کسی بھی ایسے مسلمان کا خون بہاناجائز نہیں جو یہ گواہی دیتا ہو کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں اور یہ کہ…
Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc
پہلی صورت یہ ہے کہ وہ شادی شدہ ہو اور زنا کا ارتکاب کربیٹھے۔ ایسے شخص کو سنگسار کیا جائے گا۔
دوسری صورت یہ ہے کہ وہ اللہ اور اس کے رسول سے بغاوت کرے۔ (اس جرم کی پاداش میں) اسے قتل کیا جائے گایا سولی پر چڑھایا جائے گا یا اسے جلاوطن کردیا جائے گا۔
تیسری صورت یہ ہے کہ وہ کسی کو قتل کردے تو اسے بھی (قصاصاً) قتل کر دیا جائے گا۔
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- سنن ابو داؤدSunan Abi Dawudسنن نسائیSunan an-Nasa'iOriginal wording: اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #58194Sunan Abi Dawud & Sunan an-Nasa'i (HadeethEnc 58194)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
حدیث میں اُن مسلمانوں کے خون کی حرمت کا اشارہ ہے جو اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں اور جن سے نواقضِ اسلام میں سے کسی بھی ایسی بات کا ظہور نہیں ہوتا جو شہادتین کے برخلاف ہو۔ کیونکہ شارع حکیم (اللہ تعالی) نے جان کے تحفظ کو بہت اہمیت دی ہے اور اپنی شریعت کو اس کا پاسبان اور محافظ بنایا ہے اور اُس نے شرک باللہ کے بعد کسی بھی ایسی جان کے قتل کو سب سے بڑا گناہ قرار دیا ہے جسے قتل کرنا اللہ تعالیٰ نے حرام ٹھہرایا ہو ۔ اس حدیث میں شارع نے ہر اس مسلمان کے قتل کو حرام قرار دیا جو شہادتین کا اقرار کرتا ہو سوائے اس کے کہ وہ تین میں سے کسی ایک با ت کا مرتکب ہو:
اول: وہ زنا کرے جب کہ اللہ تعالیٰ نے اسے شادی کی نعمت سے نوازا ہو اور صحیح نکاح کے ذریعے اس کی شرمگاہ کو عفت بخشی ہو۔
دوم: زیادتی اور ظلم کا ارتکاب کرتے ہوئے وہ کسی معصوم جان پر دست دراز ہو کر اسے قتل کر دے۔ ایسے شخص کے حق میں عدل و مساوات کا تقاضا یہی ہے کہ اس کے ساتھ بھی وہی کچھ ہو جو اس نے کیا تاکہ حق قائم ہو اور ظالم لوگوں کو سرکشی سے باز رکھا جا سکے۔
سوم: جو اللہ اور اس کے رسول سے بغاوت کرتے ہوئے مسلمانوں کے خلاف لڑنے کے لیے نکل پڑے بایں طور کہ ان پر ڈاکہ زنی کرے، انہیں دہشت زدہ کرے، ان کا مال ان سے چھینے اور ان میں فساد برپا کرے۔اس طرح کے شخص کو یا تو قتل کر دیا جائے گا یا سولی پرچڑھا دیا جائے گا یا پھر جلا وطن کر دیا جائے گا تا کہ لوگ اس کے شر اور ظلم و زیادتی سے نجات پا سکیں۔
یہ وہ تین لوگ ہیں جنہیں قتل کر دیا جائے گا کیونکہ ان کے قتل کرنے میں دین و جان اور عزت و ناموس کی سلامتی ہے۔
Explanation
This Hadīth highlights the inviolability of the blood of Muslims who testify that there is no god but Allah and that Muhammad is His messenger and do not do any of the acts that constitute a violation of the testimonies of Islam. The Wise Lawgiver advocated the safeguarding and protection of lives. Thus, He made such protection and safeguarding part of His legislation. Also, He declared that the gravest sin after polytheism is the killing of a soul which Allah has forbidden to kill. Hence, it is forbidden to kill a Muslim who affirm the two testimonies unless he commits one of three things:
1. Commit unlawful sexual intercourse after Allah has bestowed chastity upon him by virtue of a valid marriage.
2. Kill someone whose life is protected by the Shariah, out of injustice and aggression. Justice requires that the killer is to be killed in order to deter the transgressors from their aggression.
3. Disassociate himself from the Muslim community and go out in rebellion against Allah and His Messenger by committing highway robbery, scaring people, and spreading corruption on earth. The perpetrator is to be killed, crucified, or exiled so that the people become safe from his evil and transgression.
These three categories of people are to be killed, for killing them maintains safety of the religion, lives, and honor.