صحیح بخاری · صحیح مسلم
Sahih al-Bukhari · Sahih Muslim

ایک صاحب رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا کہ میں بھوکا ہوں۔

Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc

Reference حوالہ
5911Sahih صحیح
عن أبي هريرة رضي الله عنه قال: جاء رجلٌ إلى النبيِّ صلى الله عليه وسلم فقال: إني مجهودٌ، فأرسل إلى بعضِ نسائِه، فقالت: والذي بعثك بالحقِّ ما عندي إلا ماءٌ، ثم أرسل إلى أخرى، فقالت مثلَ ذلك، حتى قُلْنَ كلهن مثلَ ذلك: لا والذي بعثك بالحقِّ ما عندي إلا ماءٌ. فقال النبيُّ صلى الله عليه وسلم : "من يُضيفُ هذا الليلةَ؟"، فقال رجلٌ من الأنصار: أنا يا رسولَ اللهِ، فانطلقَ به إلى رحلِه، فقال لامرأته: أكرِمِي ضيف رسول الله صلى الله عليه وسلم .
وفي رواية قال لامرأته: هل عندك شيءٌ؟، فقالت: لا، إلا قوتَ صِبيَاني، قال: فعَلِّليهم بشيءٍ، وإذا أرادوا العشاءَ فنوّمِيهم، وإذا دخلَ ضيفُنا فأطفِئي السِّراجَ، وأرِيهِ أنَّا نَأكلُ، فقعدوا وأكلَ الضيفُ، وباتا طاويين، فلمَّا أصبحَ غدا على النبيِّ صلى الله عليه وسلم فقال: "لقد عَجِبَ اللهُ من صَنِيعِكما بضَيفِكما الليلةَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک صاحب رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا کہ میں بھوکا ہوں۔ آپ نے کسی زوجۂ مطہرہ کے پاس اس کی خبر بھیجی، تو انھوں نے کہا: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے، میرے پاس پانی کے سوا کچھ نہیں ہے۔ آپ نے دوسری بیوی کے پاس خبر بھیجی تو انھوں نے بھی اسی طرح کی بات کہی۔ حتی کہ ہر ایک کے پاس سے جواب آیا کہ اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے، میرے پاس پانی کے سوا کچھ نہیں ہے۔ چنانچہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”آج رات ان کی کون مہمانی کرے گا؟“ ایک انصاری صحابی بولے: اے اللہ کے رسول! میں کروں گا۔ چنانچہ وہ ان کو اپنے گھر لے گئے اور اپنی بیوی سے کہا کہ:رسول اللہ ﷺ کے مہمان کی خاطر تواضع کرو۔
اور ایک روایت میں ہے کہ: اپنی بیوی سے کہا: کیا تمھارے پاس کچھ ہے؟ بیوی نے کہا کہ گھر میں بچوں کے کھانے کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔ انھوں نے کہا: بچوں کو کسی چیز میں مشغول کردو اور اگر وہ کھانا مانگیں، تو انھیں سلا دو۔ جب مہمان حاضر ہوجائے، تو چراغ بجھا دینا اور مہمان پر ظاہر کرنا کہ گویا ہم بھی ان کے ساتھ کھا رہے ہیں۔ چنانچہ وہ بیٹھ گئے اور مہمان نے کھانا کھا لیا۔ ان دونوں نے (اپنے بچوں سمیت رات) فاقے سے گزار دی۔ صبح جب وہ صحابی آپ ﷺ کی خدمت میں آئے، تو آپ ﷺ نے فرمایا:”تم دونوں میاں بیوی کے مہمان کے ساتھ رات والےنیک عمل کو اللہ تعالیٰ نے پسند فرمایا“۔
— HadeethEnc اردو ترجمہ
Abu Hurayrah (may Allah be pleased with him) reported: A man came to the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) and said: "I am weary." So he sent to one of his wives, but she said: "By the One Who has sent you with the truth, I have nothing (to serve him) but water." He then sent to another one of his wives, and she gave the same reply, until all of them gave the same reply: "By the One who has sent you with the truth, I have nothing but water." Thereupon, the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) said: "Who will receive that (man) as a guest tonight?" A man from the Ansār said: "O Messenger of Allah, I will." He took him to his house and said to his wife: "Be generous to the guest of the Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him)."
In another narration, he said to his wife: "Do you have anything (to serve the guest)?" She said: "No, nothing but food for my boys." He said: "Distract their attention with something, and when they ask for dinner, put them to bed. When our guest enters, extinguish the lamp and give him the impression that we are eating." So they sat down. The guest had his meal, whereas they went to sleep feeling hungry. When it was morning, he went to the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) who said: "Allah was well pleased with what you both did for your guest last night."
— HadeethEnc English translation

