یہ کہا کرو: ”لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، اللَّهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا وَالْحَمْدُ…
Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- صحیح مسلمSahih MuslimOriginal wording: رواه مسلم
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #6112Sahih Muslim (HadeethEnc 6112)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
دیہات سے آئے ہوئے ایک شخص نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں عرض کیا کہ آپ انھیں ایک ذکر سکھا دیں، جسے وہ پڑھا کریں۔ تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے اس سے کہا: تم کہو : "لا إله إلا الله وحده لا شريك له" آپ نے آغاز توحید کی گواہی سے کیا۔ اس کا معنی یہ ہے کہ اللہ کے علاوہ کوئی برحق معبود نہيں ہے۔ "الله أكبر كبيرًا" یعنی اللہ ہر چيز سے بڑا اور عظیم ہے۔ "والحمد لله كثيرًا" یعنی اللہ کی بہت زیادہ تعریف ہے، اس کی صفات وافعال اور اس کى بے شمار نعمتوں پر۔ "سبحان الله رب العالمين" یعنی اللہ تعالى ہر طرح کی کمی سے پاک اور منزہ ہے۔ "لا حول ولا قوة إلا بالله العزيز الحكيم" یعنی ایک حال سے دوسرے حال میں جانا اللہ کی مدد اور توفیق کے بغیر ممکن نہيں ہے۔ اس شخص نے کہا : یہ کلمات میرے رب کے لیے ہیں۔ یعنی اس کے ذکر اور تعظیم کے لیے ہیں۔ میں اپنے لیے دعا کن الفاظ میں کروں؟ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے ان سے کہا : تم کہو : "اللهم اغفر لي" یعنی میرے گناہوں کو مٹا دے اور ان پر پردہ ڈال دے۔ "وارحمني" یعنی میرے دینی اور دنیوی مصالح اور منافع کو بہم پہونچا کر مجھ پر رحم کر۔ "واهدني" یعنی بہتر احوال اور صراط مستقیم کی طرف میری رہنمائی فرما۔ "وارزقني" یعنی مجھے حلال مال، صحت اور ہر خیر و عافیت سے نواز۔
حدیث کے فوائد
- تہلیل، تکبیر، تحمید اور تسبیح کے ذریعے اللہ کا ذکر کرنے کی ترغیب۔
- دعا سے پہلے اللہ کا ذکر اور اس کی تعریف کرنا مستحب ہے۔
- مستحب یہ ہے کہ انسان بہترین دعاؤں کے ذریعے اللہ سے دعا مانگے۔ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے منقول ایسی جامع دعاؤں کا انتخاب کرے جو دنیا اور آخرت کی بھلائی پر مشتمل ہوں۔ انسان کو یہ اختیار ہے کہ وہ جو دعا چاہے، کرے۔
- بندے کو ایسی چيزیں سیکھنے کی کوشش کرنی چاہیے، جو دنیا اور آخرت میں اس کے حق میں مفید ہوں۔
- مغفرت، رحمت اور روزی طلب کرنے کی ترغیب۔ کیوں کہ یہ خیر کے سرچشمے ہیں۔
- اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ کی جانب سے اس بات کی کوشش کہ امت کو ایسی باتیں سکھائی جائيں، جو اس کے حق میں مفید ہوں۔
- رحمت کا ذکر مغفرت کے بعد اس لیے ہوا ہے کہ تطہیر کا کام مکمل طور پر ہو سکے۔ کیوں کہ مغفرت گناہوں پر پردہ ڈال دیے جانے، ان کو مٹا دیے جانے اور جہنم سے بچا لیے جانے کا نام ہے، جب کہ رحمت مختلف طرح کی خیر سے بہرہ ور کیے جانے اور جنت میں داخلے کی سعادت عطا ہونے کا نام ہے اور یہی سب سے بڑی کامیابی ہے۔
Explanation
A man from the Bedouin asked the Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him) to teach him a Dhikr (remembrance of Allah) to say. So, the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) said to him: Say: "There is no god but Allah, alone with no partner," starting with the testimony of monotheism, which means that no deity is truly worthy of worship except Allah. "Allah is the Greatest with all greatness," i.e., Allah is greater and more magnificent than everything. "And abundant praise is due to Allah," i.e., abundant praise is due to Allah for His attributes, acts, and countless favors. "Allah, the Lord of the worlds, is exalted above imperfection," i.e., He is exalted and far above deficiency. "There is no might nor power except with Allah, the Mighty and the All-Wise," i.e., there is no change from one state to another except through Allah, His assistance and guidance. The man said: Those words are for my Lord to remember and extoll Him, what supplication should I say for myself? So, the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) said to him: Say: "O Allah forgive me" by erasing and concealing my sins. "And have mercy upon me" by conveying religious and worldly interests and benefits to me. "And guide me" to the best of states and to the straight path. "And give me provision" represented in lawful gains, health, and every kind of goodness and well-being.