Hadith 58212
Sunan Abi Dawud · Sunan an-Nasa'i · Sunan Ibn Majah سنن ابو داؤد · سنن نسائی · سنن ابن ماجہ

جس نے طبیب ہونے کا دعوی کیا حالانکہ وہ طب کے بارے میں کچھ نہ جانتا تھا تو وہ (نقصان کی صورت میں) تاوان بھرے…

58212Hasan حسن
عن عبد الله بن عمرو رضي الله عنهما قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «مَنْ تَطَبَّبَ، ولا يُعْلَمُ مِنْهُ طِبٌّ، فهو ضامِنٌ»
عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نےفرمایا: ”جس نے طبیب ہونے کا دعوی کیا حالانکہ وہ طب کے بارے میں کچھ نہیں جانتا تو وہ (نقصان کی صورت میں) تاوان بھرے گا“۔
— HadeethEnc اردو ترجمہ
‘Abdullāh ibn ‘Amr (may Allah be pleased with him) reported that the Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him) said: "Anyone who practices medicine although he is not known to have learned medicine is liable (to compensate any damage)."
— HadeethEnc English translation

Reference حوالہ

1Source book اصل کتاب
سنن ابو داؤدSunan Abi Dawudسنن نسائیSunan an-Nasa'iسنن ابن ماجہSunan Ibn Majah
Original wording: اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔
2Grade درجہ
Hasan حسن
Good: acceptable, slightly below Sahih
قابلِ قبول: صحیح سے کچھ کم درجہ
Graded by: HadeethEnc scholars
درجہ: HadeethEnc کے علماء
3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadiths
ترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
4Hadith ID نمبر
HadeethEnc #58212

نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.

Explanation تشریح

جو شخص علمِ طب رکھنے کادعوی کرے حالانکہ وہ اس سے بالکل بھی واقف نہ ہو اور نہ ہی اسے اچھی طرح سرانجام دے سکتا ہو اور یوں وہ لوگوں کو دھوکا دیتے ہوئے ان کا علاج کرے اور اپنے علاج کی وجہ سے وہ کسی کی جان لے لے یا پھر کسی عضو وغیرہ کو تلف کر دے تو وہ تاوان بھرے گا کیونکہ اس نے زیادتی کی بایں طور کہ لوگوں کو دھوکا دیا اور اپنے آپ کو ایسے کام پر آمادہ جسے وہ جانتا ہی نہیں تھا۔
اس میں کوئی اختلاف نہیں پایا جاتا کہ علاج کرنے والا جب زیادتی کا مرتکب ہو اور مریض کی جان لے لے تو اس صورت میں وہ تاوان بھرے گا۔ یہی حکم اس شخص کا بھی ہے جو کسی بھی ایسے علم و عمل میں منہمک ہوتا ہے جس کی وہ کچھ بھی شُدْ بُدْ نہیں رکھتا۔ یہ شخص بھی زیادتی کرنے والا ہے اور اگر اس کے اس فعل سے کچھ تلف ہو گیا تو وہ دیت کا ضامن ہو گا تاہم اس پر قصاص نہیں آئے گا کیونکہ اس نے مریض کی اجازت کے بغیر ایسا نہیں کیا۔

Explanation

Anyone who claims to know medicine while he has neither knowledge nor experience in it and thus deludes people into receiving his treatment is responsible for the damages that he causes to them. In this respect, he has transgressed by cheating people and practicing something that he did not master.
No difference is reported on the fact that if someone treats another and commits a transgression in the treatment process whereby the sick person who receives treatment is damaged, the treating person is responsible for the damage. The same thing applies to anyone who practices a science or a job of which he has no knowledge; he is a transgressor. If damage results from his practice, he is required to pay blood money for it. However, no retribution is to be inflicted on him, for he handled the sick person with his permission.

Topics موضوعات