اے الله! میں عاجزی، سُستی، بخیلی، بڑھاپے اور عذابِ قبر سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔
Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- صحیح مسلمSahih MuslimOriginal wording: اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #5878Sahih Muslim (HadeethEnc 5878)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
پناہ مانگنا قلبی عبادات میں سے ہے جس کو صرف اللہ تعالی ہی کے لیے خاص کرنا ہے۔ عاجزی اور سستی دونوں ساتھی ہیں اور بھائی بھائی ہیں جو دنیا اور آخرت کی بھلائی کی راہ مسدود کردیتے ہیں۔ یہ دونوں عجز، کاہلی، اور لاپرواہی کا شاخسانہ ہوتے ہیں۔ اگر رکاوٹ خود بندے کی پیدا کردہ ہو تو اسے "کسل" (سستی) کہا جاتا ہے۔
اگر کام میں رکاوٹ بندے کی طرف سے پیدا نہ کی گئی ہو بلکہ یہ اس وجہ سے ہو کہ اس میں اس کے کرنے کی طاقت نہیں ہے تو اسے عاجزی کہا جاتا ہے۔
بخل کا معنی ہے مال کو روکے رکھنا اور اسے نیکی کے کاموں اور نفع بخش مصارف میں خرچ کرنے میں تنگدلی برتنا۔ نفس میں مال کی محبت اور اس کو جمع کرنے کی چاہت ہوتی ہے اور وہ چاہتا ہے کہ اسے اکٹھا کرے اور ان مصارف میں اسے خرچ نہ کرے جن میں خرچ کرنے کا اللہ تعالی نے حکم دیا ہے۔
" هرِم " کا معنی یہ ہے کہ انسان لاچاری و مجبوری کی عمر تک جا پہنچے اور اتنا بوڑھا ہو جائے کہ اس کی طاقت ختم ہوجائے، عقل سٹھیا جائے اور ہمت جواب دے جائے۔ پھر نہ تو وہ دنیا کی کسی بھلائی کو حاصل کر سکے او نہ ہی آخرت کی بھلائی کو۔ اللہ تعالی فرماتے ہیں ﴿وَمَن نُّعَمِّرْهُ نُنَكِّسْهُ فِي الْخَلْقِ﴾ ”اور جسے ہم بوڑھا کرتے ہیں اسے پیدائشی حالت کی طرف پھر الٹ دیتے ہیں“۔
عذاب قبر برحق ہے، اس پر اہل سنت و جماعت کا اجماع ہے۔ اللہ تعالی فرماتا ہے ﴿وَمِن وَرَائِهِم بَرْزَخٌ إِلَىٰ يَوْمِ يُبْعَثُونَ﴾ ”ان کے پس پشت تو ایک حجاب ہے، ان کے دوباره جی اٹھنے کے دن تک“۔ قبر یا تو جنت کے باغات میں سے ایک باغیچہ ہو گی یا پھر جہنم کے گڑھوں میں سے ایک گڑھا۔ اسی لیے بندے کے لیے مشروع کیا کہ وہ ہر نماز میں قبر کے عذاب سے اور اس کی خوفناکی اور شدت سے پناہ مانگے۔
" اللهم آت نفسي تقواها: یعنی میرے نفس کو احکام کی بجاآوری اور محرمات سے پرہیز کا خوگر بنا۔ ایک قول کی رو سے یہاں تقوی کا معنی وہ ہو گا جو فجور کے بالمقابل ہوتا ہے جیسا کہ اللہ تعالی فرماتا ہے: ﴿فَأَلْهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقْوَاهَا﴾ ”پھر سمجھ دی اس کو بدکاری کی اور بچ کر چلنے کی“۔
”وزكها“ یعنی برائیوں سے اسے پاک فرما۔
”أنت خير من زكاها“ یعنی نفس کو تیرے سوا کوئی اور پاک کرنے والا نہیں ہے اور اے رب نہ ہی تیرے سوا کوئی اور اسے پاک کر سکتا ہے۔
”أنت وليها“ تو ہی اس کا مددگار اور اسے سنبھالنے والا ہے۔
”ومولاها“ یعنی تو ہی اس کا مالک اور اس پر نعمتوں کا نزول کرنے والا ہے۔
”اللهم إني أعوذ بك“۔ یعنی میں تیری حمایت میں آتا ہوں اور تجھ سے پناہ طلب کرتا ہوں۔
”من علم لا ينفع“ اس سے مراد وہ علم ہے جو بالکل بے سود ہو یا پھر وہ علم جس پر بندہ عمل نہ کرے اور وہ قیامت کے دن اس کے خلاف حجت بنا کھڑا ہو۔ جیسا کہ نبی ﷺ کا فرمان ہے کہ ’’ قرآن یا تو تمہارے حق میں حجت ہو گا یا تمہارے خلاف۔ وہ علم جو نفع بخش نہیں ہوتا وہ باطنی اخلاق کو نہیں سنوارتا چنانچہ یہ نہیں ہوتا کہ ان سے سرایت کرتا ہوا ظاہری اعمال تک اس کا اثر پہنچے اوریوں وہ پورا ثواب پا سکے۔
