صحیح بخاری
Sahih al-Bukhari

تم لوگ اللہ کے عذاب کے ذریعے عذاب مت دو

Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc

Reference حوالہ
58227Sahih صحیح
عَنْ عِكْرِمَةَ: أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حَرَّقَ قَوْمًا، فَبَلَغَ ابْنَ عَبَّاسٍ فَقَالَ: لَوْ كُنْتُ أَنَا لَمْ أُحَرِّقْهُمْ لِأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لاَ تُعَذِّبُوا بِعَذَابِ اللَّهِ»، وَلَقَتَلْتُهُمْ كَمَا قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ بَدَّلَ دِينَهُ فَاقْتُلُوهُ».
عکرمہ سے روایت ہے: علی رضی اللہ عنہ نے کچھ لوگوں کو جلا دیا۔ جب عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو اس کی اطلاع ملی، تو فرمایا: اگر میں ہوتا، تو ان کو نہ جلاتا، کیونکہ اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا: "تم لوگ اللہ کے عذاب کے ذریعے عذاب مت دو"، بلکہ میں ان کو قتل کر دیتا، جیسا کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: "جو اپنا دین بدل لے، اسے قتل کر دو"۔
— HadeethEnc اردو ترجمہ
‘Ikrimah reported: ‘Ali (may Allah be pleased with him) burned some people, and this news reached Ibn ‘Abbās, who said: Had I been in his place, I would not have burned them, as the Prophet (ﷺ) said: "Do not punish (anybody) with Allah's punishment." No doubt, I would have killed them, for the Prophet (ﷺ) said: "Whoever changes his religion, kill him."
— HadeethEnc English translation

Reference حوالہ

1Source book اصل کتاب
صحیح بخاریSahih al-Bukhari
Original wording: رواه البخاري
2Grade درجہ
Sahih صحیح
Authentic: reliable chain and text
مستند: سند اور متن دونوں درست
Graded by: HadeethEnc scholars
درجہ: HadeethEnc کے علماء
3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadiths
ترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
4Hadith ID نمبر
HadeethEnc #58227

نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.

Explanation تشریح

علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے اجتہاد کرتے ہوئے اسلام سے مرتد ہونے والے کچھ زندیقوں کو آگ میں جلا دیا، جب اس کی اطلاع عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو ملی تو انہوں نے ان کے قتل کی تائید کی، لیکن آگ میں جلانے کا انکار کیا۔ اور فرمایا: اگر میں ان کی جگہ ہوتا، تو انہیں آگ سے نہ جلاتا؛ کیونکہ آپ ﷺ نے یہ بات واضح فرمایا کہ آگ کی سزا تو صرف اللہ ہی دیتا ہے، جو آگ کا رب ہے۔ بلکہ انہیں قتل کر دینا ہی کافی ہے، جیسا کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: جو اسلام سے مرتد ہو جائے اور اپنا دین بدل کر کوئی دوسرا دین اختیار کر لے، اسے قتل کر دو۔

حدیث کے فوائد

  • اہل علم کا اجماع ہے کہ دین اسلام سے مرتد ہونے والے کا قتل اپنی شرطوں کے ساتھ واجب ہے، یہ کام صرف امام اور حاکم ہی کرے گا۔
  • آپ ﷺ کا ارشاد ہے: ’’جو اپنے دین سے پھر جائے اسے قتل کردو۔‘‘ یعنی جو اسلام سے مرتد ہو جائے، یہ حکم مردوں اور عورتوں سب کے لیے عام ہے۔
  • مرتد کو اس کے ارتداد پر برقرار نہیں رکھا جائے گا، بلکہ اسے اسلام کی دعوت دی جائے گی، اور اگر وہ قبول نہ کرے تو اسے قتل کردیا جائے گا۔
  • اس حدیث میں آگ سے عذاب دینے کی ممانعت آئی ہے اور یہ کہ حدود آگ کے ذریعے قائم نہیں کی جا سکتیں۔
  • ابن عباس رضی اللہ عنہما کی فضیلت، اور احادیثِ رسول ﷺ کے بارے میں ان کے علم و فقہ کی وسعت۔
  • مخالف پر انکار کرنے کے آداب۔

Explanation

‘Ali ibn Abi Tālib (may Allah be pleased with him) exercised his judgment and burned with fire a group of heretics who had apostatized from Islam. When this reached ‘Abdullah ibn ‘Abbās (may Allah be pleased with him and his father), he agreed with him on killing them but disapproved of burning them with fire. And he said: If I were in his place, I would not have burned them with fire, for the Prophet (ﷺ) made clear that no one punishes with fire except Allah, the Lord of the fire. It is sufficient to kill them, for the Prophet (ﷺ) said: Whoever apostatizes from Islam and changes his religion to another, kill him.

Topics موضوعات