رسول اللہ ﷺ نے منابذہ کی بیع سے منع فرمایا تھا۔ اس کا طریقہ یہ تھا کہ ایک آدمی بیچنے کے لیے اپنا کپڑا دوسرے…
Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- صحیح بخاریSahih al-Bukhariصحیح مسلمSahih MuslimOriginal wording: متفق علیہ
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #5850Sahih al-Bukhari & Sahih Muslim (HadeethEnc 5850)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
نبی ﷺ نے بیع غرر (دھوکے کی بیع) سے منع فرمایا کیونکہ اس سے دونوں فریقین عقد میں سے کسی ایک کو نقصان ہوتا ہے بایں طور کہ خرید و فروخت میں اسے دھوکا ہو جاتا ہے۔جیسے اگر سامان تجارت فروخت کنندہ یا خریدار یا دونوں کے لئے مجہول ہو۔ اس کی ایک صورت بیعِ منابذہ بھی ہے بایں طور کہ فروخت کنندہ مثلا کپڑے کو خریدار کی طرف پھینک دے یعنی اسے دیکھ لینے یا الٹ پلٹ کر جانچ لینے سے پہلے ہی وہ اس کی بیع پکی کر لیں۔اس کی ایک مثال بیعِ ملامسہ بھی ہے جس کی صورت یہ ہے کہ خریدار وفروخت کنندہ کے مابین کپڑے کو دیکھ لینے یا الٹ پلٹ کر جانچ لینے سے پہلےمحض اسے چھو لینے سے عقد بیع ہو جائے۔ یہ دونوں عقد، معقود علیہ کے سلسلے میں جہالت اور دھوکہ دہی کا سبب بنتے ہیں۔ چنانچہ دونوں فریقین میں سے ایک خطرے میں ہوتا ہے، یا تو وہ فائدے میں رہتا ہے یا پھر نقصان اٹھاتا ہےاور اپنے اس عمل کی وجہ سے بائع اور مشتری جوے بازی کے حدود میں داخل ہو جاتے ہیں جو کہ ممنوع ہے۔
Explanation
The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) forbade any sale that involves Gharar (uncertainty, risk), because of the harm it may incur to one of the contracting parties through a possible injustice in its sale. This can occur when the condition of the item is unknown to the seller, the buyer, or both of them. It can occur in Munābadhah, where the seller throws a garment, for example, to the buyer thereby concluding the sale before the garment has been examined closely or turned over. Likewise in Mulāmasah, which is making a sale effective upon touching a garment, for example, before examining it closely or turning it over. These two contracts lead to uncertainty and deceit regarding the commodity being sold and bought. Either the seller or the buyer is at risk of gaining or losing, thereby engaging in “gambling”, which is prohibited.