تم لوگ اللہ کے عذاب کے ذریعے عذاب مت دو
Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- صحیح بخاریSahih al-BukhariOriginal wording: رواه البخاري
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #58227Sahih al-Bukhari (HadeethEnc 58227)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے اجتہاد کرتے ہوئے اسلام سے مرتد ہونے والے کچھ زندیقوں کو آگ میں جلا دیا، جب اس کی اطلاع عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو ملی تو انہوں نے ان کے قتل کی تائید کی، لیکن آگ میں جلانے کا انکار کیا۔ اور فرمایا: اگر میں ان کی جگہ ہوتا، تو انہیں آگ سے نہ جلاتا؛ کیونکہ آپ ﷺ نے یہ بات واضح فرمایا کہ آگ کی سزا تو صرف اللہ ہی دیتا ہے، جو آگ کا رب ہے۔ بلکہ انہیں قتل کر دینا ہی کافی ہے، جیسا کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: جو اسلام سے مرتد ہو جائے اور اپنا دین بدل کر کوئی دوسرا دین اختیار کر لے، اسے قتل کر دو۔
حدیث کے فوائد
- اہل علم کا اجماع ہے کہ دین اسلام سے مرتد ہونے والے کا قتل اپنی شرطوں کے ساتھ واجب ہے، یہ کام صرف امام اور حاکم ہی کرے گا۔
- آپ ﷺ کا ارشاد ہے: ’’جو اپنے دین سے پھر جائے اسے قتل کردو۔‘‘ یعنی جو اسلام سے مرتد ہو جائے، یہ حکم مردوں اور عورتوں سب کے لیے عام ہے۔
- مرتد کو اس کے ارتداد پر برقرار نہیں رکھا جائے گا، بلکہ اسے اسلام کی دعوت دی جائے گی، اور اگر وہ قبول نہ کرے تو اسے قتل کردیا جائے گا۔
- اس حدیث میں آگ سے عذاب دینے کی ممانعت آئی ہے اور یہ کہ حدود آگ کے ذریعے قائم نہیں کی جا سکتیں۔
- ابن عباس رضی اللہ عنہما کی فضیلت، اور احادیثِ رسول ﷺ کے بارے میں ان کے علم و فقہ کی وسعت۔
- مخالف پر انکار کرنے کے آداب۔
Explanation
‘Ali ibn Abi Tālib (may Allah be pleased with him) exercised his judgment and burned with fire a group of heretics who had apostatized from Islam. When this reached ‘Abdullah ibn ‘Abbās (may Allah be pleased with him and his father), he agreed with him on killing them but disapproved of burning them with fire. And he said: If I were in his place, I would not have burned them with fire, for the Prophet (ﷺ) made clear that no one punishes with fire except Allah, the Lord of the fire. It is sufficient to kill them, for the Prophet (ﷺ) said: Whoever apostatizes from Islam and changes his religion to another, kill him.