صحیح مسلم
Sahih Muslim

اب تمہارا خرچ اس کے ذمے نہیں۔

Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc

Reference حوالہ
6020Sahih صحیح
عن فاطمة بنت قيس- رضي الله عنها- «أن أبا عمرو بن حفص طلقها البَتَّةَ، وهو غائب (وفي رواية: "طلقها ثلاثا")، فأرسل إليها وكيله بشعير، فسخطته. فقال: والله ما لك علينا من شيء. فجاءت رسول الله صلى الله عليه وسلم فذكرت ذلك له، فقال: ليس لك عليه نفقة (وفي لفظ: "ولا سكنى") فأمرها أن تَعْتَدَّ في بيت أم شريك؛ ثم قال: تلك امرأة يَغْشَاهَا أصحابي؛ اعتدي عند ابن أم مكتوم. فإنه رجل أعمى تضعين ثيابك، فإذا حَلَلْتِ فآذِنِيني.
قالت: فلما حللت ذكرت له: أن معاوية بن أبي سفيان وأبا جهم خطباني. فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : أما أبو جهم: فلا يَضَعُ عصاه عن عاتقه. وأما معاوية: فصعلوك لا مال له. انكحي أسامة بن زيد. فكرهته ثم قال: انكحي أسامة بن زيد. فنكحته، فجعل الله فيه خيرا، واغْتَبَطْتُ به».
فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ابو عمرو بن حفص نے انہیں طلاق بتّہ ( تیسری طلاق) دے دی، اور وہ خود غیر حاضر تھے، (اور ایک روایت میں ہے کہ انھوں نے تین طلاقیں دے دیں) ان کے وکیل نے ان کی طرف سے کچھ جَو بھیجے، تو وہ اس پر ناراض ہوئیں، اس (وکیل) نے کہا : اللہ کی قسم ! تمہارا ہم پر کوئی حق نہیں۔ وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئیں، اور یہ بات آپ کو بتائی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اب تمہارا خرچ اس کے ذمے نہیں“۔ اور آپ ﷺ نے انہیں حکم دیا کہ وہ ام شریک رضی اللہ عنہا کے گھر میں عدت گزاریں، پھر فرمایا: ”اس عورت کے پاس میرے صحابہ آتے جاتے ہیں، تم ابن مکتوم رضی اللہ عنہ کے ہاں عدت گزار لو، وہ نابینا آدمی ہیں، تم اپنے کپڑے بھی اتار سکتی ہو۔ تم جب عدت گزار لو تو مجھے بتانا۔“ جب میں (عدت سے) فارغ ہوئی، تو میں نے آپ ﷺ سے بتایا کہ معاویہ بن ابی سفیان اور ابوجہم رضی اللہ عنہم دونوں نے مجھے نکاح کا پیغام بھیجا ہے۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ابوجہم تو اپنے کندھے سے لاٹھی نہیں اتارتے، اور رہے معاویہ تو وہ بہت فقیر ہیں، اس کے پاس کوئی مال نہیں، تم اسامہ بن زید سے نکاح کرلو“۔ میں نے اسے ناپسند کیا، آپ ﷺ نے پھر فرمایا: ”اسامہ سے نکاح کرلو“۔ تو میں نے ان سے نکاح کرلیا، اللہ نے اس میں خیر ڈال دی اور اس کی وجہ سے مجھ پر رشک کیا جانے لگا۔
— HadeethEnc اردو ترجمہ
Fātimah bint Qays (may Allah be pleased with her) reported that Abu ‘Amr ibn Hafs divorced her irrevocably, while he was not present (and in another narration: “divorced her thrice”). He sent some barley to her with his representative and she was displeased with it. So he said: “By Allah, you are not entitled to receive anything from me.” She came to the Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him) and mentioned that to him. He said: “No financial maintenance is due to you upon him. (In another narration: 'or accommodation’)” Then the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) ordered her to observe her ‘Iddah (post-divorce waiting period) in the house of Umm Sharīk; then he said: “This is a woman whom my Companions frequently visit, so observe your ‘Iddah at the house of Ibn Umm Maktūm. He is a blind man and you can disrobe in his house. Then when you complete your ‘Iddah, inform me.” She said: “When I completed my ‘Iddah, I mentioned to him that both Mu‘āwiyah ibn Abu Sufyān and Abu Jahm proposed to me. Thereupon, the Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him) said: ‘As for Abu Jahm, he never takes his stick off his shoulder, and as for Mu‘āwiyah, he is destitute and penniless. Marry Usāmah ibn Zayd,’” whom she disliked. Then he said: “Marry Usāmah ibn Zayd.” Fātimah said: “So I married him and Allah placed a lot of good in him, and I was pleased with him.”
— HadeethEnc English translation

Reference حوالہ

1Source book اصل کتاب
صحیح مسلمSahih Muslim
Original wording: اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔
2Grade درجہ
Sahih صحیح
Authentic: reliable chain and text
مستند: سند اور متن دونوں درست
Graded by: HadeethEnc scholars
درجہ: HadeethEnc کے علماء
3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadiths
ترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
4Hadith ID نمبر
HadeethEnc #6020

نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.

