مسند احمد · صحیح ابن حبان
Musnad Ahmad · Sahih Ibn Hibban

تین قسم کے لوگ جنت میں داخل نہیں ہوں گے؛ شراب ہمیشہ پینے والا، رشتے ناتے کو کاٹنے والا اور جادو کو سچ ماننے…

Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc

Reference حوالہ
5951Sahih صحیح
عن أبي موسى الأشعري رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «ثلاثة لا يدخلون الجنة مُدْمِنُ خمر، وقاطع الرحم، ومُصَدِّق بالسِّحْر».
ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "تین قسم کے لوگ جنت میں داخل نہیں ہوں گے؛ شراب ہمیشہ پینے والا، رشتے ناتے کو کاٹنے والا اور جادو کو سچ ماننے والا"۔
— HadeethEnc اردو ترجمہ
Abu Mūsa al-Ash‘ari (may Allah be pleased with him) reported that the Messenger of Allah, ‎peace be upon him, said: "Three will not enter Paradise: the habitual drinker of alcohol, the one who severs the ties of kinship, and the one who believes in sorcery. ‎" ‎
— HadeethEnc English translation

Reference حوالہ

1Source book اصل کتاب
مسند احمدMusnad Ahmadصحیح ابن حبانSahih Ibn Hibban
Original wording: اسے ابنِ حبان نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔
2Grade درجہ
Sahih صحیح
Authentic: reliable chain and text
مستند: سند اور متن دونوں درست
Graded by: HadeethEnc scholars
درجہ: HadeethEnc کے علماء
3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadiths
ترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
4Hadith ID نمبر
HadeethEnc #5951

نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.

Explanation تشریح

اس حدیث میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم بتا رہے ہیں کہ تین قسم کے لوگ ہرگز جنت میں داخل نہیں ہو سکتے، کیونکہ وہ ایسے بڑے گناہوں کا ارتکاب کرتے ہیں جو فرد اور سماج کے لیے نقصان دہ ہوتے ہیں :
پہلی قسم کے لوگ ہيں ہمیشہ شراب پینے والے، کیونکہ شراب عقل کو زائل کرتی، آدمی کی انسانیت کو مسخ کرتی اور اس کی مروت کا جنازہ نکال دیتی ہے۔
دوسری قسم کے لوگ ہیں رشتے داروں کے حقوق ادا نہ کرنے والے، کیونکہ اس سے پریوار کے افراد کے بیچ دشمنی اور تفرقہ پڑتا ہے، جس کے نتیجے میں کبھی کبھی انسان قریب کے لوگوں سے بھی الگ تھلگ پڑ جاتا ہے۔
تیسری قسم کے لوگ ہیں جادو کی تصدیق کرنے والے، کیوں کہ اس سے شعبدہ بازی، فریب کاری اور باطل طریقے سے لوگوں کا مال ہڑپنے کو بڑھاوا ملتا ہے۔ یاد رہے کہ یہاں جو وعید بیان کی گئی ہے، اس کے اندر جادوگروں کی بتائی ہوئی علم غیب سے متعلق باتوں کی تصدیق کرنے والا بھی آتا ہے۔ جہاں تک اس بات کو ماننے کی بات ہے کہ جادو کی تاثیر ہوتی ہے، تو ایسا ماننے والا اس وعید کے اندر نہیں آتا، کیونکہ جادو کی تاثیر ہوتی ہے، اس میں کوئی شبہ نہیں ہے۔ اسی طرح کوئی اگر یہ مانے کہ جادو سے چیزوں کی ماہیت بدل جاتی ہے، مثال کے طور پر یہ مانے کہ جادو لکڑی کو سونا بنادیتا ہے یا اس طرح کى کسی اور بات کو مانے، تو اس کے اس وعید میں داخل ہونے میں کوئی شک نہيں ہے، کیوں کہ یہ کام اللہ عز وجل کے علاوہ کوئی نہیں کر سکتا۔

Explanation

The Messenger of Allah (may Allah’s peace and blessings be upon him) informs us in this ‎Hadīth that there are three categories of people who will not enter Paradise because of the ‎major sins that they commit, all of which are harmful to themselves and the whole ‎community: ‎The first of them is the one involved in habitual drinking of alcohol, which obscures one's reason, magnanimity, and even humanity. ‎The second is the one who breaks the ties of kinship, because in so doing, he causes enmity and ‎disunity between the members of his family – the result of this may be that one would live by himself, ‎outcast and ignored by the closest people to him. ‎The third is the one who believes in sorcery, which also includes fortune-telling, because this ‎encourages cheating, fraud, and deception for the purpose of stealing the money of the ‎people. The threat here does not apply to the one who merely believes that sorcery has ‎effect, because it undoubtedly has effect. Nevertheless, whoever believes that sorcery can ‎transform the nature of things (transform wood into gold for example) is certainly meant by ‎this threat because no one can do this except Allah, the Almighty. ‎

Topics موضوعات