Reference حوالہ

1Source book اصل کتاب
صحیح بخاریSahih al-Bukhariصحیح مسلمSahih Muslim
Original wording: متفق علیہ
2Grade درجہ
Sahih صحیح
Authentic: reliable chain and text
مستند: سند اور متن دونوں درست
Graded by: HadeethEnc scholars
درجہ: HadeethEnc کے علماء
3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadiths
ترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
4Hadith ID نمبر
HadeethEnc #5911

نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.

Explanation تشریح

ایک آدمی نبی ﷺ کے پاس آئے اور عرض کیا: میں شدت کی بھوک محسوس کررہا ہوں۔ نبی ﷺ نے اپنی ایک بیوی کے پاس خبر بھیجی، تو انھوں نے کہا: اللہ کی قسم میرے پاس سوائے پانی کے اور کچھ نہیں ہے۔ پھر آپ نے اپنی دوسری بیوی کے پاس خبر بھیجی۔ انھوں نے بھی ایسا ہی جواب دیا۔ آپ نے اپنی تمام بیویوں کے پاس خبر بھیجی اور سب نے اسی طرح کا جواب دیا۔ چنانچہ نبی ﷺ نے فرمایا: آج رات ان کی مہمان نوازی کون کرے گا ؟ ایک انصاری صحابی بولے: اے اللہ کے رسول! میں ان کی مہمان نوازی کروں گا۔ چنانچہ وہ ان کو اپنے گھر لے گئے اور اپنی بیوی سے کہا: کیا تمھارے پاس مہمان کو پیش کرنے کے لیے کچھ ہے؟ بیوی نے جواب دیا: نہیں، بچوں کی خوراک کے سوا کچھ نہیں ہے! انھوں نے کہا: بچوں کو کسی چیز میں مشغول کردو اور جب وہ کھانا مانگیں، تو انھیں سلادو۔ انھوں نے اپنی بیوی کو چراغ بجھانے کا حکم دے دیا اور مہمان نے سمجھا کہ وہ دونوں بھی کھا رہے ہیں۔ اس طرح مہمان شکم سیر ہوگئے اور ان دونوں نے رسول اکرم ﷺ کے مہمان کی خاطر داری میں رات کا کھانا کھاۓ بغیر رات گزار دی۔ صبح کے وقت جب وہ صحابی آپ ﷺ کی خدمت میں آئے، تو آپ ﷺ نے انھیں خبر دی کہ تم دونوں میاں بیوی کے رات والے نیک عمل کو اللہ تعالیٰ نے پسند فرمایا۔ حدیث میں وارد لفظ ”عجب“ اپنے ظاہری معنی میں مستعمل ہے؛ کیوں یہ ایک انوکھا عمل ہے، جو تعجب پیدا کرتا ہے۔ تعجب کرنا در اصل اللہ تعالی کی ان فعلی صفات میں سے ہے جنہیں اہل سنت وجماعت تشبیہ اور تمثیل کے بغیر مانتے اور ثابت کرتے ہیں۔ یہاں مراد تعجب انکار نہیں، تعجب استحسان ہے۔ یعنی اللہ نے اس رات تمھارے طرز عمل کو پسند کیا ہے۔

Explanation

A man came to the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) and said: "I am in hardship owing to need and hunger." So the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) sent to one of his wives who said: "By Allah, I do not have anything except water." He sent to another one, and she said the same. He did that with all of his wives, and the reply was the same from all of them. So the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) said: "Who will host that man tonight?" A man from the Ansār said: "I will, O Messenger of Allah." He took him home and said to his wife: "Do you have something we can serve the guest?" She said: "No, only food for the boys." So he said: "Keep them busy with something, and when they want to eat, make them go to sleep." He ordered her to turn off the lamp, and the guest thought that they were eating with him. He ate his fill, while they went to sleep without eating out of honor for the guest of the Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him). When he woke up the next morning and went to the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) he informed him that Allah was amazed at what they had done the previous night, and such amazement was a sign of admiration, not disapproval, as Allah, the Almighty, admired what they had done that night.

Topics موضوعات