سنن ابو داؤد · سنن نسائی · مسند احمد
Sunan Abi Dawud · Sunan an-Nasa'i · Musnad Ahmad

بوجہِ اسلام ماں باپ کے مابین جدائی ہونے کے موقع پر بچے کو اختیار دینے کے بارے میں رافع بن سنان رضی اللہ عنہ…

Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc

Reference حوالہ
58191Sahih صحیح
عن رافع بن سنان أنه أسلَمَ وأَبَتْ امرأتُه أن تُسْلِم، فأتت النبي صلى الله عليه وسلم ، فقالت: ابنتي وهي فَطِيمٌ أو شَبَهُهُ، وقال رافع: ابنتي، قال له النبي صلى الله عليه وسلم : «اقعد ناحية»، وقال لها: «اقعدي ناحية»، قال: «وأقعد الصَبِيَّةَ بينهما»، ثم قال «ادعواها»، فمَالت الصبية إلى أمها، فقال النبي صلى الله عليه وسلم : «اللهم اهدها»، فمالت الصبية إلى أَبيها، فأخذها.
رافع بن سنان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے تو اسلام قبول کر لیا مگر ان کی بیوی نے اسلام قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ ( جس کی وجہ سے ان دونوں کے درمیان علیحدگی ہو گئی )۔ ان کی بیوی نبی کریم ﷺ کے پاس آئی اور کہنے لگی "میری بیٹی نے ابھی ابھی دودھ چھوڑا ہے یا چھوڑنے کے قریب ہے" ۔ جب کہ رافع رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ "بیٹی میری ہے" ۔ نبی کریم ﷺ نے رافع سے کہا " ایک طرف بیٹھ جاؤ " اور اس عورت سے کہا کہ "تم دوسری طرف بیٹھ جاؤ"۔ رافع کہتے ہیں کہ آپ ﷺ نے بچی کو ان دونوں کے درمیان بٹھا دیا اور پھر ان سے فرمایا "تم دونوں اسے بلاؤ" ۔ ( انہوں نے بلایا ) تو بچی اپنی ماں کی طرف جھک گئی۔ نبی ﷺ نے دعا فرمائی کہ "اے اﷲ! اس بچی کو ہدایت دے" ۔ اس پر بچی اپنے باپ کی طرف جھک گئی اور انہوں نے اسے لے لیا۔
— HadeethEnc اردو ترجمہ
Rāfi‘ ibn Sinān (may Allah be pleased with him) reported: I embraced Islam, but my wife refused to do so. She went to the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) and said: "My daughter is weaned or about to be weaned." Rāfi‘ said: "My daughter." The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) said to the man: "Sit down on this side." And he said to the woman: "Sit down on that side." He then seated the girl between them, and said to them: "Call her." The girl went to her mother and the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) said: ‘'O Allah, guide her," and the daughter then went to her father, who took her.
— HadeethEnc English translation

Reference حوالہ

1Source book اصل کتاب
سنن ابو داؤدSunan Abi Dawudسنن نسائیSunan an-Nasa'iمسند احمدMusnad Ahmad
Original wording: اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔
2Grade درجہ
Sahih صحیح
Authentic: reliable chain and text
مستند: سند اور متن دونوں درست
Graded by: HadeethEnc scholars
درجہ: HadeethEnc کے علماء
3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadiths
ترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
4Hadith ID نمبر
HadeethEnc #58191

نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.

Explanation تشریح

حدیث میں اس بات کا بیان ہے کہ نبی ﷺ کے پاس والدین کے مابین بچے کی حضانہ (پرورش سے متعلق نزاع) کا مسئلہ آیا جن میں سے ایک یعنی باپ مسلمان تھا ور دوسرا یعنی ماں کافر تھی۔ اپنی بیٹی کے بارے میں نبی ﷺ کے پاس ان دونوں کے مابین نزاع پیدا ہو گیا۔ نبی ﷺ نے بچی کو ماں باپ کے مابین اختیار دیا تو اس نے ماں کو اختیار کرنا چاہا جو کہ کافر تھی۔ اس پر نبی ﷺ نے دعا فرمائی کہ "اے اللہ! اس بچی کو ہدایت دے"۔ یعنی صحیح کی طرف اس کی راہنمائی فرما۔اللہ تعالی نے اپنے نبی ﷺ کی دعا کو قبول فرما لیا اور اس بچی نے مسلمان باپ کو چن لیا۔
اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ بچے کا کافر کی نگہداشت اور پرورش میں رہنا اللہ تعالیٰ کی رہنمائی کے برخلاف ہے۔ کیونکہ پرورش میں دیے جانے کا مقصد ہی یہ ہوتا ہے کہ بچے کی تربیت ہو اور ہر قسم کے ضرر کو اس سے دور رکھا جائے۔ جب کہ سب سے بڑی تربیت اس کے دین کی حفاظت ہے اور اس کا سب سے بڑا دفاع یہ ہے کہ اس سے کفر کو دور رکھا جائے۔
جب بچہ کافر کی پرورش میں ہوگا تو وہ اسے اس کے دین سے پھیر دے گا اور اسے کفر کی تعلیم و تربیت دے کر اسلام سے نکال دے گا جو کہ سب سے بڑا ضرر ہے ۔ پرورش تو ہوتی ہی بچے کی حفاظت کے لیے ہے چنانچہ اس کی کوئی بھی ایسی صورت جائز نہیں جس میں بچے کی ہلاکت ہو یا اس کے دین کا ضیا ع ہو۔

Explanation

This Hadīth talks about a mother and father who were disputing about the custody of their daughter in the presence of the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him). The father was a Muslim, but the mother was not. They were arguing about their daughter, so the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) got the girl to choose between them. She initially chose her mother. However, as the mother was a disbeliever, the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) prayed that Allah would guide the girl to make the right choice. Allah, the Almighty, answered the Prophet's invocation, and the girl then chose her father.
The benefit of the story is that it is not in accordance with divine guidance for a child to be under the care of a disbelieving parent. Having custody means raising a child and protecting him from damage, and the best upbringing is to keep the child's religion intact and the best means of protection is to keep lack of belief away from him. If a child was raised by a disbelieving parent, he would be tempted by them to give up Islam and they would make him leave by teaching him the principles of disbelief and raising him on them. This is the worst harm that can be done to a child, as having custody is meant to protect a child; it is not allowed to be carried out in a manner that involves the destruction of a child or their religion.

Topics موضوعات