کسی بندے کا مال اللہ کی راہ میں خرچ کرنے سے کم نہیں ہوتا۔ جس شخص پر ظلم کیا جائے اور وہ اس ظلم و زیادتی پر…
Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- جامع ترمذیJami' at-TirmidhiOriginal wording: اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #5833Jami' at-Tirmidhi (HadeethEnc 5833)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
نبی ﷺ نے تین خصلتوں پر قسم اٹھائی اور صحابہ کرام کو ایک اور بات بھی بتائی۔ وہ تین خصلتیں یہ ہیں:
1۔ بندے کا مال صدقہ دینے سے کم نہیں ہوتا۔ یعنی صدقہ دینے کی وجہ سے اس کی برکت میں کمی نہیں ہوتی۔
2۔ جب کسی بندے پر ظلم کیا جائے اور وہ اس پر صبر کرے، تو اللہ تعالی اس کی عزت میں اضافہ کرتا ہے۔ اگر اس ظلم میںک چھ بے عزتی بھی شامل ہو تو اللہ تعالی اسے عزت بخشتا ہے اور ظالم کو ذلیل کرتا ہے۔
3۔ جب کوئی شخص بلا ضرورت لوگوں سے، صرف مال و دولت میں اضافے کے لیے مانگنا شروع کردیتا ہے، تو اللہ تعالی اسے فقر و فاقہ میں مبتلا کر دیتا ہے۔ اس کے لیے کسی اور ضرورت کا دروازہ کھول دیتا ہے یا اس سے کوئی نعمت چھین لیتا ہے۔
پھر آپ ﷺ نے بتایا کہ دنیا چار قسم کے لوگوں کے لیے ہے:
1- وہ جسے اللہ تعالی نے مال اور علم دونوں عطا کیا ہے، پس وہ شخص صحیح جگہ اس مال کو خرچ کرنے میں احتیاط کرتا ہے، اپنے علم پر عمل پیرا ہوتا ہے اور اپنے رشتہ داروں کے ساتھ صلح رحمی کرتا ہے۔ یہ شخص سب سے بلند مرتبہ والا ہے۔
2- وہ بدہ جسے اللہ تعالی نے علم تو عطا کیا ہے لیکن مال عطا نہیں کیا، وہ اپنی نیت میں سچا ہے وہ یہ کہتا ہے کہ اگر میرے پاس بھی مال ہوتا تو میں اس پہلي آدمی کی طرح اسے خرچ کرتا، پس وہ اپنی تیت کے مطابق ہی ہوگا، پہلا اور دوسرا شخص اجر وثواب میں برابر ہیں۔
3- تیسرا وہ شخص ہے جسے اللہ تعالی نے مال تو عطا کیا ہے لیکن علم نہیں دیا، پس وہ مال کے معاملہ میں بغیر علم کے بھٹک جاتا ہے، اس مال کے سلسلہ میں اپنے رب سے ڈرتا نہیں، نہ صلہ رحمی کرتا ہے اور نہ ہی اللہ تعالی کا کوئی حق وہ جانا ہے، یہ شخص سب سے بدترین مرتبہ کا ہے۔
4- چوتھا آدمی وہ ہے جسے اللہ تعالی نے نہ ہی مال عطا کیا ہے اور نہ ہی اسے علم سے نوازا ہے، وہ کہتا ہے کہ اگر میرے پاس مال ہوتا تو میں تیسرے شخص کی طرح اسے خرچ کرتا، پس وہ اپنی نیت کے مطابق ہے اور ان دونوں (تیسرے اور چوتھے شخص) کا گناہ برابر ہے۔
Explanation
The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) swore by Allah for three things and he told them something else after that. The three things are as follows:
1. The wealth of a man will not diminish by charity; that its blessings due to the charity.
2. Allah augments the honor of a man who endures an oppression patiently; that is oppression that involves some sort of humiliation; Allah the Almighty will honor him on account of such oppression and humiliate the oppressor.
3. and he who opens a gate of begging, not forced by some need or necessity, but to enrich himself, Allah opens a gate of another need or takes away the blessing he possesses. Then, he stated that there are four types of people:
1. One whom Allah gives wealth and knowledge, and he fears his Lord and spends the wealth in the proper way, acts upon his knowledge, and maintains ties of kinship. Such a person will be in the highest rank. 2. One whom Allah gives knowledge, but not wealth. With a sincere intention, he says: "Had I possessed wealth, I would have acted like so-and-so." He will be treated according to his intention, and his reward is the same as that of the other. 3. One whom Allah has given wealth but no knowledge and he squanders his wealth ignorantly, does not fear Allah in respect to it, does not discharge the obligations of kinship, and does not acknowledge the rights of Allah. Such a person will be in the worst position. 4. One upon whom Allah gives neither wealth nor knowledge and he says: "Had I possessed wealth, I would have acted like so-and-so." He will be treated according to his intention, and both will have equal sin.