سنن ابو داؤد · سنن نسائی · مسند احمد
Sunan Abi Dawud · Sunan an-Nasa'i · Musnad Ahmad

مشرکین کے ساتھ اپنى جانوں، اپنے اموال اور اپنى زبانوں کے ذریعے جہاد کرو”۔

Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc

Reference حوالہ
64597Sahih صحیح
عن أنس رضي الله عنه أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «جَاهِدُوا المشركين بأموالكم وأنفسكم وألسنتكم».
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: "مشرکین کے ساتھ اپنى جانوں، اپنے اموال اور اپنى زبانوں کے ذریعے جہاد کرو"۔
— HadeethEnc اردو ترجمہ
Anas (may Allah be pleased with him) reported that the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) said: "Strive against the polytheists with your properties, souls, and tongues."
— HadeethEnc English translation

Reference حوالہ

1Source book اصل کتاب
سنن ابو داؤدSunan Abi Dawudسنن نسائیSunan an-Nasa'iمسند احمدMusnad Ahmad
Original wording: رواه أبو داود والنسائي وأحمد
2Grade درجہ
Sahih صحیح
Authentic: reliable chain and text
مستند: سند اور متن دونوں درست
Graded by: HadeethEnc scholars
درجہ: HadeethEnc کے علماء
3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadiths
ترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
4Hadith ID نمبر
HadeethEnc #64597

نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.

Explanation تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے کفار سے جہاد کرنے اور تمام امکانی وسائل اختیار کر کے پوری قوت سے ان کا مقابلہ کرنے کا حکم دیا ہے، تاکہ اللہ کے دین کو سربلندی حاصل ہو۔ جہاد کے کچھ وسائل درج ذیل ہيں :

1- کفار سے جہاد کے لیے ہتھیاروں کی خریداری میں اور مجاہدین کے رسد وغیرہ میں مال خرچ کرنا۔

2- کافروں کا مقابلہ کرنے کے لیے جسم وجاں کے ساتھ نکلنا۔

3- انھیں زبان سے اسلام کی دعوت دینا، ان پر حجت قائم کرنا اور ان کے دلائل ودعووں کا ابطال کرنا۔

حدیث کے فوائد

  • جان، مال اور زبان کے ذریعے حسب استطاعت مشرکوں سے جہاد کرنے کی ترغیب دینا۔ جہاد صرف بہ نفس نفیس جنگ میں شامل ہونے ہی کا نام نہيں ہے۔
  • جہاد کا یہ حکم وجوب کے لیے ہے۔ ویسے جہاد کبھی فرض عین ہوتا ہے اور کبھی فرض کفایہ۔
  • جہاد کی مشروعیت کے کئی اسباب ہيں۔ جیسے 1- شرک اور اہل شرک کا مقابلہ کرنا۔ کیوں کہ اللہ کسی بھی حال میں شرک کو قبول نہيں کرنا۔ 2۔ دعوت الی اللہ کی راہ میں سامنے آنے والے روڑوں کو ہٹانا۔ 3۔ عقیدے کو اس سے ٹکرانے والی تمام چیزوں سے محفوظ رکھنا۔ 4۔ مسلمانوں، ان کے وطنوں، عزت وآبرو اور اموال کا دفاع کرنا۔

Explanation

The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) commanded striving against the disbelievers and putting forth every effort in facing them using all available means, according to their ability, so that the word of Allah be supreme. This includes:

First: Spending money on making Jihad against them through buying weapons, providing for the fighters, etc.

Second: Going forth with one's self and body to confront them and overcome them.

Third: Inviting them to Islam through verbal means, establishing proof against them, rebuking them, and refuting their claims.

Topics موضوعات