رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سب سے زیادہ سخی انسان تھے اور آپ سب سے زیادہ سخی رمضان میں ہوا کرتے تھے، جب…
Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- صحیح بخاریSahih al-Bukhariصحیح مسلمSahih MuslimOriginal wording: متفق عليه
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #6179Sahih al-Bukhari & Sahih Muslim (HadeethEnc 6179)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سب سے سخی انسان تھے اور آپ کی سخاوت کو ماہ رمضان میں اور زیادہ جلا مل جاتی تھی۔ جس کو جو دینا چاہیے، اس ماہ میں آپ خوب دیتے تھے۔ اس کے دو اسباب تھے:
1- جبریل سے آپ کی ملاقات ہوتے رہنا۔
2- قرآن کا دور کرنا یعنی اسے زبانی پڑھنا۔
جبریل آپ کے ساتھ قرآن کے نازل شدہ حصے کا دور کرتے تھے اور اس دوران اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم فیاضی، داد و دہش، خیر کے کاموں اور لوگوں کو فیض یاب کرنے میں اس خوش گوار ہوا سے بھی تیز ہوا کرتے تھے، جسے اللہ بارش اور رحمت کے ساتھ بھیجتا ہے۔
حدیث کے فوائد
- نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سخاوت اور فیاضی کا بیان، خاص طور پر رمضان میں؛ کیوں کہ یہ اطاعت کا مہینہ اور نیک اعمال کا موسم ہے۔
- ہر وقت فیاضی دکھانے کی ترغیب۔ لیکن ماہ رمضان کے اندر اس میں زیادہ سرگرم رہنا مستحب ہے۔
- ماہ رمضان میں زیادہ سے زیادہ خرچ کرنا، لوگوں کو دینا، دوسروں کا بھلا کرنا اور قرآن پڑھنا چاہیے۔
- علم کی حفاظت کا ایک اہم ترین سبب طالب علموں اور علما کے ساتھ علم کے درس وتدریس میں لگا ہے۔
Explanation
The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) was the most generous of people, and his generosity was more intense in the month of Ramadan when he would give what was appropriate to those who were worthy of that. His increased generosity was caused by two things:
First: His meeting with Gabriel (peace be upon him).
Second: Revising the Qur’an, which is to recite it by heart.
Gabriel (peace be upon him) would revise all that was revealed of the Qur’an with him. Indeed, the Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him) was more generous, more giving, more intense in doing good, and faster in bringing benefit to the people than a good wind sent by Allah with rain and mercy.