قتل شبہِ عمد کی دیت بھی اتنی ہی سخت ہے جتنی قتلِ عمد کی ہے تاہم قتلِ شبہ عمد کے مرتکب کو قتل نہیں کیا جائے گا…
Hasan (حسن) · Urdu & English translation by HadeethEnc
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- سنن ابو داؤدSunan Abi Dawudمسند احمدMusnad AhmadOriginal wording: اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔
- 2Grade درجہ
- Hasan حسنGood: acceptable, slightly below Sahihقابلِ قبول: صحیح سے کچھ کم درجہGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #58215Sunan Abi Dawud & Musnad Ahmad (HadeethEnc 58215)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
اس حدیث میں اس بات کا بیان ہے کہ قتلِ شبہ عمد کی دیت بھی اتنی ہی سخت ہے جتنی قتلِ عمد کی ہے۔ قتلِ شبہ عمد یہ ہے کہ قاتل کسی ایسی شے سے مارے جس سے عام طور پر آدمی مرتا نہیں ہے جیسے لاٹھی ۔ اس دیت کی مقدار سو اونٹ ہیں جن میں تیس جذعہ ہوں گی، جذعہ سے مراد وہ اونٹنی ہے جو چار سال کی ہو اور پانچویں سال میں داخل ہو چکی ہو، تیس حقہ ہوں گی، حقہ سے مراد وہ اونٹنی ہے جو تین سال کی ہو اور چوتھے سال میں داخل ہو چکی ہو اور چالیس خلفہ یعنی حاملہ اونٹنیاں ہوں گی۔ قتلِ شبہ عمد عموماً بنا کسی دشمنی و عداوت اور بغیر اسلحہ اٹھائے ہوتا ہے۔شیطان اپنے وسوسوں کے ذریعے بسا اوقات لوگوں کے مابین ہنسی مذاق ہی میں لڑائی کرا دیتا ہے جس سے باہم مار پیٹ اور قتل واقع ہو جاتا ہے جس کا ارادہ بھی نہیں ہوتا اور یوں لوگوں کے مابین خوں ریزی ہو جاتی ہے۔
Explanation
This Hadīth shows that the blood money for the semi-intentional killing – which results from hitting with something that generally does not kill such as a stick – is as binding as the blood money for intentional killing. Its amount is one hundred camels; thirty of which should have completed four years of age and started the fifth, thirty should have completed three years of age and started the fourth, and forty should be pregnant she-camels. Mostly, semi-intentional killing is not caused by animosity or the carrying of weapons. Rather, the devil might whisper to people to attack each other because of joking or playing. So, they engage in fighting, leading to unintentional killing and thus blood is shed and payment of blood money becomes obligatory.