رسول اللہ ﷺ نے صاحبِ عریہ کو اس کی اجازت دی کہ اپنا عریہ اس کے اندازے سے برابر میوے کے بدلے میں بیچ ڈالے۔
Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc
ولمسلم: «بخرصها تمرا، يأكلونها رُطَبَاً».
صحیح مسلم کی روایت کے الفاظ ہیں ”بِخَرْصِهَا تَمْرًا يَأْكُلُونَهَا رُطَبًا“ یعنی اندازے سے خشک کھجور دے کر کھانے کے لیے تازہ کھجوریں حاصل کرلیں۔
Another narration by Imām Muslim reads: "...for dry dates by estimation and the new owners might eat their dates fresh."
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- صحیح بخاریSahih al-Bukhariصحیح مسلمSahih MuslimOriginal wording: متفق علیہ
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #6043Sahih al-Bukhari & Sahih Muslim (HadeethEnc 6043)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
درخت پر لگے تازہ کھجوروں کے بدلے تازہ کھجوروں کی بیع حرام ہے، اسے ’مزابنہ‘ کہتے ہیں۔ اس لیے کہ اس میں طرفَین سے سودی اشیاء (وہ اشیاء جن میں سود کا حکم ہوتا ہے، جیسے سونا، چاندی وغیرہ) کی (مقدار میں) برابر ہونے میں جہالت پائی جاتی ہے۔ لیکن بیع عرایا کو شریعت نے اس (حکم) سے مستثنی قرار دیا ہے، بیع عرایا یہ ہے کہ درخت پر موجود تازہ کھجوروں کے عوض خشک کھجور دیے جائیں، اس کی کچھ شرطیں ہیں جیسے اس کی مقدار پانچ وسق سے کم ہو وغیرہ۔
پہلے زمانے میں درہم و دینار کی طرح رقم کم ہوتی تھی۔ کھجور پکنے کا زمانہ آتا، مدینہ کے لوگوں کو اس کی ضرورت ہوتی تھی، لیکن ان کے پاس یہ خریدنے کے لیے نقد رقم نہیں ہوتی تھی۔ اسی لیے آپ ﷺ نے خشک کھجوروں کے بدلے تر کھجوریں کھانے کی اجازت دی، جب کہ وہ طرفَین سے برابری کو ملحوظ رکھے یعنی اگر درخت کے کھجور سوکھ جائیں تو کتنے ہوں گے۔ اس کو خرص یعنی اندازہ کہتے ہیں۔ ’بیع عرايا‘، ’بیع مزابنہ‘ کی حرمت سے مستثنیٰ ہے۔
Explanation
Selling dates on the trees for dry dates is forbidden. This transaction is called Al-Muzābanah that is prohibited because the weight of the dates, which is required to be equal in goods subject to rulings of usury, is not known. Currencies like dinars and dirhams were scarce in the past. Sometimes seasons of the fresh ripe dates would arrive, and people in Madīnah need to eat them; yet, they did not have the money to purchase them. Therefore, it was made permissible for them to purchase some ripe dates to eat in exchange for dry dates by estimation, taking into consideration that they should be approximately equal in amount were the dates on the trees to become dry. This kind of Al-‘Ariyyah transaction was an exception to the rule of prohibition applicable to Al-Muzābanah.