جس شخص سے علم کی بات پوچھی گئی اور اس نے اسے چھپالیا، تو قیامت کے دن اسے آگ کی لگام پہنائی جائے گی۔
Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- سنن ابو داؤدSunan Abi Dawudجامع ترمذیJami' at-Tirmidhiسنن ابن ماجہSunan Ibn Majahمسند احمدMusnad AhmadOriginal wording: اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #6268Sunan Abi Dawud & Jami' at-Tirmidhi & Sunan Ibn Majah & Musnad Ahmad (HadeethEnc 6268)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
اس حدیث میں علم کو چھپانے پر سخت ترین تنبیہ وارد ہوئی ہے۔ جس شخص سے کوئی علمی مسئلہ دریافت کیا گیا اور دریافت کنندہ کو اس علمی مسئلہ سے واقفیت حاصل کرنے کی دینی ضرورت ہو، تو مسئول پر لازم ہے کہ وہ اس مسئلے کی وضاحت کرے، لیکن اگر اس نے جواب نہ کر یا نہ لکھ کر اس مسئلے کی وضاحت نہہیں کی، تو جیسے کو تیسا کے مطابق، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کے منہ میں آگ کی لگام ڈال دے گا۔ جس طرح اس نے جواب نہ دیتے ہوئے اپنےمنہ پر لگام لگا رکھی تھی۔ یقینا بدلہ عمل کی جنس سے ہی ملے گا۔ اس حدیث میں وارد وعید کے مستحق وہ لوگ ہوں گے، جو اس بات سے واقف ہو ں کہ سائل اپنے سوال سے رشد و ہدایت کا طلب گار ہے، لیکن جب مسئول کو پتہ چل جائے کہ سائل کا مقصد اس کا امتحان ہے، اس کا مقصد علم حاصل کرکے اس پر عمل کرنا نہیں ہے، تو مسئول کو اختیار ہےکہ چاہے تو اس کے سوال کا جواب دے یا نہ دے۔ ایسا شخص اس حدیث میں وارد وعید کا سزاوار نہ ہو گا۔
Explanation
This Hadīth carries a stern warning about the concealment of knowledge and that if a person is asked about something that concerns the questioner as regards his religious matters, and he is duty-bound to answer him, yet he fails to answer and clarify the matter to him, Allah, the Almighty, will punish him in the Hereafter by putting a bridle of fire over his mouth. However, if the questioner poses the question for some other reason, like testing the one he asks, the asked one has the choice to answer him or not, without falling under the warning set out in the Hadīth.