عدت کے بارے میں سُبیعہ اسلمیہ رضی اللہ عنہا کی حدیث۔
Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc
فلما تعلت من نفاسها؛ تجملت للخطاب، فدخل عليها أبو السنابل بن بعكك -رجل من بني عبد الدار- فقال لها: ما لي أراك متجملة؟ لعلك ترجين النكاح؟ والله ما أنت بناكح حتى يمر عليك أربعة أشهر وعشر.
قالت سبيعة: فلما قال لي ذلك: جمعت علي ثيابي حين أمسيت، فأتيت رسول صلى الله عليه وسلم فسألته عن ذلك؟ فأفتاني بأني قد حللت حين وضعت حملي، وأمرني بالتزويج إن بدا لي».
وقال ابن شهاب: ولا أرى بأسا أن تتزوج حين وضعت -وإن كانت في دمها-، غير أنه لايقربها زوجها حتى تطهر.
جب وہ اپنی مدتِ نفاس سے فارغ ہو گئیں تو انہوں نے شادی کے پیغامات آنے کے خیال سے بناؤ سنگھار کیا (اور زیب وزینت کے ساتھ رہنے لگیں)۔ ان کے پاس قبیلۂ بنی عبد الدار کے ایک آدمی ابو سنابل بن بعکک (رضی الله عنہ) آئے اور کہنے لگے: کیا بات ہے میں تمہیں بنی سنوری دیکھ رہاں ہوں؟ لگتا ہے تم شادی کرنا چاہ رہی ہو؟ اللہ کی قسم! تم اس وقت تک نکاح نہیں کر سکتى جب تک کہ چار مہینہ دس دن (كى عدت) مکمل نہ ہو جائے۔
سبیعہ رضی الله عنہا کہتی ہیں: جب انہوں نے مجھے ایسی بات کہی تو شام کے وقت میں اپنے کپڑے اوڑھ کر رسول اللہ ﷺ کے پاس گئی اور آپ ﷺ سے اس بارے میں دریافت کیا تو آپ ﷺ نے مجھے فتوی دیا کہ: جس وقت میں نے بچہ جنا تھا اسی وقت سے میں حلال ہو چکی ہوں اور آپ ﷺ نے مجھے فرمایا کہ اگر چاہوں تو شادی کرلوں۔‘‘
ابن شہاب رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتا کہ وہ بچہ جننے کے (فوراً) بعد شادی کر لے، اگرچہ اس کا خون ابھی جاری ہی کیوں نہ ہو۔ لیکن نفاس سے پاک ہونے سے پہلے اس کا شوہر اس کے قریب نہیں جائے گا۔
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- صحیح بخاریSahih al-Bukhariصحیح مسلمSahih MuslimOriginal wording: متفق علیہ
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #6046Sahih al-Bukhari & Sahih Muslim (HadeethEnc 6046)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
سعد بن خولہ رضی اللہ عنہ وفات پاگئے جب کہ ان کی بیوی سبیعہ اسلمیہ رضی اللہ عنہا حاملہ تھیں۔ زیادہ عرصہ نہ گزرا کہ انہوں نے اپنے بچے کو جن دیا۔
جب وہ اپنے نفاس سے پاک ہو گئیں تو انہوں نے بناؤ سنگھار کیا۔ انہیں علم تھا کہ وضع حمل کے ساتھ ہی وہ اپنی عدت سے نکل چکی ہیں اور ان کے لیے دوسرے مردوں سے شادی کرنا جائز ہو گیا ہے۔
ایسے میں ابو السنابل رضی اللہ عنہ ان کے پاس آئے۔ انہیں بنی سنوری دیکھ کر وہ سمجھ گئے کہ وہ شادی کا پیغام بھیجنے والوں کے لئے تیاری كی ہوئی ہیں۔ انہوں نے اپنے اس خیال کی بنیاد پر ان کے اس عمل پر ناپسندیدگی کا اظہار کیا کہ ان کی عدت ابھی ختم نہیں ہوئی اور انھوں نے قسم کھا کر کہا کہ ان کے لیے چار ماہ دس دن گزرنے سے پہلے نکاح کرنا جائز نہیں ہے کیونکہ اللہ تعالی کا فرمان ہے: ﴿وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنكُمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَاجًا يَتَرَبَّصْنَ بِأَنفُسِهِنَّ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا﴾ ”تم میں سے جو لوگ فوت ہوجائیں اور بیویاں چھوڑ جائیں، وه عورتیں اپنے آپ کو چار مہینے اور دس (دن) عدت میں رکھیں“۔ سبیعہ اسلمیہ رضی اللہ عنہا کو اپنے علم کی صحت پر یقین نہیں تھا، جب کہ اس آنے والے شخص نے اپنی بات کی تاکید قسم اٹھا کر کی تھی۔
چنانچہ وہ نبی صلی اللہ عليہ وسلم ﷺ کے پاس آئیں اور آپ ﷺ سے اس بارے میں دریافت کیا۔ آپ ﷺ نے انہیں فتوی دیا کہ وہ وضع حمل کے ساتھ ہی شادی کے لیے حلال ہو گئی تھیں۔ لھٰذا اگر وہ شادی کرنا چاہیں تو ان کو اجازت ہے، کیونکہ اللہ تعالی کا فرمان ہے: ﴿وَأولاتُ الأحمال أجلُهُن أن يضَعْنَ حَمْلَهُن﴾ ”اور حاملہ عورتوں کی عدت ان کے وضع حمل ہے“۔
چنانچہ جس عورت کا خاوند فوت ہو جائے اور وہ حاملہ ہو اس کی عدت بچہ جننے کے ساتھ ختم ہوجاتی ہے اور اگر وہ حاملہ نہ ہو تو پھر اس کی عدت چار ماہ اور دس دن ہے۔
Explanation
Sa‘d ibn Khawlah (may Allah be pleased with him) died leaving behind his wife Subay‘ah al-Aslamiyyah who was pregnant at the time. Soon after his death she gave birth. Once she became pure from her post-natal bleeding, and knowing that her ‘Iddah was over with the childbirth and that it was permissible for her to marry, she adorned and beautified herself. Abu As-Sanābil entered upon her as she was thus beautified and adorned, and realized that she had done so in order to appeal to the suitors. So, he swore by Allah, based upon his knowledge at that time, that it was not permissible for her to marry unless four months and ten days had passed after the death of her husband, based upon Allah's statement in the Qur'an: {And those who are taken in death among you and leave wives behind – they (the wives, shall) wait four months and ten (days)} [Sūrat al-Baqarah : 234]. As Subay‘ah was uncertain about the knowledge she had of this issue, and Abu As-Sanābil affirmed his claim by swearing by Allah, she went to the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) and asked him about it. The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) gave her a religious verdict stating that it was permissible for her to marry as soon as she gave birth. If she wished to marry, then she was entitled to it, based on Allah's words in the Qur'an: {And for those who are pregnant, their term is until they give birth} [Sūrat At-Talāq: 4]. Hence, the woman whose husband died while she is pregnant, her waiting period ends when she delivers her child, and the woman who is not pregnant, her waiting period is four months and ten days.