Sahih al-Bukhari · Sahih Muslim صحیح بخاری · صحیح مسلم

مالدار شخص كا (قرض كی ادائیگی میں) ٹال مٹول کرنا ظلم ہے اور اگر تم میں سے کسی کو (قرض کی وصولی کے لیے) کسی…

عن أبي هريرة رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «مَطْلُ الغني ظلم، وإذا أُتْبِعَ أحدكم على مَلِيءٍ فَلْيَتْبَعْ».
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مالدار شخص كا (قرض كی ادائیگی میں) ٹال مٹول کرنا ظلم ہے اور اگر تم میں سے کسی کو (قرض کی وصولی کے لیے) کسی مالدار شخص کی طرف منتقل کر دیا جائے تو اسے چاہیے کہ وہ اس منتقلی کو قبول کر لے“۔
Abu Hurayrah (may Allah be pleased with him) reported that the Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him) said: "Procrastination in payment of a debt by a rich man is injustice, but when one of you is referred for payment to a wealthy man, let him be referred."

Reference حوالہ

1Source book اصل کتاب
صحیح بخاریSahih al-Bukhariصحیح مسلمSahih Muslim
Original wording: متفق علیہ
2Grade درجہ
Sahih صحیح
Authentic: reliable chain and text
مستند: سند اور متن دونوں درست
Graded by: HadeethEnc scholars
درجہ: HadeethEnc کے علماء
3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadiths
ترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
4Hadith ID نمبر
HadeethEnc #6141

نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.

Explanation تشریح

اس حدیث شریف میں اچھے انداز سے باہمی معاملہ کرنے کے آداب میں سے ایک ادب کی تعلیم دی گئی ہے۔ نبی ﷺ قرض دار کو حکم دے رہے ہیں کہ وہ اچھے انداز میں قرض کی ادائیگی کرے اور قرض خواہ کو تلقین فرما رہے ہیں کہ وہ اچھے انداز میں قرض کا مطالبہ کرے۔
نبی ﷺ نے وضاحت فرمائی کہ قرض خواہ جب قرض کا مطالبہ کرے یا پھر اشارے کنائے یا قرینہ سے معلوم ہو کہ وہ قرض کی ادائیگی چاہ رہا ہے تو اس صورت میں اس مالدار شخص کا ٹال مٹول کرنا جو قرض کی ادائیگی کی قدرت رکھتا ہے سرا سر اس قرض خواہ کے ساتھ ظلم ہے اور بلا عذر اس کی حق کی ادائیگی میں آڑے آنا ہے۔
یہ ظلم اس وقت ختم ہو جاتا ہے جب قرض دار، اپنے قرض خواہ کو کسی ایسے مال دار آدمی کی طرف منتقل کر دے جس سے اپنا حق وصول کرنا اس کے لیے آسان ہو۔ اس صورت میں قرض خواہ کو چاہیے کہ وہ اس منتقلی کو قبول کر لے۔ یہ اس کی طرف سے حسن تقاضا ہے اور اس میں قرض کی ادائیگی میں بھی آسانی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ اس سے وہ ظلم بھی دور ہو رہا ہے جو ٹال مٹول کرنے والے قرض دار کے ذمہ قرض باقی رہنے کی وجہ سے ہوتا۔

Explanation

This Hadīth guides to one of the manners of kind treatment.
In this Hadīth, the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) orders the debtor to pay the debt kindly and advises the creditor to request what is his kindly as well.
The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) clarified that if the creditor demanded his money, or his demand was understood from a sign or a hint, then delaying his right on the part of the wealthy debtor – who can afford to pay his debt – would be considered injustice because the debtor, in this case, would be holding back the creditor's right without an excuse.
Such injustice would be alleviated in case the debtor transfers his creditor to another debtor who can pay him the debt easily. At that point, the creditor is advised to accept that transfer. The acceptance would be an expression of polite demand of the debt as well as an easier means to take his money; not to mention that injustice, which would have continued had the debt remained in the procrastinator's liability, would be alleviated.

Topics موضوعات