پھر مجھے گواہ نہ بناؤ، میں ظلم کے کام پر گواہ نہیں بنتا۔
Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc
وفي لفظ: «فلا تُشْهدني إذًا؛ فإني لا أشهد على جَوْرٍ».
وفي لفظ: «فأشهد على هذا غيري».
ایک اور حدیث کے الفاظ یہ ہیں: پھر مجھے گواہ نہ بناؤ، میں ظلم پر گواہ نہیں بنتا۔
ایک اور حدیث کے الفاظ یہ ہیں: پھر اس پر میرے علاوہ کسی اور کو گواہ بنا لو۔
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- صحیح بخاریSahih al-Bukhariصحیح مسلمSahih MuslimOriginal wording: متعدد روایات کے ساتھ یہ حدیث متفق علیہ ہے۔
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #6035Sahih al-Bukhari & Sahih Muslim (HadeethEnc 6035)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
نعمان بن بشیر انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ان کے والد نے بطورِ خاص انہیں اپنا کچھ مال دیا۔ ان کی والدہ یہ چاہتی تھیں کہ نبی ﷺ کی گواہی کے ذریعے اس کی تاکید کرالیں چنانچہ ان کی والدہ نے ان کے والد سے مطالبہ کیا کہ وہ اس ہبہ شدہ مال پر نبی ﷺ کو گواہ بنائیں۔
چنانچہ جب ان کے والد انہیں لے کر نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تاکہ آپ ﷺ اس کے گواہ بن جائیں تو آپﷺ نے ان سے پوچھا: کیا تم نے اس طرح کا ہبہ اپنی ساری اولاد کو کیا ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ نہیں۔
اولاد میں سے کچھ کو خاص کر لینا اور باقی کو چھوڑ دینا یا پھر انہیں ایک دوسرے پر فضیلت دینا تقوی کے منافی رویہ ہے اور زیادتی اور ظلم ہے کیونکہ اس میں بہت سے مفاسد مضمر ہیں۔ اس کی وجہ سے جس اولاد پر دوسروں کو ترجیح دی گئی ہوتی ان کی اپنے باپ سے قطع تعلقی ہو جاتی ہے اور وہ اس سے دور ہو جاتے ہیں اور ان کے جن بھائیوں کو ان پر ترجیح دی گئی ہوتی ہے ان سے ان کی دشمنی اور نفرت پیدا ہو جاتی ہے۔
یہ کچھ ایسے مفاسد ہیں (جو اس طرح کی بے انصافی سے جنم لیتے ہیں)۔ اس وجہ سے نبی ﷺ نے ان سے فرمایا: اللہ سے ڈرو اور اپنی اولاد کے مابین عدل کرو اور مجھے ظلم و جور کے کام پر گواہ نہ بناؤ۔آپ ﷺ نے یہ کہتے ہوئے اس عمل پر ان کی توبیخ کی اور انہیں اس سے نفرت دلائی کہ اس کام پر میرے علاوہ کسی اور کو گواہ بنا لو۔بشیر رضی اللہ عنہ نے لوٹتے ہی وہ ہبہ شدہ مال واپس لے لیا جیسا کہ صحابہ کرام کا طرز عمل ہوا کرتا تھا کہ وہ اللہ کی قائم کردہ حدود کی پاسداری کیا کرتے تھے۔
Explanation
An-Nu‘mān ibn Bashīr (may Allah be pleased with him and his father) reported that his mother, ‘Amrah bint Rawāhah (may Allah be pleased with her), asked his father for a portion of his wealth as a gift for her son. He hesitated and delayed it for a year, but then he decided to respond to her request and give the gift to his son, an-Nu‘mān. She said: I will not be satisfied until you have the Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him) witness what you have given as a gift to my son. So, my father took my hand, and I was a young boy at that time, and he went to the Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him) and said: O Messenger of Allah, the mother of this, Bint Rawāhah, wishes for you to witness what I have given as a gift to her son. He (may Allah's peace and blessings be upon him) said: O Bashīr, do you have children other than this one? He said: Yes. He then said: Have you given them all the same gift as this? He said: No. He said: Then do not make me a witness, for I do not bear witness to injustice and oppression. And in the version of Muslim, he said to him reproachfully: Then have someone else witness it, not me.