تین قسم کے لوگ جنت میں داخل نہیں ہوں گے؛ شراب ہمیشہ پینے والا، رشتے ناتے کو کاٹنے والا اور جادو کو سچ ماننے…
Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- مسند احمدMusnad Ahmadصحیح ابن حبانSahih Ibn HibbanOriginal wording: اسے ابنِ حبان نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #5951Musnad Ahmad & Sahih Ibn Hibban (HadeethEnc 5951)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
اس حدیث میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم بتا رہے ہیں کہ تین قسم کے لوگ ہرگز جنت میں داخل نہیں ہو سکتے، کیونکہ وہ ایسے بڑے گناہوں کا ارتکاب کرتے ہیں جو فرد اور سماج کے لیے نقصان دہ ہوتے ہیں :
پہلی قسم کے لوگ ہيں ہمیشہ شراب پینے والے، کیونکہ شراب عقل کو زائل کرتی، آدمی کی انسانیت کو مسخ کرتی اور اس کی مروت کا جنازہ نکال دیتی ہے۔
دوسری قسم کے لوگ ہیں رشتے داروں کے حقوق ادا نہ کرنے والے، کیونکہ اس سے پریوار کے افراد کے بیچ دشمنی اور تفرقہ پڑتا ہے، جس کے نتیجے میں کبھی کبھی انسان قریب کے لوگوں سے بھی الگ تھلگ پڑ جاتا ہے۔
تیسری قسم کے لوگ ہیں جادو کی تصدیق کرنے والے، کیوں کہ اس سے شعبدہ بازی، فریب کاری اور باطل طریقے سے لوگوں کا مال ہڑپنے کو بڑھاوا ملتا ہے۔ یاد رہے کہ یہاں جو وعید بیان کی گئی ہے، اس کے اندر جادوگروں کی بتائی ہوئی علم غیب سے متعلق باتوں کی تصدیق کرنے والا بھی آتا ہے۔ جہاں تک اس بات کو ماننے کی بات ہے کہ جادو کی تاثیر ہوتی ہے، تو ایسا ماننے والا اس وعید کے اندر نہیں آتا، کیونکہ جادو کی تاثیر ہوتی ہے، اس میں کوئی شبہ نہیں ہے۔ اسی طرح کوئی اگر یہ مانے کہ جادو سے چیزوں کی ماہیت بدل جاتی ہے، مثال کے طور پر یہ مانے کہ جادو لکڑی کو سونا بنادیتا ہے یا اس طرح کى کسی اور بات کو مانے، تو اس کے اس وعید میں داخل ہونے میں کوئی شک نہيں ہے، کیوں کہ یہ کام اللہ عز وجل کے علاوہ کوئی نہیں کر سکتا۔
Explanation
The Messenger of Allah (may Allah’s peace and blessings be upon him) informs us in this Hadīth that there are three categories of people who will not enter Paradise because of the major sins that they commit, all of which are harmful to themselves and the whole community: The first of them is the one involved in habitual drinking of alcohol, which obscures one's reason, magnanimity, and even humanity. The second is the one who breaks the ties of kinship, because in so doing, he causes enmity and disunity between the members of his family – the result of this may be that one would live by himself, outcast and ignored by the closest people to him. The third is the one who believes in sorcery, which also includes fortune-telling, because this encourages cheating, fraud, and deception for the purpose of stealing the money of the people. The threat here does not apply to the one who merely believes that sorcery has effect, because it undoubtedly has effect. Nevertheless, whoever believes that sorcery can transform the nature of things (transform wood into gold for example) is certainly meant by this threat because no one can do this except Allah, the Almighty.