جو شخص کسی میت کو غسل دے، اور اس کی پردہ پوشی کرے تو اللہ تعالی اسے چالیس مرتبہ معاف فرمائے گا۔
Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- مستدرک حاکمAl-Mustadrak (Hakim)سنن بیہقیSunan al-BayhaqiطبرانیAt-TabaraniOriginal wording: اسے امام بیہقی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام حاکم نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام طبرانی نے روایت کیا ہے۔
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #6402Al-Mustadrak (Hakim) & Sunan al-Bayhaqi & At-Tabarani (HadeethEnc 6402)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
اس حدیث میں اس شخص کی فضیلت کا بیان ہے جو میت کو غسل دیتا ہے اور اس کے کسی عیب کو دیکھ کر اس پر پردہ ڈالتا ہے۔ میت کی کسی ناپسندیدہ حالت کو دیکھنا دو طرح کا ہوتا ہے۔ ایک یہ کہ جو اس کی حالت سے تعلق رکھے اور دوسرے وہ جو اس کے جسم اور بدن سے تعلق رکھے۔ پہلی قسم جیسے نہلانے والا دیکھے کہ میت کا چہرہ تبدیل ہوگیا ہے، کالا اور بدصورت ہوگیا ہے، عموماً یہ اس کے بُرے خاتمے کی علامت سمجھی جاتی ہے، اللہ کی پناہ، سو نہلانے والوں کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ لوگوں کو یہ کہتا پھرے کہ میں نے اس شخص کو اس حالت میں دیکھا، اس لیے کہ یہ اس کے عیوب کو بیان کرنا ہے، حالانکہ یہ میت اپنے رب کے ہاں چلا گیا ہے اور عنقریب وہ اپنے عدل و فضل کے مطابق اسے بدلہ دے گا۔ دوسرے یہ کہ نہلانے والا میت کی پیٹھ پر کوئی عیب دیکھے جسے وہ اپنی زندگی میں لوگوں سے چھُپاتا رہا، تو اس عیب کو چُھپانے والے کے لیے اجرِ عظیم چالیس مرتبہ معافی کی صورت میں ملے گا۔
Explanation
This Hadīth clarifies the virtue of the one who washes a deceased person and conceals what he sees of defects. Such defects are of two types: the first are related to the deceased's state, and the second to his body. The first type, for example, is if he sees that the face of the deceased has turned dark and ugly, which might be a sign of a bad ending for that person, we ask Allah safety from this situation. In this case, it is not permissible for him to mention this to others because this is considered revealing the defects of the deceased who has already gone to meet his Lord, and Allah will give him what he deserves of justice or grace. The second type is, for example, seeing a physical defect in the deceased's back or other parts of his body that he used to hide from people in his life. So, the one who conceals such defects is granted the enormous reward of forty counts of forgiveness.