”اس آدمی کی ناک خاک آلود ہو جس کے سامنے میرا ذکر کیا جائے اور وہ مجھ پر درود نہ پڑھے, اس آدمی کی ناک خاک آلود…
Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- جامع ترمذیJami' at-Tirmidhiمسند احمدMusnad AhmadOriginal wording: رواه الترمذي وأحمد
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #6014Jami' at-Tirmidhi & Musnad Ahmad (HadeethEnc 6014)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے تین قسم کے لوگوں کے حق میں بد دعا فرمائی ہے کہ وہ اتنے ذلیل ہوں اور خسارے میں پڑیں کہ ان کی ناک خاک آلود ہو جائے: پہلی قسم : ایسے لوگ جن کے سامنے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا ذکر آئے اور وہ 'صلی اللہ علیہ و سلم' کہہ کر یا اس طرح کے دوسرے صیغے استعمال کر کے آپ پر درود نہ بھیجیں۔ دوسری قسم : ایسے لوگ جن کے سامنے رمضان المبارک کا مہینہ آیا اور گزر بھی گیا، لیکن وہ نیکی کے کام کر کے اپنی مغفرت کا سامان نہ کر سکے۔ تیسری قسم : ایسا شخص جس نے اپنے والدین کو بڑھاپے کی حالت میں پایا اور ان کی نافرمانی اور ان کے حقوق کی ادائیگی میں کوتاہی کی وجہ سے ان کو دخول جنت کا سبب نہ بنا سکا۔
حدیث کے فوائد
- سندھی کہتے ہيں: خلاصہ کلام یہ کہ ان میں سے ہر شخص کو ایسے مواقع ہاتھ آئے کہ اگر کوتاہی سے کام نہ لیتا تو بڑی خیر حاصل کر سکتا تھا۔ ان میں سے ہر شخص کو اپنی کوتاہیوں کی وجہ سے نقصان اٹھانا پڑا۔
- اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم پر، جب جب آپ کا نام آئے، درود بھیجنے کی ترغیب۔
- ماہ رمضان میں عبادت کے لیے کمر کس لینے اور خوب عبادت کرنے کی ترغیب۔
- والدین کی فرمانبرداری اور خدمت کرنے کی ترغیب۔ خاص طور سے ان کے بڑھاپے میں۔
Explanation
The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) supplicated against three types of people that their noses be stuck to dust, as a sign of humiliation, disgrace, and loss: First type: The one in whose presence the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) is mentioned, yet he does not invoke blessings upon him by saying: May Allah's peace and blessings be upon him and the like. Second: The one who witnesses the month of Ramadan, and then the month passes before he is forgiven, due to his negligence in performing acts of obedience. Third: The man whose parents reached old age with him, yet they were not a cause for him to enter Paradise due to his undutifulness and negligence in fulfilling their rights.