دو آدمیوں کا کھانا تین آدمیوں کے لیے اور تین کا کھانا چار کے لیے کافی ہوتا ہے۔
Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc
وفي رواية لمسلم عن جابر رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: "طعام الواحد يكفي الاثنين، وطعام الاثنين يكفي الأربعة، وطعام الأربعة يكفي الثمانية".
صحیح مسلم کی حدیث میں جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کی نبی ﷺ نے فرمایا: ”ایک آدمی کا کھانا دو کے لیے، دو کا کھانا چار کے لیے اور چار کا کھانا آٹھ آدمیوں کے لیے کافی ہوتا ہے“۔
In Muslim's narration, Jābir (may Allah be pleased with him) reported that the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) said: "Food for one person suffices for two, and food for two persons suffices for four, and food for four persons suffices for eight."
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- صحیح بخاریSahih al-Bukhariصحیح مسلمSahih MuslimOriginal wording: اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔ - متفق علیہ
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #6057Sahih al-Bukhari & Sahih Muslim (HadeethEnc 6057)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
حدیث میں کھانے کے معاملے میں ایک دوسرے سے ہمدردی کرنے کی ترغیب دی گئی ہے اور اس بات کا بیان ہے کہ کھانا اگرچہ کم ہی کیوں نہ ہو یہ پورا آجاتا ہے اور اس میں ایسی برکت پیدا ہوجاتی ہے جس سے سب حاضرین بہرہ مند ہوتے ہیں۔ یہ نبی ﷺ کی طرف سے ایثار کی ترغیب ہے۔ یعنی اگر آپ اپنا کھانا لائیں جس کے بارے میں آپ کا خیال ہو کہ وہ آپ کے لیے کافی ہے اور اسی اثناء میں کوئی اور آدمی آجائے تو بخل سے کام نہ لیں کہ یوں سوچنے لگ جائیں کہ یہ صرف میرا کھانا ہے بلکہ اسے بھی اس کھانے میں شریک کرلیں جو دونوں کے لیے کافی ہوجائے گا۔
Explanation
The Hadīth urges Muslims to share food. Even if it is a small amount, the desired sufficiency will still be attained, and blessing will fall upon it and thus showers all those sharing in it. It is also an encouragement from the Prophet, may peace and blessings be upon him, towards altruism. That is to say, if you have some food that, in your estimation, shall be enough for you only, and another person comes, do not be stingy and say this food is mine alone. Rather, give him some of it as it will suffice for two persons.