اکیلا سوار ایک شیطان ہے، دو سوار دو شیطان ہیں اور تین سوار ہوں تو قافلہ بنتا ہے۔
Hasan (حسن) · Urdu & English translation by HadeethEnc
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- سنن ابو داؤدSunan Abi Dawudجامع ترمذیJami' at-Tirmidhiموطا امام مالکMuwatta Malikمسند احمدMusnad AhmadOriginal wording: اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام مالک نے روایت کیا ہے۔
- 2Grade درجہ
- Hasan حسنGood: acceptable, slightly below Sahihقابلِ قبول: صحیح سے کچھ کم درجہGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #5938Sunan Abi Dawud & Jami' at-Tirmidhi & Muwatta Malik & Musnad Ahmad (HadeethEnc 5938)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
اس حدیث میں اکیلے ایک شخص کو اور دو اشخاص کو سفر پر جانے سے ڈرایا گیا ہے ۔ تاہم اس کا تعلق اس سفر سے ہے جہاں کسی کا گزر نہ ہو۔ اس حدیث میں کسی کے ساتھ یا پھر گروہ کی شکل میں سفر کرنے کی ترغیب دی گئی ہے تاکہ انسان شیطان کی چالوں سے محفوظ رہے۔ جہاں تک تنہا سفر نہ کرنے کی بات ہے تو یہ جگ ظاہر ہے، بوقتِ ضرورت انسان کو دوسرے کی مدد در پیش ہوتی ہے، یا ہوسکتا ہے کہ راستے ہی میں اس کا انتقال ہوجائے (اور وہ بے یارومددگار ہوجائے) نیز تاکہ وہ شیطان کی چالبازی کا شکار نہ ہوجائے۔ جہاں تک صرف دو لوگوں کے سفر پر نکلنے کی ممانعت ہے تو اس میں علت یہ ہوسکتی ہے کہ ہوسکتا ہے کہ اُن میں سے کوئی راستے میں کام آجائے (یا بیمار ہوجائے) تو دوسرا شخص تنہا ہوسکتا ہے۔ تاہم موجودہ دور میں کسی (شخص کا تنہا) موٹر کار میں سفر کرنا ایسے راستوں (روٹس) پر جو چالو ہو (بیابان نہ ہو) تو وہ تنہا سفر کرنے کی ممانعت میں شامل نہیں نہ ہی اُس اکیلے سوار مسافر کو شیطان کہا جائے گا، اس لیے کہ اپنی اپنی گاڑیوں میں سفر کرنے والے گویا قافلے کی شکل میں ہوتے ہیں، مثال کے طور پر جیسے مکہ اور ریاض یا مکہ اور جدہ کے مابین کے راستے ہیں، تاہم ایسے راستے جو غیر آباد (چالو نہ) ہوں، اُن پر گاڑی میں بھی سفر کرنا اکیلے سفر کرنے کی ممانعت کے ضمن میں آئے گا اور وہ سوار اِس حدیث کے حکم میں داخل ہوگا۔
Explanation
This Hadīth discourages traveling alone, or even that two people travel alone, in empty places where no people pass by. A person alone may need a companion in case he needed help or if died the devil may not target him. If there are only two people and one gets hurt then he will be left alone. The Hadīth encourages traveling in a group so that the devil would not target the travelers with his schemes. Nowadays with fast cars and highways a person traveling in the car by himself would not be considered alone because there are many other people traveling on the highway, whereas if he was away from main roads it could be considered alone.