سنن ابو داؤد · مسند احمد
Sunan Abi Dawud · Musnad Ahmad

جب کوئی مسلمان مجھ پر سلام بھیجتا ہے، تو اللہ تعالیٰ میری روح مجھے لوٹا دیتا ہے، تاکہ میں اس کے سلام کا جواب…

Hasan (حسن) · Urdu & English translation by HadeethEnc

Reference حوالہ
6222Hasan حسن
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه أَنَّ رَسُولَ اللهِ صلَّى الله عليه وسلم قال: «ما مِنْ أحَدٍ يُسلِّمُ علي إلا ردَّ اللهُ عليَّ رُوحي حتى أردَّ عليه السَّلامَ».
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا : "جب کوئی مسلمان مجھ پر سلام بھیجتا ہے، تو اللہ تعالیٰ میری روح مجھے لوٹا دیتا ہے، تاکہ میں اس کے سلام کا جواب دے دوں"۔
— HadeethEnc اردو ترجمہ
Abu Hurayrah (may Allah be pleased with him) reported that the Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him) said: "No one greets me except that Allah restores my soul to me so that I return his greeting."
— HadeethEnc English translation

Reference حوالہ

1Source book اصل کتاب
سنن ابو داؤدSunan Abi Dawudمسند احمدMusnad Ahmad
Original wording: رواه أبو داود وأحمد
2Grade درجہ
Hasan حسن
Good: acceptable, slightly below Sahih
قابلِ قبول: صحیح سے کچھ کم درجہ
Graded by: HadeethEnc scholars
درجہ: HadeethEnc کے علماء
3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadiths
ترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
4Hadith ID نمبر
HadeethEnc #6222

نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.

Explanation تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بتا رہے ہیں کہ آپ کی روح آپ کے جسم میں لوٹا دی جاتی ہے، تاکہ آپ کسی بھی سلام کرنے والے کو سلام کا جواب دے سکیں۔ خواہ وہ دور ہو یا نزدیک۔ یاد رہے کہ برزخ اور قبر کی زندگی کا تعلق عالم غیب سے ہے، جس کی حقیقت اللہ کے سوا کوئی نہيں جانتا، جو ہر چیز پر قادر ہے۔

حدیث کے فوائد

  • اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم پر زیادہ سے زیادہ درود و سلام بھیجنے کی ترغیب۔
  • اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی برزخی زندگی کسی بھی انسان کو برزخ میں حاصل ہونے والی کامل ترین زندگی ہے۔ اس کی حقیقت اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔
  • اس حدیث میں ان لوگوں کے لیے کوئی دلیل نہیں ہے، جو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے قبر کے اندر ہماری اس دنیوی حیات کی طرح مکمل طور سے باحیات ہونے کا دعوی کرتے ہیں۔ ورنہ اہل شرک اسے آپ سے فریاد کرنے کی دلیل بنا لیتے۔ سچی بات یہ ہے کہ آپ اس وقت برزخی زندگی میں ہیں۔

Explanation

The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) informs that his soul is restored to him to return the greeting of whoever greets him, whether he is near or far. Life in the Barzakh (the period between death and resurrection) and the grave is a matter of the unseen, and no one knows its reality except Allah, Who is Competent over all things.

Topics موضوعات