اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! تم ضرور اپنے سے پہلے کی امتوں کے نقش قدم پر چلوگے۔
Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- جامع ترمذیJami' at-Tirmidhiمسند احمدMusnad AhmadOriginal wording: رواه الترمذي وأحمد
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #5927Jami' at-Tirmidhi & Musnad Ahmad (HadeethEnc 5927)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم طائف اور مکہ کے درمیان واقع ایک وادی حنین کی جانب نکلے۔ آپ کے ساتھ کچھ صحابہ ایسے بھی تھے، جو ابھی ابھی مسلمان ہوئے تھے۔ لہذا جب وہ "ذات انواط" نامی یعنی لٹکائی ہوئی چیزوں والے ایک پیڑ کے پاس سے گزرے، جس کی مشرکین تعظیم کیا کرتے تھے اور حصول برکت کے لیے اس پر اپنے ہتھیار لٹکایا کرتے تھے، تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم سے کہنے لگے کہ ان کے لیے بھی اسی طرح کا ایک پیڑ متعین کر دیں، جس میں وہ حصول برکت کے لیے اپنے ہتھیار لٹکا سکیں۔ دراصل وہ سمجھتے تھے کہ ایسا کرنا جائز ہے۔ چنانچہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ نے ان کی گزارش کے بارے میں ناپسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے اور اللہ کی عظمت بیان کرتے ہوئے "سبحان اللہ" کہا اور بتایا کہ ان کی یہ بات موسی علیہ السلام کی قوم کی اس بات کے مشابہ ہے: (ہمارے لیے بھی ایک معبود بنا دیجیے جیسا کہ ان (مشرکوں) کے معبودان ہیں)۔ جب انھوں نے کچھ لوگوں کو بتوں کی پوجا کرتے ہوئے دیکھا، تو اس بات کا مطالبہ کیا کہ مشرکوں کی طرح ان کے بھی کچھ بت ہوں۔ آپ نے بتایا کہ آپ کے صحابہ کا یہ مطالبہ بھی دراصل ان کے نقش قدم کی پیروی ہے۔ پھر بتایا کہ یہ امت یہود و نصاری کے نقش قدم پر چلے گی اور ان کے کام کرے گی۔ آپ کا مقصد اس طرح کے کاموں سے خبردار کرنا تھا۔
حدیث کے فوائد
- انسان کبھی کبھی کسی کام کو اللہ سے قریب کرنے والا کام سمجھ کر اچھا سمجھتا ہے، لیکن وہ حقیقت میں اللہ سے دور کرنے والا کام ہوتا ہے۔
- انسان جب کسی کو دین کے بارے میں کوئی نامناسب بات کہتے ہوئے سنے یا کسی بات پر تعجب کرے، تو سبحان اللہ یا اللہ اکبر کہے۔
- درختوں اور پتھر وغیرہ سے برکت حاصل کرنا بھی شرک کے زمرے میں آتا ہے۔ برکت صرف اللہ سے طلب کی جائے گی۔
- بتوں کی پرستش کی وجہ ان کی تعظیم کرنا، ان کے پاس بیٹھنا اور ان سے برکت حاصل کرنا ہے۔
- شرک تک پہنچانے والے دروازوں اور راستوں کو بند کرنے کی ضرورت۔
- یہودیوں اور عیسائیوں کی مذمت میں وارد نصوص دراصل ہمارے لیے تنبیہ ہیں۔
- اہل جاہلیت اور یہودو نصاریٰ کی مشابہت اختیار کرنا حرام ہے، سوائے اس کے کہ دلیل اس بات پر دلالت کرے کہ یہ ہمارے دین میں سے ہے۔
Explanation
The Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him) set out for Hunayn, a valley between Tā’if and Makkah, and he was accompanied by some of the Companions who had recently embraced Islam. They passed by a tree called Dhāt Anwāt, i.e., on which things were hung. The polytheists used to revere it and hang their weapons and other things upon it to seek blessing. Thinking it was permissible, they asked the Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him) to make them a tree like this one upon which they could hang their weapons to seek blessing. Thereupon, the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) exalted Allah by way of disapproval of such a request and by way of extolling Allah. He informed them that their statement was similar to that which the people of Moses had said to him: {Make for us a god just as they have gods} When they saw those who were worshipping idols and asked to have idols like those of the polytheists, he clarified to them that by this, they were indeed following their ways. Then, the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) informed by way of warning that this Ummah will follow the ways of the Jews and Christians and will copy their acts.