Explanation تشریح

ابو عمرو بن حفص رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی فاطمۃ بنت قیسرضی اللہ عنہا کو طلاقِ بتّہ دی، یہ ان کی طرف سے اپنی بیوی کو آخری طلاق تھی۔ اور مبتوتہ (جس عورت کو شوہر نے طلاقِ بتّۃ دی ہو) کے لیے شوہر پر نفقہ واجب نہیں ہوتا، پھر بھی ابوعمرو رضی اللہ عنہ نے ان کے لیے جَو بھیجا، فاطمہ رضی اللہ عنہا کا خیال تھا کہ عدت کے دوران ابو عمرو پر ان کا نفقہ واجب ہے، اس لیے انہوں نے اس جَو کو کم سمجھا اور ناپسند کیا۔ وکیل نے قسم کھائی ہم پر آپ کا کوئی حق لازم نہیں ہے۔
چنانچہ انھوں نے اس کی شکایت رسول اللہ ﷺ سے کی تو آپ ﷺ نے انہیں بتایا کہ ابو عمرو پر تمہارا نہ تو نفقہ (خرچ) ہے اور نہ ہی رہائش کی ذمہ داری ہے، اور انہیں حکم دیا کہ وہ ام شریک کے گھر میں عدت گزاریں۔
جب نبی ﷺ کو یہ بات یاد آئی کہ ام شریک کے یہاں تو صحابہ کا آنا جانا لگا رہتا ہے تو انہیں ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کے یہاں عدت گزارنے کو کہا کیوں کہ وہ نابینا ہیں، ان کا اپنے کپڑے نکال رکھنے کو نہیں دیکھیں گے، اور انہیں یہ حکم دیا کہ عدت کے ختم ہوجانے پر آپ ﷺ کو خبر دیں۔
جب انھوں نے اپنی عدت گزار لی تو معاویہ اور اور ابو جہم رضی اللہ عنہما نے انھیں نکاح کا پیغام بھیجا چنانچہ انھوں نے نبی ﷺ سے اس کے متعلق مشورہ کیا۔ چوں کہ جس سے مشورہ لیا جائے اُسے مشورہ لینے کے حق میں خیر خواہ ہونا چاہیے اس لیے آپ ﷺ نے دونوں میں کسی سے بھی شادی کرنے کا مشورہ نہیں دیا اس لیے ابوجہم عورتوں پر بہت سخت گیر تھے اور معاویہ رضی اللہ عنہ فقیر تھے اُن کے پاس مال نہیں تھا، اس لیے آپ ﷺ نے انھیں اسامہ سے نکاح کرنے کا مشورہ دیا جسے پہلی دفعہ انھوں نے ناپسند کیا، اس لیے کہ اسامہ ایک آزاد کردہ غلام تھے، تاہم انھوں نے نبی ﷺ کا حکم مانتے ہوئے اس رشتے کو بالآخر منظور کر لیا، جس کی برکت کے نتیجہ میں (لوگ) ان پر رشک کرنے لگے، اور اللہ تعالی نے ان (کے نکاح) میں خیرِ کثیر رکھ دیا۔

Explanation

Abu ‘Amr ibn Hafs divorced his wife Fātimah bint Qays irrevocably, and it was the third and last time to divorce her. The woman who is irrevocably divorced has no right to receive financial maintenance from her husband, yet he sent her some barley. She thought that as long as she was in her post-divorce waiting period ‘Iddah, her maintenance was due to her upon him, so she thought the barley was too little and hated it. He, thus, swore that nothing was due to her upon him. She complained about this to the Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him) and he informed her that he was not obliged to provide for her or provide her with accommodation. Then he ordered her to spend her ‘Iddah in the house of Umm Sharīk. When he remembered that the Companions frequently visit the house of Umm Sharīk, he ordered Fātimah to spend her ‘Iddah at the house of Ibn Umm Maktūm, because he was a blind man and would not see her when she would take off her clothes. He ordered her to inform him when her ‘Iddah would be over. When she completed her ‘Iddah, both Mu‘āwiyah and Abu Jahm proposed to her, so she consulted the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him). As sincere advice is mandatory – especially for the one who seeks counsel – the, Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) did not advise her to marry any of them, since Abu Jahm was harsh with women and Mu‘āwiyah was poor and penniless. Instead, he ordered her to marry Usāmah, but she disliked that because he was a freed slave. However, she obeyed the command of the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) and accepted Usāmah. She was pleased with him, and Allah placed a great deal of good in him.

Topics موضوعات