کرسی قدم رکھنے کی جگہ ہے اور عرش کی وسعت کا تو کوئی اندازہ ہی نہیں کر سکتا۔
Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- مسند احمدMusnad Ahmadصحیح ابن خزیمہSahih Ibn KhuzaymahOriginal wording: اسے ابنِ خزیمہ نے اپنی کتاب ”التوحید“ میں روایت کیا ہے۔ - اسے عبد الله بن احمد نے اپنی کتاب ”السنة“ میں روایت کیا ہے۔
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #6330Musnad Ahmad & Sahih Ibn Khuzaymah (HadeethEnc 6330)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
”الكُرسِيُّ مَوْضِع القَدَمَين“ یعنی وہ کرسی جسے اللہ تعالی نے اپنی طرف منسوب کیا ہے، وہ اللہ تعالی کے دونوں قدم رکھنے کا مقام ہے۔ کرسی کے بارے یہ معنی جسےابن عباس رضی اللہ عنہما نے ذکر کیا ہے، یہی اہل سنت کے مابین معروف ہے اور یہی معنی ان سے محفوظ طریقے سے مروی ہے۔ باقی رہا ان سے مروی یہ معنی کہ کرسی سے مراد علم ہے تو وہ غیر محفوظ ہے۔ اسی طرح حسن رضی اللہ عنہ سے مروی یہ معنی کہ کرسی سے مراد عرش ہے، ضعیف ہے اور صحیح سلسلۂ سند سے ان سے مروی نہیں ہے۔ اس حدیث میں اللہ سبحانہ وتعالی کے لیے دو قدموں کی صفت کا اثبات ہے، یہ صفت اللہ تعالی کے لیے بغیر کیفیت، تمثیل، تاویل اور تعطیل کے ویسے ہی ثابت ہے جیسا کہ اللہ تعالی کی عظمت وکبریائی کے شایان شان ہے۔ ”والعَرْش لا يَقْدِرُ أحدٌ قَدْرَه“ یعنی عرش جس پر اللہ تعالی مستوی ہیں وہ ایک عظیم مخلوق ہے۔ اس کے حجم اور وسعت کو اللہ تعالی کے سوا کوئی نہیں جانتا۔
Explanation
The Kursi, which Allah has attributed to Himself, is the resting place of His feet. This interpretation of the 'Kursi' that Ibn ‘Abbās (may Allah be pleased with him) mentioned is widely known among Ahl As-Sunnah, and it was authentically reported from him. Ibn ‘Abbās was also reported to have interpreted the 'Kursi' as knowledge, but this is not proven to be transmitted on his authority. Also what was reported on the authority of al-Hasan that the 'Kursi' is the Throne, is weak and inauthentic.
The Throne that Allah, the Almighty, is above is a great creation, and it is only Allah, the Almighty, who knows Its size and capacity.