قسم کھانا‘ سامان تجارت کی فروخت کا ذریعہ تو ہے مگر اس سے برکت ختم ہوجاتی ہے۔
Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- صحیح بخاریSahih al-Bukhariصحیح مسلمSahih Muslimسنن ابو داؤدSunan Abi DawudOriginal wording: حدیث متفق علیہ اور یہ الفاظ ابو داؤد کے ہیں۔
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #5936Sahih al-Bukhari & Sahih Muslim & Sunan Abi Dawud (HadeethEnc 5936)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
نبی ﷺ قسم کھانے کو معمولی سمجھنے اور سامانِ تجارت کو بیچنے اور کمائی کرنے کی خاطر کثرت سے قسم کھانے سے ڈرا رہے ہیں۔ اس لیے کہ بائع جب کسی سامان پر جھوٹی قسم کھاتا ہے تو خریدنے والا بائع کی قسم کھانے کے سبب اسے اپنی قسم میں سچا سمجھتے ہوئے اس سامان کو زائد قیمت میں خرید لیتا ہے، چنانچہ اس کی پاداش میں برکت ختم ہو جاتی ہے بلکہ ہو سکتا ہے کہ منافع کے ساتھ ساتھ حقیقی قیمت بھی ضائع ہو جائے۔ یقیناً جو کچھ اللہ تعالی کے پاس ہے اسے اس کی نافرمانی کے ذریعہ حاصل نہیں کرسکتے۔ بکثرت قسم کھانا اللہ تعالی کی تعظیم میں کمی کرتی ہے جو کہ توحید کے منافی ہے۔
Explanation
The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) warned against swearing oaths and doing so excessively, even if one is truthful in buying and selling. He informed that it may help in promoting goods and merchandise, but it diminishes and nullifies the blessing in profit and earnings. Allah Almighty may bring about ways through which this wealth is destroyed, whether by theft, fire, drowning, seizure, looting, or other means that lead to the loss of one's wealth.