تم لوگ ہوا کو گالی مت دو۔ اگر اس میں کوئی ناپسندیدہ چیز دیکھو، تو یہ دعا پڑھو: ’’اللهم إنا نَسْأَلُكَ مِن خير…
Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- جامع ترمذیJami' at-TirmidhiOriginal wording: رواه الترمذي
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #5976Jami' at-Tirmidhi (HadeethEnc 5976)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ہوا کو گالی دینے یا اس پر لعنت کرنے سے منع فرمایا ہے۔ کیوں کہ ہوا اپنے خالق کے حکم سے چلتی ہے۔ کبھی رحمت بن کر آتی ہے اور کبھی عذاب بن کر۔ اس کو گالی دینا دراصل اس کے خالق کو گالی دینا اور اس کے فیصلے پر برہمی کا اظہار کرنا ہے۔ اس کے بعد اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے ہوا کے خالق یعنی اللہ سبحانہ و تعالی کی طرف رجوع کر کے اس سے ہوا کی خیر، ہوا کے اندر موجود چيزوں کی خیر اور ہوا جن چیزوں کے ساتھ بھیجی گئی ہے، جیسے بارش وغیرہ، ان کی خیر طلب کرنے اور اللہ ہی سے اس کے شر، اس کے اندر موجود چيزوں کے شر اور اسے جن چیزوں کے ساتھ بھیجا گیا ہے، جیسے فصلوں اور پیڑوں کا نقصان، مویشیوں کو ہلاک اور گھروں کو منہدم کرنا وغیرہ، ان کے شر سے پناہ مانگنے کی جانب رہنمائی کی ہے۔ دراصل اللہ سے یہ چیزیں مانگنا بھی اس کی بندگی کو بروئے عمل لانا ہے۔
حدیث کے فوائد
- ہوا کو برا کہنے کی ممانعت؛ کیوں کہ ہوا اللہ کے حکم پر چلنے والی ایک مخلوق ہے۔ لہذا اسے گالی دینا دراصل اس کی تخلیق اور تدبیر کرنے والے کو گالی دینا ہے، جوکہ توحید میں خلل کا باعث ہے۔
- الله کی طرف لوٹنا اور اس کی مخلوق کے شر سے پناہ مانگنا۔
- ہوا کبھی تو اللہ کے حکم سے خیر لاتی ہے اور کبھی اسی کے حکم سے شر لاتی ہے۔
- ابن باز کہتے ہيں: ہوا کو گالی دینا گناہ کا کام ہے۔ کیوں کہ ہوا ایک مخلوق ہے جو اللہ کے حکم سے خیر وشر کے ساتھ آتی ہے۔ لہذا اسے گالی دینا جائز نہيں ہے۔ ہوا پر اللہ کی لعنت ہو، اللہ ہوا کو غارت کرے یا اللہ ہوا میں برکت نہ دے وغیرہ کہنا درست نہیں ہے۔ ایک مومن کا طرز عمل اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی رہنمائی کے مطابق ہونا چاہیے۔
- ہوا پر قیاس کرتے ہوئے سردی، گرمی، دھوپ اور غبار وغیرہ اللہ کی ديگر مخلوقات کو بھی گالی دینا جائز نہیں، جو اللہ کے حکم کے تابع ہیں۔
Explanation
The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) forbade insulting or cursing the wind, for it is commanded by its Creator. It comes with both mercy and punishment, and cursing it is equivalent to cursing Allah, its Creator, and being displeased with His decree. The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) then guided us to turn to Allah, its Creator, by asking Him for the good of the wind, the good that is within it, and the good for which it has been sent, such as bringing rain or transferring pollen and similar benefits. He also taught us to seek refuge in Allah from its evil, the evil within it, and the evil for which it has been sent, such as destroying crops, trees, livestock, demolishing buildings, etc. Asking Allah in this way affirms servitude to Him.