جب یمن والے آئے تو اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: تمہارے پاس اہلِ یمن آئے ہیں۔
Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- سنن ابو داؤدSunan Abi Dawudمسند احمدMusnad AhmadOriginal wording: اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #6214Sunan Abi Dawud & Musnad Ahmad (HadeethEnc 6214)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
آپ ﷺ کا فرمان: ”تمہارے پاس اہلِ یمن آئے ہیں“ یہ اہلِ یمن کی شان کو بلند کرنا اور ان کی فضیلت کو ظاہر کرنا ہے۔ انہی میں سے اشعری لوگ بھی ہیں جو کہ ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے قبیلہ کے لوگ ہیں۔ اس فضیلت کی دلیل وہ حدیث بھی ہے جسے امام احمد نے اپنی مسند (3/155) میں انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کل تمہارے پاس ایسے لوگ آئیں گے جن کے دل اسلام کے لیے تم سے زیادہ نرم ہوں گے“۔ انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: چنانچہ اشعری لوگ آئے، ان میں ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ جب وہ لوگ مدینہ طیبہ کے قریب پہنچے تو یہ رجزیہ شعر پڑھنے لگے:
غداً نلقى الأحبه …محمداً وحزبه
یعنی کل ہم اپنے دوستوں یعنی محمد ﷺ اور ان کے ساتھیوں سے ملاقات کریں گے۔
جب یہ لوگ آئے تو انہوں نے مصافحہ کیا۔ چنانچہ یہی وہ پہلے لوگ تھے جنہوں نے مصافحہ کا رواج ڈالا۔
Explanation
The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) said: "There have come to you the people of Yemen,” he meant by this the Ash‘ariyyūn, who were the people of Abu Mūsa al-Ash‘ari (may Allah be pleased with them). This is supported by the Hadīth narrated by Ahmad in his Musnad (3/155) on the authority of Anas ibn Mālik who reported: The Messenger of Allah (may Allah’s peace and blessings be upon him) said: "Tomorrow a people will come to you whose hearts are softer for Islam than yours." Anas said: "The Ash‘ariyyūn came, and among them was Abu Mūsa al-Ash‘ari. When they approached Madīnah, they began chanting lines of poetry that meant: 'Tomorrow we will meet our beloved ones, Muhammad and his group.' When they arrived, they began shaking hands. So, they were the first to introduce the handshake.”