قیامت کے دن سب سے سخت عذاب ان لوگوں کو دیا جائے گا، جو عمل تخلیق میں اللہ کے مشابہ ہونا چاہتے ہيں۔
Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- صحیح بخاریSahih al-Bukhariصحیح مسلمSahih MuslimOriginal wording: متفق عليه
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #5931Sahih al-Bukhari & Sahih Muslim (HadeethEnc 5931)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم اپنے گھر میں عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لے گئے، تو دیکھا کہ انھوں نے ایک طاق پر ایک پردہ لگا رکھا ہے، جس پر جان دار چیزوں کی تصویریں بنی ہوئی ہيں۔ یہ دیکھ کر غصے سے آپ کے چہرے کا رنگ بدل گیا۔ آپ نے اسے کھینچ کر ہٹا دیا اور فرمایا : قیامت کے دن سب سے سخت عذاب ان لوگوں کو دیا جائے گا، جو اپنی تصویروں کے ذریعے عمل تخلیق میں اللہ کے مشابہ ہونا چاہتے ہيں۔ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : چنانچہ ہم نے اسے پھاڑ کر ایک یا دو تکیے بنا لیے۔
حدیث کے فوائد
- غلط کام دیکھتے ہی بلا تاخیر اس کی تردید ہو جانی چاہیے، جب تک کہ اس کی تردید اس سے زیادہ بڑی برائی کی وجہ نہ بنے۔
- قیامت کے دن گناہ کے مطابق عذاب میں بھی تفاوت ہوگا۔
- جان دار چیزوں کی تصویر بنانا کبیرہ گناہ ہے۔
- تصویر بنانے کی حرمت کے پیچھے کارفرما ایک حکمت یہ ہے کہ یہ عمل تخلیق میں خود کو اللہ کے مشابہ بتانا ہے۔ چاہے تصویر بنانے والے کے دل میں یہ بات ہو یا نہ ہو۔
- شریعت کی کوشش ہے کہ اموال کے ناجائز پہلوؤں سے بچتے ہوئے ان سے استفادہ کیا جائے اور اس طرح ان کی حفاظت کی جائے۔
- جان دار چیزوں کی تصویر بنانا ممنوع ہے۔ چاہے اس کی شکل جو بھی ہو۔ خواہ حقير سی شے ہی کیوں نہ ہو۔
Explanation
The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) entered the place of 'Ā’ishah (may Allah be pleased with her) in his house and found that she had covered a small cabinet, wherein things are kept with a piece of fabric that had images of living beings on it. The color of his face changed by way of anger for the sake of Allah, and he took it away and said: People who will receive the severest punishment on the Day of Judgment will be those who try to emulate Allah's creation with their images. ‘Ā’ishah said: So, we made one or two cushions out of it.