جہاد کرنے والی جس جماعت یا جہاد کرنے والے جس لشکر نے جہاد کیا اور مالِ غنیمت لے کر صحیح و سالم واپس آگیا اس…
Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- صحیح مسلمSahih MuslimOriginal wording: اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #6392Sahih Muslim (HadeethEnc 6392)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
حدیث میں دو احتمال ہیں:
پہلا احتمال: ہر وہ لشکر جس کی دشمنوں سے جنگ ہوئی اور وہ اس میں بچا رہا اور مال غنیمت بھی حاصل کیا تو اس کا اجر اس لشکر سے کم ہوگا جو صحیح سالم نہیں رہا یا اگرصحیح سالم رہا بھی تو اسے مال غنیمت حاصل نہ ہوا۔ امام نووی نے اسی احتمال کو ترجیح دی ہے۔
دوسرا احتمال: یہ حدیث غنیمت کے حلال ہونے اور اس بات کی دلیل ہے تاہم اس سے اجر میں کمی واقع نہیں ہوتی۔ بس اس میں ہوتا یہ ہے کہ اجر کا کچھ حصہ جلدی مل جاتا ہے۔ باقی مال غنیمت حاصل کرنے والے یا حاصل نہ کرنے والے دونوں برابر ہیں تاہم مال غنیمت پانے والے کو اس کا دو تہائی اجر جلدی مل جاتا ہے جب کہ کل کے اعتبار سے وہ دونوں برابر ہیں۔ اللہ تعالی اس شخص کو جسے مال غنیمت نہیں ملتا اسے اتنا اجر بطور عوض عطا فرمائے گا جتنی مقدار میں وہ غنیمت سے محروم رہا ہوگا اور اللہ جسے چاہتا ہے بڑھا چڑھا کر دیتا ہے۔ ابن عبد البر رحمہ اللہ کی یہی رائے ہے۔
Explanation
There are two possible interpretations of this Hadīth:
First: The reward of any detachment, which fought the enemy and was safe and received its share of the booty, is less than the reward of another detachment that was injured and took no booty. This interpretation is favored by An-Nawawi (may Allah have mercy upon him).
Second: The Hadīth is a proof that the war booty is lawful and does not reduce the reward. Simply, part of the reward is received in this world instead of the Hereafter, and both teams shall receive equal rewards. The victorious one, however, receives two thirds of its reward in advance in this world, but their overall reward is equal. In the Hereafter, Allah compensates those who missed the booty with an amount equal to what they missed, and Allah multiplies the reward for whomever He likes. This is the interpretation of Ibn ‘Abd al-Barr (may Allah have mercy upon him).