جس نے تین بار یہ دعا پڑھی : ” بِسْمِ اللَّهِ الَّذِي لَا يَضُرُّ مَعَ اسْمِهِ شَيْءٌ، فِي الْأَرْضِ، وَلَا…
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- سنن ابو داؤدSunan Abi Dawudجامع ترمذیJami' at-Tirmidhiسنن نسائیSunan an-Nasa'iسنن ابن ماجہSunan Ibn Majahمسند احمدMusnad AhmadOriginal wording: رواه أبو داود والترمذي والنسائي في الكبرى وابن ماجه وأحمد
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #6093Sunan Abi Dawud & Jami' at-Tirmidhi & Sunan an-Nasa'i & Sunan Ibn Majah & Musnad Ahmad (HadeethEnc 6093)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
جس نے ہر دن صبح فجر طلوع ہونے کے بعد اور ہر دن شام کو سورج ڈوبنے سے پہلے تین بار یہ دعا پڑھی : "بِسْمِ اللَّهِ الَّذِي لَا يَضُرُّ مَعَ اسْمِهِ شَيْءٌ، فِي الْأَرْضِ، وَلَا فِي السَّمَاءِ، وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ"۔ میں اس اللہ کی مدد لیتا اور ہر اذیت ناک چیز سے اس کی حفاظت میں جاتا ہوں، جس کا نام لے لینے کے بعد کوئی بڑی سے بڑی چيز، زمین سے نکلنے والی بلا ہو کہ آسمان سے اترنے والی مصیبت، نقصان نہیں پہنچاتی۔ وہ ہماری باتوں کو سننے والا اور ہمارے حالات کی خبر رکھنے والا ہے۔
شام کے وقت پڑھنے کی صورت میں اسے صبح تک کوئی چیز اچانک نقصان نہيں پہنچائے گی اور صبح کے وقت پڑھنے کی صورت میں کوئی چیز شام تک اچانک نقصان نہيں پہنچائے گی۔
چنانچہ راوی حدیث ابان بن عثمان پر فالج کا حملہ ہو گیا۔ فالج ایک بیماری ہے، جس میں بدن کا ایک جانب ڈھیلا پڑ جاتا ہے۔ لہذا ان سے حدیث سننے والا شخص تعجب سے ان کی جانب دیکھنے لگا، تو انھوں نے اس شخص سے کہا : بات کیا ہے کہ تم میری جانب دیکھے جا رہے ہو؟ اللہ کی قسم! نہ میں نے عثمان کی جانب منسوب کر کے جھوٹی حدیث سنائی ہے اور نہ عثمان نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی جانب منسوب کر کے جھوٹی حدیث سنائی ہے۔ دراصل جس دن مجھ پر فالج کا حملہ ہوا، اس دن میں یہ دعا پڑھ نہيں سکا تھا۔ میں اس دن غصے کا شکار ہو گیا تھا اور مذکورہ دعا کو پڑھنا بھول گیا تھا۔
حدیث کے فوائد
- صبح و شام اس ذکر کو پڑھنا مستحب ہے۔ اسے پڑھ لینے کے بعد انسان کسی بلا و مصیبت کے ناگہانی حملے سے محفوظ ہو جاتا ہے۔
- عہد اول کے سلف کا اللہ پر پختہ یقین اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی باتوں کی تصدیق۔
- صبح وشام ذکر کرنے کا ایک فائدہ یہ ہے کہ انسان کی غفلت ختم ہو جاتی ہے اور ہمیشہ ذہن میں رہتا ہے کہ وہ اللہ کا بندہ ہے۔
- ذکر کا اثر اتنا ہی دکھتا ہے، جتنا ذکر کرنے والے کے اندر اللہ پر ایمان، خشوع، حضور قلب اور اخلاص و یقین ہو۔
Explanation
The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) clarified that whoever says three times every morning, after the break of dawn, and every evening, before sunset: (In the name of Allah with Whose name) I seek help and protection against whatever is harmful that can cause no harm no matter how great it is along with mentioning His name, (in the earth) and the afflictions coming thereof (and the heaven) and the afflictions descending therefrom, (and He is the All-Hearing) of what we say (the All-Knowing) of our conditions.
Whoever says it in the evening will not be overtaken by calamity until the morning comes, and whoever says it in the morning will not be overtaken by calamity until the evening comes.
The Hadīth narrator, Abān ibn ‘Uthmān, was then afflicted with paralysis, i.e., loss of control over one half of the body, so the man who heard the Hadīth from him kept looking at Abān in wonder. Thereupon, Abān said to the man: Why are you looking at me?! By Allah, I did not tell a lie about 'Uthmān, nor did ‘Uthmān tell a lie about the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him). However, that day when I was afflicted by this, Allah did not decree for me to say it; I got angry, and I forgot to say the aforementioned words.