صحیح مسلم
Sahih Muslim

تم (سالم کو) دودھ پلا دو ، تم اس کے اوپر حرام ہو جاؤ گی اور وہ (کراہت) جو ابو حذیفہ کے دل میں ہے ختم ہو جائے…

Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc

Reference حوالہ
58175Sahih صحیح
عن عائشة رضي الله عنها أن سالما مولى أبي حذيفة كان مع أبي حذيفة وأهله في بيتهم، فأتت -تعني ابنة سُهيل- النبي صلى الله عليه وسلم فقالت: إن سالما قد بلغ ما يبلغ الرجال. وعَقَل ما عقلوا. وإنه يدخل علينا. وإني أظن أن في نفس أبي حذيفة من ذلك شيئا. فقال لها النبي صلى الله عليه وسلم «أَرْضِعِيهِ، تَحْرُمِي عليه، ويذهب الذي في نفس أبي حذيفة» فرجعت فقالت: إني قد أرضعته. فذهب الذي في نفس أبي حذيفة.
عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہتی ہیں کہ سالم مولی ابو حذیفہ، ابو حذیفہ کے ساتھ ان کے گھر میں رہتے تھے اور سہل کی بیٹی رسول اللہ ﷺ کے پاس آئیں اور عرض کیا کہ سالم حدِّ بلوغ کو پہونچ گیا ہے اور مردوں کی باتیں سمجھنے لگا اور وہ ہمارے گھر میں آتا ہے اور میں خیال کرتی ہوں کہ ابو حذیفہ کے دل میں اس سے کراہت ہے ، چنانچہ ان سے نبی ﷺ نے فرمایا کہ تم سالم کو دودھ پلا دو ، تم اس کے اوپر حرام ہو جاؤ گی اور وہ کراہت جو ابو حذیفہ کے دل میں ہے ختم ہو جائے گی، پھر وہ لوٹ کر نبی ﷺ کے پاس آئیں اور کہا کہ انہوں نے اسے دودھ پلا دیا ، چنانچہ ابو حذیفہ کے دل میں جو بات تھی وہ ختم ہو گئی۔
— HadeethEnc اردو ترجمہ
‘Ā’ishah (may Allah be pleased with her) reported that Sālim, the freed slave of Abu Hudhayfah, was with Abu Hudhayfah and his family in their home. Bint Suhayl came to the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) and said: "Sālim has attained puberty, and he now perceives what they perceive, yet he enters our house freely, and I believe that something (troubles) the heart of Abu Hudhayfah." Thereupon the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) said to her: "Suckle him, and you will become unlawful for him (in marriage), and (the discomfort) which Abu Hudhayfah feels in his heart will disappear." She returned and said: "So I suckled him, and what (was there) in the heart of Abu Hudhayfah disappeared."
— HadeethEnc English translation

Reference حوالہ

1Source book اصل کتاب
صحیح مسلمSahih Muslim
Original wording: اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔
2Grade درجہ
Sahih صحیح
Authentic: reliable chain and text
مستند: سند اور متن دونوں درست
Graded by: HadeethEnc scholars
درجہ: HadeethEnc کے علماء
3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadiths
ترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
4Hadith ID نمبر
HadeethEnc #58175

نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.

Explanation تشریح

سہل کی بیٹی سہلہ جو ابو حذیفہ رضی اللہ عنہما کی بیوی تھیں وہ آئیں، ابو حذیفہ کے آزاد کردہ غلام سالم کے بارے میں فتوی پوچھ رہی تھیں، سالم رضی اللہ عنہ جلیل القدر صحابہ کرام میں سے تھے، ابو حذیفہ رضی اللہ عنہ نے انہیں گود لے لیا تھا جس وقت کہ گود لینا جائز تھا یہ واقعہ منسوخ ہونے سے پہلے کا ہے، ابو حذیفہ رضی اللہ عنہ کی گود میں پلے بڑھے اور ان کی بیوی نے لڑکے کی طرح پرورش کی ، چنانچہ جب اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی ﴿ادْعُوهُمْ لِآبَائِهِمْ﴾ یعنی ان کے باپوں کی طرف نسبت کر کے انہیں پکارو، جس کی بنا پر گود لینے کا حکم باطل ہو گیا، اور سالم بچپن کی طرح ان کے یہاں آتے جاتے رہے پھر وہ اسی طرح بدستور ان کے نیز اُن کی بیوی سہلہ کے پاس آیا جایا کرتے تھے اور انہیں دیکھتے تھے، یہاں تک کہ وہ بالغ ہو گئے، جس کی وجہ سے ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ کو نا گوار گزرتا تھا، اور سابقہ الفت کی بنا پر انہیں منع بھی نہیں کر سکتے تھے ،اسی وجہ سے ان دونوں نےنبی ﷺ سے پوچھا، تو آپ ﷺ نےان سے فرمایا کہ تم سالم کو دودھ پلا دو ،تم اس کے اوپر حرام ہو جاؤ گی اور وہ کراہت جو ابو حذیفہ رضی اللہ عنہ کے دل میں ہے ختم ہو جائے گی، چنانچہ انہوں نے کہا کہ اسے دودھ پلا دیا اور ایسا ہی ہوا، یہ حکم خاص تھا ان کے لیے ، لہذا جس کسی نے مدت رضاعت ختم ہونے کے بعد کسی عورت کا دودھ پیا تو وہ اس کی رضاعی ماں نہیں ہوگی جیسا کہ لجنہ دائمہ(سعودی عرب) نے اس کا فتوی دیا ہے۔

Explanation

Sahlah bint Suhayl, the wife of Abu Hudhayfah, sought a legal opinion concerning Sālim, one of the meritorious Companions. Her husband Abu Hudhayfah had adopted Sālim when adoption was still permissible and was not yet abrogated. Sālim grew up under the care of Abu Hudhayfah and his wife like a son to both of them. However, when Allah, the Almighty, revealed: {Call them by [the names of] their fathers}, adoption became forbidden. As long as he was still young, Sālim was entering and exiting the house in which Sahlah lived. He accessed the house freely until he grew up into an adult man, and he would still see Sahlah. Abu Hudhayfah did not like that, but it was difficult for the spouses to deny Sālim access given their amicable relationship with him. Hence, they asked the Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him) about that, to which he said to Sahlah: "Suckle him so that you will be forbidden to him." Thus Abu Hudhayfah's aversion would wear out. Sahlah suckled him, and the matter was settled. It should be noted, however, that this ruling is specific to that case, for anyone who was suckled by a woman after he had been weaned, the sucking woman would not become his foster mother, as the Permanent Committee stated.

Topics موضوعات