اگر تم احد کے برابر سونا بھی، اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کر دو تو اللہ تعالیٰ اس کو تمہاری طرف سے قبول نہیں…
Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc
قال: فأتيتُ عبد الله بن مسعود، وحذيفة بن اليمان، وزيد بن ثابت، فكلهم حدَّثني بمثل ذلك عن النبي صلى الله عليه وسلم .
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- سنن ابو داؤدSunan Abi Dawudسنن ابن ماجہSunan Ibn Majahمسند احمدMusnad AhmadOriginal wording: اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #5954Sunan Abi Dawud & Sunan Ibn Majah & Musnad Ahmad (HadeethEnc 5954)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
عبداللہ بن فیروز دیلمی رحمہ اللہ اس بات کی خبر دے رہے ہیں کہ ان کے دل میں تقدیر کے مسئلہ میں کچھ اشکال و اشتباہ پیدا ہوگیا اور انھیں اس بات کا خدشہ لاحق ہوا کہ کہیں یہ اشکال انھیں تقدیر کے انکار تک نہ پہنچادے، چنانچہ اس اشکال کو دور کرنے کے لیے وہ اہلِ علم صحابہ کرام رضی اللہ عنھم اجمعین سے مسئلہ کا حل دریافت کرنے لگے۔ لہذا اسی طرح ہر مومن کو چاہیے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان: ﴿فَاسْأَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ إِن كُنتُمْ لَا تَعْلَمُونَ﴾ ”پس اگر تم نہیں جانتے تو اہل علم سے دریافت کر لو“ پر عمل کرتے ہوئے، اپنے مشتبہ و مشکل مسائل کے بارے میں علمائے کرام سے حل دریافت کرے۔ چنانچہ ان سارے علماء نے ابن فیروز دیلمی کو یہی فتویٰ دیا کہ قضاء و قدر پر ایمان لانا لازمی ہے اور عظیم کمیت پر مبنی انفاق فی سبیل اللہ کو اس شخص سے قبول نہیں کیا جائے گا جس کا تقدیر پر ایمان نہ ہو اور جو اس حال میں مرجائے کہ تقدیر پر اس کا ایمان نہ ہو تو وہ جہنمیوں میں سے ہوگا۔
Explanation
‘Abdullāh ibn Fayrūz Ad-Daylami (may Allah have mercy upon him) said that he had some doubts about predestination and feared that he would end up denying it. Therefore, he asked some scholars from among the Companions of the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) about it in order to solve this problem. This shows that a believer ought to ask scholars about things that are confusing him, as Allah, the Almighty, says: {So ask the people of the message [i.e., former scriptures] if you do not know} [Sūrat An-Nahl: 43]. All the scholars told him that he must believe in the Divine Decree and predestination. They also told him that spending a great amount of wealth would not be accepted from anyone who does not believe in predestination, and that anyone who dies without believing in it will be one of the denizens of the Hellfire.