سنن ابو داؤد · سنن ابن ماجہ · مسند احمد
Sunan Abi Dawud · Sunan Ibn Majah · Musnad Ahmad

اگر تم احد کے برابر سونا بھی، اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کر دو تو اللہ تعالیٰ اس کو تمہاری طرف سے قبول نہیں…

Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc

Reference حوالہ
5954Sahih صحیح
عن ابن الدَّيْلَمِي قال: أتيتُ أُبَيَّ بن كعب فقلتُ: في نفْسي شيء من القدر، فحَدِّثْني بشيء لعل الله يُذْهِبَه مِن قلبي. فقال: «لو أنفقتَ مثل أُحُد ذَهَبًا ما قَبِلَه الله منك حتى تؤمن بالقدَر، وتعلمَ أنَّ ما أصابك لم يكن ليُخطِئك، وما أخْطأك لم يكن لِيُصِيبَك، ولو مُتَّ على غير هذا لكنتَ مِن أهل النار».
قال: فأتيتُ عبد الله بن مسعود، وحذيفة بن اليمان، وزيد بن ثابت، فكلهم حدَّثني بمثل ذلك عن النبي صلى الله عليه وسلم .
ابن دیلمی کہتے ہیں کہ میں ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور ان سے کہا کہ میرے دل میں تقدیر کے بارے میں کچھ شبہ پیدا ہو گیا ہے، لہٰذا آپ مجھے کوئی ایسی چیز بتائیے جس سے یہ امید ہو کہ اللہ تعالیٰ اس شبہ کو میرے دل سے نکال دے گا، انھوں نے فرمایا: اگر تم احد پہاڑ کے برابر سونا بھی، اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کر دو تو اللہ تعالیٰ اس کو تمہاری طرف سے قبول نہیں فرمائے گا جب تک کہ تم تقدیر پر ایمان نہ لے آؤ اور یہ جان لو کہ جو کچھ تمہیں پہنچا ہے وہ ایسا نہیں ہے کہ تمہیں نہیں پہنچتا، اور جو کچھ تمہیں نہیں پہنچا وہ ایسا نہیں کہ تمہیں پہنچ جاتا اور اگر تم اس عقیدے کے علاوہ کسی اور عقیدے پر مر گیے تو ضرور جہنمیوں میں سے ہوگے۔ابن دیلمی کہتے ہیں: پھر میں عبداللہ بن مسعود ، حذیفہ بن یمان اور زید بن ثابت رضی اللہ عنھم اجمعین کے پاس آیا تو ان سب نے مجھ سے اسی کے مثل نبی اکرم ﷺ کی مرفوع روایت بیان کی۔
— HadeethEnc اردو ترجمہ
Ibn Ad-Daylami reported: 'I went to Ubayy ibn Ka‘b and said: "There is something in my heart about predestination, so tell me something in the hope that Allah will remove it from my heart." He said: "If you spend the like of Uhud in gold, Allah will not accept it from you until you believe in predestination, and know that what has befallen you would not have missed you and what has missed you would not have befallen you. If you die on other than this, you will be among the people of Hellfire." He added: "Then, I went to ‘Abdullāh ibn Mas‘ūd, Hudhayfah ibn al-Yamān, and Zayd ibn Thābit, and each of them told me the same thing on the authority of the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him).''
— HadeethEnc English translation

Reference حوالہ

1Source book اصل کتاب
سنن ابو داؤدSunan Abi Dawudسنن ابن ماجہSunan Ibn Majahمسند احمدMusnad Ahmad
Original wording: اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔
2Grade درجہ
Sahih صحیح
Authentic: reliable chain and text
مستند: سند اور متن دونوں درست
Graded by: HadeethEnc scholars
درجہ: HadeethEnc کے علماء
3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadiths
ترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
4Hadith ID نمبر
HadeethEnc #5954

نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.

Explanation تشریح

عبداللہ بن فیروز دیلمی رحمہ اللہ اس بات کی خبر دے رہے ہیں کہ ان کے دل میں تقدیر کے مسئلہ میں کچھ اشکال و اشتباہ پیدا ہوگیا اور انھیں اس بات کا خدشہ لاحق ہوا کہ کہیں یہ اشکال انھیں تقدیر کے انکار تک نہ پہنچادے، چنانچہ اس اشکال کو دور کرنے کے لیے وہ اہلِ علم صحابہ کرام رضی اللہ عنھم اجمعین سے مسئلہ کا حل دریافت کرنے لگے۔ لہذا اسی طرح ہر مومن کو چاہیے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان: ﴿فَاسْأَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ إِن كُنتُمْ لَا تَعْلَمُونَ﴾ ”پس اگر تم نہیں جانتے تو اہل علم سے دریافت کر لو“ پر عمل کرتے ہوئے، اپنے مشتبہ و مشکل مسائل کے بارے میں علمائے کرام سے حل دریافت کرے۔ چنانچہ ان سارے علماء نے ابن فیروز دیلمی کو یہی فتویٰ دیا کہ قضاء و قدر پر ایمان لانا لازمی ہے اور عظیم کمیت پر مبنی انفاق فی سبیل اللہ کو اس شخص سے قبول نہیں کیا جائے گا جس کا تقدیر پر ایمان نہ ہو اور جو اس حال میں مرجائے کہ تقدیر پر اس کا ایمان نہ ہو تو وہ جہنمیوں میں سے ہوگا۔

Explanation

‘Abdullāh ibn Fayrūz Ad-Daylami (may Allah have mercy upon him) said that he had some doubts about predestination and feared that he would end up denying it. Therefore, he asked some scholars from among the Companions of the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) about it in order to solve this problem. This shows that a believer ought to ask scholars about things that are confusing him, as Allah, the Almighty, says: {So ask the people of the message [i.e., former scriptures] if you do not know} [Sūrat An-Nahl: 43]. All the scholars told him that he must believe in the Divine Decree and predestination. They also told him that spending a great amount of wealth would not be accepted from anyone who does not believe in predestination, and that anyone who dies without believing in it will be one of the denizens of the Hellfire.

Topics موضوعات