صحیح مسلم
Sahih Muslim

جہاد کرنے والی جس جماعت یا جہاد کرنے والے جس لشکر نے جہاد کیا اور مالِ غنیمت لے کر صحیح و سالم واپس آگیا اس…

Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc

Reference حوالہ
6392Sahih صحیح
عن عبد الله بن عمرو بن العاص رضي الله عنهما مرفوعاً: «ما من غازيَةٍ أو سَرِيَّةٍ تغزو فَتَغْنَم وَتَسْلَمُ إلا كانوا قد تَعَجَّلُوا ثُلُثَي أُجُورِهِمْ، ومَا من غَازِيَةٍ أَوْ سَرِيَّةٍ تُخْفِقُ وَتُصَابُ إِلاَّ تم أُجُورُهُمْ».
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جہاد کرنے والی جس جماعت یا جہاد کرنے والے جس لشکر نے جہاد کیا اور مال غنیمت لے کر صحیح و سالم واپس آگیا اس کو اس کا دو تہائی اجر جلدی (یعنی اسی دنیا میں ) مل گیا اور جہاد کرنے والی جس جماعت یا لشکر نے جہاد کیا اور نہ صرف یہ کہ اس کو مال غنیمت نہیں ملا بلکہ اس جماعت و لشکر کے لوگ زخمی ہوئے یا شہید کر دیے گیے تو ان کا پورا اجر باقی رہا“۔
— HadeethEnc اردو ترجمہ
‘Abdullāh ibn ‘Amr ibn al-‘Ās (may Allah be pleased with him) reported that the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) said: “No invading group or detachment sets out to fight in the cause of Allah and gets its share of the booty and returns safe and sound, but it has been given two-thirds of its reward in this world. On the other hand, no invading group or detachment returns defeated and injured but it will receive its full reward in the Hereafter.”
— HadeethEnc English translation

Reference حوالہ

1Source book اصل کتاب
صحیح مسلمSahih Muslim
Original wording: اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔
2Grade درجہ
Sahih صحیح
Authentic: reliable chain and text
مستند: سند اور متن دونوں درست
Graded by: HadeethEnc scholars
درجہ: HadeethEnc کے علماء
3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadiths
ترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
4Hadith ID نمبر
HadeethEnc #6392

نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.

Explanation تشریح

حدیث میں دو احتمال ہیں:
پہلا احتمال: ہر وہ لشکر جس کی دشمنوں سے جنگ ہوئی اور وہ اس میں بچا رہا اور مال غنیمت بھی حاصل کیا تو اس کا اجر اس لشکر سے کم ہوگا جو صحیح سالم نہیں رہا یا اگرصحیح سالم رہا بھی تو اسے مال غنیمت حاصل نہ ہوا۔ امام نووی نے اسی احتمال کو ترجیح دی ہے۔
دوسرا احتمال: یہ حدیث غنیمت کے حلال ہونے اور اس بات کی دلیل ہے تاہم اس سے اجر میں کمی واقع نہیں ہوتی۔ بس اس میں ہوتا یہ ہے کہ اجر کا کچھ حصہ جلدی مل جاتا ہے۔ باقی مال غنیمت حاصل کرنے والے یا حاصل نہ کرنے والے دونوں برابر ہیں تاہم مال غنیمت پانے والے کو اس کا دو تہائی اجر جلدی مل جاتا ہے جب کہ کل کے اعتبار سے وہ دونوں برابر ہیں۔ اللہ تعالی اس شخص کو جسے مال غنیمت نہیں ملتا اسے اتنا اجر بطور عوض عطا فرمائے گا جتنی مقدار میں وہ غنیمت سے محروم رہا ہوگا اور اللہ جسے چاہتا ہے بڑھا چڑھا کر دیتا ہے۔ ابن عبد البر رحمہ اللہ کی یہی رائے ہے۔

Explanation

There are two possible interpretations of this Hadīth:
First: The reward of any detachment, which fought the enemy and was safe and received its share of the booty, is less than the reward of another detachment that was injured and took no booty. This interpretation is favored by An-Nawawi (may Allah have mercy upon him).
Second: The Hadīth is a proof that the war booty is lawful and does not reduce the reward. Simply, part of the reward is received in this world instead of the Hereafter, and both teams shall receive equal rewards. The victorious one, however, receives two thirds of its reward in advance in this world, but their overall reward is equal. In the Hereafter, Allah compensates those who missed the booty with an amount equal to what they missed, and Allah multiplies the reward for whomever He likes. This is the interpretation of Ibn ‘Abd al-Barr (may Allah have mercy upon him).

Topics موضوعات