صحیح بخاری · مسند احمد · صحیح ابن حبان
Sahih al-Bukhari · Musnad Ahmad · Sahih Ibn Hibban

اللہ کے نزدیک سب سے سرکش وہ ہے, جواللہ کے حرم کے اندر قتل کرے, یا جو اپنے قاتل کے سوا کسی اور کو قتل کرے یا…

Hasan (حسن) · Urdu & English translation by HadeethEnc

Reference حوالہ
58209Hasan حسن
عن عمرو بن شعيب، عن أبيه، عن جده، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم :"إن أعتى الناس على الله ثلاثة: من قَتَلَ فِي حَرَمِ اللهِ، أَوْ قَتَلَ غَيْرَ قَاتِلِهِ، أَوْ قَتَلَ بِذُحُولِ الجاهلية".
عمرو بن شعیب اپنے والد کے حوالے سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "اللہ کے نزدیک سب سے سرکش وہ ہے, جواللہ کے حرم کے اندر قتل کرے, یا جو اپنے قاتل کے سوا کسی اور کو قتل کرے یا جو زمانۂ جاہلیت کی عداوت وانتقام کی بنا پر قتل کرے"۔
— HadeethEnc اردو ترجمہ
‘Amr ibn Shu‘ayb reported from his father, who reported from his grandfather: The most rebellious of people against Allah, Exalted and Glorified, is someone who kills another in the sacred precincts of Allah; kills someone other than his killer; or someone kills someone out of a pre-Islamic animosity.
— HadeethEnc English translation

Reference حوالہ

1Source book اصل کتاب
صحیح بخاریSahih al-Bukhariمسند احمدMusnad Ahmadصحیح ابن حبانSahih Ibn Hibban
Original wording: اسے ابنِ حبان نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔
2Grade درجہ
Hasan حسن
Good: acceptable, slightly below Sahih
قابلِ قبول: صحیح سے کچھ کم درجہ
Graded by: HadeethEnc scholars
درجہ: HadeethEnc کے علماء
3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadiths
ترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
4Hadith ID نمبر
HadeethEnc #58209

نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.

Explanation تشریح

عبد اللہ بن عمرو بتا رہے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان کیا ہے کہ قتل کے معاملے میں اللہ کے نزدیک سب سے سرکش لوگ تین ہیں:
پہلا وہ جس نے اللہ کے پر امن حرم یعنی مکہ کے اندر کسی کو ناحق قتل کر دیا۔ کیونکہ کسی کو ناحق قتل کرنا شرک کے بعد سب سے بڑا گناہ ہے اور قتل کی واردات جب حرم کے اندر ہو، تو اس کی حرمت اور گناہ اور بڑھ جاتا ہے۔ کیونکہ اللہ تعالی کا ارشاد ہے : {ومن يُرِدْ فيه بإلحاد بظلم نُذِقْهُ من عذاب أليم } [الحج، آیت نمبر:25] یعنی جو بھی وہاں ظلم کے ساتھ الحاد کا ارادہ کرے گا، ہم اسے درد ناک عذاب چکھائیں گے۔
ساتھ ہی، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی صحیح حدیث میں ہے : "بے شک تمھارا خون، تمھاری عزت و آبرو اور تمھارے اموال تمھارے لیے اسی طرح قابل احترام ہیں، جس طرح تمھارے اس شہر میں تمھارا یہ مہینہ قابل احترام ہے"۔ [اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔ حدیث نمبر : 1218]
دوسرا وہ آدمی، جو اپنے قاتل کے علاوہ کسی اور کو قتل کر دے۔ اللہ تعالی کا ارشاد ہے : {ولا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أخرى} [الأنعام: 164] یعنی کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔
اس کی صورت یہ ہو سکتی ہے کہ آدمی اپنے قاتل کو علاوہ کسی اور کا قتل کر دے یا اس کے ساتھ کسی اور کو بھی مار دے۔
دراصل ان تین وجوہات کی بنا پر کسی کا خون بہا دینا دور جاہلیت کی عادت تھی، جس سے اللہ نے منع کیا ہے۔
تیسرا وہ آدمی، جو دور جاہلیت کی عداوتوں اور انتقاموں کی وجہ سے، جن کو اسلام نے کالعدم قرار دے دیا ہے، قتل کرے۔
لیکن علما نے دو لوگوں کو اس سے مستثنی قرار دیا ہے۔ ایک وہ شخص جو اپنے بچاو میں کسی کا قتل کر دے، جب قتل کے علاوہ کوئی صورت نہ بچی ہو اور دوسرا وہ شخص جو حرم کے اندر کوئی جرم کرے، جس سے اس کا قتل مباح ہو جائے، جیسے قتل عمد وغیرہ۔ ایسا اس لیے، تاکہ حرم جرائم کا ذریعہ نہ بن جائے۔

Explanation

‘Abdullāh ibn ‘Amr (may Allah be pleased with him) said that the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) had said that the most rebellious and tyrannical in the sight of Allah, as far as murder is concerned, are three people:

1. Someone who kills someone else whose blood is inviolable under the Shariah in the safe sanctuary of Allah; Makkah. A forbidden killing is the gravest sin after polytheism, and it is more forbidden and sinful when it is committed in the sanctuary of Allah. In this respect, Allah, the Almighty, says: {Whoever intends [a deed] therein of deviation [in religion] or wrongdoing – We will make him taste of a painful punishment} [Sūrat al-Hajj: 25]. In an authentic Hadīth, the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) said: ''Your blood, honor, and properties are as inviolable to you as this month of yours in this country of yours.'' [Muslim: 1218]

2. Someone who kills someone other than his killer (the person who committed the murder). Allah, the Almighty, says: {No bearer of burdens can bear the burden of another} [Sūrat al-An‘ām: 164]. That is to kill someone other than his killer or to kill, along with his killer, someone else. Excessive murder was a pre-Islamic tradition, that Allah has forbidden.

3. Someone who kills due to the pre-Islamic animosities and feuds that Islam revoked. Exceptions, however, are someone who kills another while defending himself and not for any other reason. Also, killing someone who commits a crime that legalizes killing him, such as deliberate murder in the sanctuary, so the sanctuary does not provide a safe place for people to commit crimes.

Topics موضوعات