”قلب لا يخشع“ یعنی ایسا نفس جو اللہ کے ذکر کے وقت اور اس کا کلام سن کر ڈر میں مبتلا نہ ہو۔ ایسا دل بہت سخت ہوتا ہے۔ آپ ﷺ اللہ تعالی سے دعا فرما رہے ہیں کہ وہ اپنے پیدا کرنے والے سے ڈرنے لگیں، اس کی چاہت میں ان کی خوشی ہو، ان کا سینہ اس میں ڈالے گئے نور کی بدولت روشن ہو جائے۔ اگر ایسا نہیں ہوگا تو دل سخت ہو جا ئے گا چنانچہ ضروری ہے کہ اس سے اللہ کی پناہ مانگی جائے۔ اللہ تعالی فرماتا ہے: ﴿فَوَيْلٌ لِّلْقَاسِيَةِ قُلُوبُهُم﴾ ”اور ہلاکی ہے ان پر جن کے دل سخت ہو گئے ہیں“۔
”ونفس لا تشبع“ یعنی دنیائے فانی کی حرص کی وجہ سے اور طمع و لالچ اور لمبی امیدیں پالنے کے بسبب سیر نہیں ہوتا۔
”ومن دعوة لا يستجاب لها“ یعنی میں ایسے اسباب اور مقتضیات سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں جن کی وجہ سے دعا رد کر دی جاتی ہے۔ دعا کی قبولیت نہ ہونا دھتکارنے اور غضب کی علامت ہے کیونکہ دعا کا رد ہو جانا دراصل دعا مانگنے والے کے رد ہونے کی علامت ہے برخلاف مومن کی دعا کے جو کبھی رد نہیں ہوتی۔ یا تو دنیا ہی میں وہ قبول ہو جاتی ہے یا پھر اس دعا کی بدولت اللہ تعالی اس سے اس کے بقدر مصیبت دور کر دیتا ہے یا پھر یہ آخرت کے لیے رکھ چھوڑی جاتی ہے۔مومن کی دعا کبھی بھی ضائع نہیں ہوتی برخلاف کافر کی دعا کے۔ اللہ تعالی فرماتا ہے: ﴿وَمَا دُعَاءُ الْكَافِرِينَ إِلَّا فِي ضَلَالٍ﴾ ”اور کافروں کی دعا محض بے اﺛر اور بےراه ہے“۔
Explanation
One of the supplications of the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) was: "O Allah, I seek refuge with You" and turn to You alone "from inability", meaning the inability to act effectively, "indolence", meaning the lack of will to act. The incapable cannot act, and the lazy does not want to. "Cowardice", which is refraining from doing what ought to be done, "miserliness", which is withholding what must be given, "decrepitude", which leads to the weakening of the body, "and torment of the grave", and from the causes that lead to it. "O Allah, grant me the sense of piety” and guide my soul to obey You and avoid disobedience, "and purify my soul" and cleanse it from vices and lowly traits. "You are the best to purify it" and no one can purify it except You. "You are its Protector", its helper, caretaker, "and its "Guardian", the One Who manages its affairs, its Lord, Owner, and Bestower of blessings. "O Allah, I seek refuge with You from knowledge that is not beneficial," such as astrology, sorcery, magic, or any knowledge that brings no benefit in the Hereafter, or knowledge that is not acted upon. "From a heart that does not fear" You, that neither submits nor finds peace and stillness in Your remembrance. "From a soul that is not satisfied", always greedy and discontent with what Allah has lawfully provided. "And from a supplication" that is rejected and "not answered".