جس مسلمان کے پاس کوئی ایسی شے ہو، جس کے بارے میں وصیت کرنا چاہے، اسے یہ زیب نہیں کہ دو راتیں بھی گزارے، مگر…
زاد مسلم: قال ابن عمر: «ما مرت علي ليلة منذ سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول ذلك، إلا وعندي وصيتي».
مسلم شریف کی حدیث میں یہ الفاظ زائد ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں نے جب سے رسول اللہ ﷺ کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے، تب سے کوئی رات ایسی نہیں گزری کہ میرے پاس میری وصیت موجود نہ ہو۔
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- صحیح بخاریSahih al-Bukhariصحیح مسلمSahih MuslimOriginal wording: متفق علیہ
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #5831Sahih al-Bukhari & Sahih Muslim (HadeethEnc 5831)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
یہ بات درست، ٹھیک اور تقاضائے احتیاط کے مطابق نہیں ہے کہ جس شخص کے پاس کوئی ایسی شے ہو، جس کے بارے میں وہ وصیت کرنا چاہتا ہواور جس کی وہ وضاحت کرنا چاہتا ہو کہ وہ اس میں لاپرواہی برتے، یہاں تک کہ لمبی مدت گزر جائے۔ بلکہ اسے چاہیےکہ وہ فورا اسے لکھ لے اور اسے واضح کر دے۔ زیادہ سے زیادہ مدت جس کی چھوٹ دی جا سکتی ہے، ایک یا دو راتیں ہیں۔
اسی وجہ سے ابن عمر رضی اللہ عنہما اس نبوی نصیحت کو سننے کے بعد رسول اللہ ﷺ کے حکم کی پیروی اور بیان حق کے لیس ہر رات اپنی وصیت کو خیال سے رکھا کرتے تھے۔ پھر وصیت کی دو قسمیں ہیں: اول: مستحب، یہ ایسی وصیت ہے، جو نفلی اور اللہ سےقریب کرنے والی چیزوں کے سلسلے میں کی جاۓ۔ دوم: واجب، یہ ایسی وصیت ہے، جو ایسے واجب حقوق کے سلسلے میں کی جاۓ، جن کے بارے میں اس کی وفات کے بعد کوئی دلیل نہ رہے۔ کیوں کہ "جس کام کے بغیر واجب کام پورا نہ ہو، وہ بھی واجب ہے"۔ اور ابن دقیق العید بیان فرماتے ہیں کہ یہ حدیث واجب قسم پر ہی محمول ہے۔
Explanation
The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) informed that a Muslim who has any rights or properties to bequeath, even if small, should not spend three nights without having his will written and ready with him. ‘Abdullah ibn ‘Umar (may Allah be pleased with him and his father) said: I have not spent a single night since I heard the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) say that without having my will ready with me.