کہ جب ثیبہ عورت کے پاس داخل ہونے سے منع فرمایا تو باکرہ کے پاس جانا بدرجہ اولی منع ہوگا۔ آپ ﷺ نے شوہر کو اس سے مستثنیٰ کیا ہے نیز انہیں بھی جن پر وہ نسب کے ذریعہ حرام ہے جیسے ماں، بیٹی، اور بہن، یا رضاعت کے ذریعہ حرام ہو، جیسے اس کی رضاعی ماں، یا رشتہ مصاہرت کی وجہ سے جیسے اس کی بیوی کی ماں۔
’’لا يَبِيتَنَّ‘‘ رات نہ گزارے، اس قول کا مفہوم مخالف مراد نہیں، کہ دن میں کسی اجنبیہ یا اس کے علاوہ کسی دوسری عورت کے پاس خلوت کرنا جائز ہے، اس کے لیے صحیح بخاری میں نہی عام ہے۔ اس میں رات کی قید نہیں۔
تاہم اگر محرم سے بھی خوف ہو تو ایسی صورت میں اس عورت کے ساتھ دوسری عورتوں کی موجودگی ضروری ہے۔
Explanation
The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) forbids staying the night at the place of a woman whom one is not married to, especially that of a woman who has been previously married, for she is often accessible. Virgins, however, avoid men. If men are forbidden access to non-virgins, who are usually accessible, then they are even more so forbidden access to virgins. The exception here applies to one's wife and one's blood relatives, such as his mother; daughter; sister; relatives through fostering, such the suckling mother; and relatives through marriage, such as one's mother-in-law. "Staying the night" does not mean that a man is allowed to stay in seclusion with a non-Mahram woman during the daytime. According to Sahīh Al-Bukhāri, the interdiction is general and not restricted to the night time. If a Mahram, however, is not trustworthy, a non-Mahram woman must be accompanied by other women.