سنن ابو داؤد · جامع ترمذی · سنن نسائی
Sunan Abi Dawud · Jami' at-Tirmidhi · Sunan an-Nasa'i

میں ہر ایسے مسلمان سے بری ہوں، جو مشرکوں کے بیچ رہتا ہو

Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc

Reference حوالہ
64600Sahih صحیح
عن جرير بن عبد الله قال: بعث رسول الله صلى الله عليه وسلم سَرِيَّةً إلى خَثْعَمٍ فاعٍتَصَمَ نَاسٌ منهم بالسجود، فَأَسْرَعَ فيهم القَتْلُ قال: فَبَلَغَ ذلك النبيَّ صلى الله عليه وسلم فَأَمَرَ لهم بنصف العَقْلِ وقال: «أنا بريء من كل مسلم يُقيم بين أَظْهُرِ المشركين». قالوا: يا رسول الله لم؟ قال: «لا تَرَاءَى نَارَاهُما».
جریر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے خثعم قبیلے کی جانب ایک سریہ بھیجا۔ چنانچہ ان میں سے کچھ لوگ بچاو کے لیے سجدے میں گر پڑے، لیکن انھیں تیزی سے قتل کر دیا گیا۔ وہ کہتے ہیں کہ جب اس کی اطلاع اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ملی، تو ان کى آدھی دیت ادا کرنے کا حکم دیا اور فرمایا: "میں ہر ایسے مسلمان سے بری ہوں، جو مشرکوں کے بیچ رہتا ہو"۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! ایسا کیوں؟ تو فرمایا : "ان میں سے ایک کی آگ دوسرے کو نہيں دکھنی چاہیے"۔
— HadeethEnc اردو ترجمہ
Jarīr ibn ‘Abdullāh (may Allah be pleased with him) reported: 'The Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him) sent a brigade to (the tribe of) Khath‘am. Some of their people sought protection by resorting to prostration but were hastily killed. When the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) was informed of that, he ordered half the blood money to be paid for them, saying: "I am not responsible for any Muslim who stays among the polytheists." They asked: "Why, O Messenger of Allah?" He said: "Their fires should not be visible to one another.''
— HadeethEnc English translation

Reference حوالہ

1Source book اصل کتاب
سنن ابو داؤدSunan Abi Dawudجامع ترمذیJami' at-Tirmidhiسنن نسائیSunan an-Nasa'i
Original wording: اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔
2Grade درجہ
Sahih صحیح
Authentic: reliable chain and text
مستند: سند اور متن دونوں درست
Graded by: HadeethEnc scholars
درجہ: HadeethEnc کے علماء
3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadiths
ترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
4Hadith ID نمبر
HadeethEnc #64600

نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.

Explanation تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خثعم قبیلے کی ایک حصے کی جانب، جو کافر تھا، لشکر کی ایک ٹکڑی بھیجی۔ یہ لوگ وہاں پہنچے تو کچھ لوگ یہ ثابت کرنے کے لیے کہ وہ مسلم ہيں، سجدہ کرنے لگے۔ لیکن، چونکہ وہ مشرکوں کے ساتھ رہ رہے تھے، اس لیے مسلمانوں نے انھیں مشرک سمجھ کر بنا وقت گنوائے قتل کر دیا۔ لیکن جب یہ یقین ہو گیا کہ وہ مسلمان ہی تھے، تو اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کى دیت عام مسلمانوں کى دیت سے آدھی رکھى۔ پوری دیت ادا کرنے کے لیے اس لیے نہيں کہا کہ اس قتل کے وقوع کا سبب وہ خود ہی تھے۔ شریعت نے کافروں کے علاقے میں رہنے کو حرام قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ مسلمان کافر سے اتنا قریب نہ رہے کہ اگر ان میں ایک آگ جلائے تو دوسرے کو دکھنے لگے۔ اس طرح کا حکم کفر اور اس کے پیروکاروں سے براءت کے اظہار کی بنا پر دیا گیا ہے۔

Explanation

The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) sent an army brigade to a group from the tribe of Khath‘am who were disbelievers. So, some of them resorted to prostration to show that they were Muslim. However, the Muslims hastened to kill them, thinking that they were polytheists, and because they stayed among the polytheists. When it was later confirmed that they (who prostrated) had converted to Islam, the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) made their blood money half of that of Muslims. He did not give them a full blood money because they were the reason behind their own killing. The Shariah forbids staying in the land of the disbelievers, such that Muslims should not meet the disbelievers or their fires cross. This means that they should not be close enough to see each other's fire. The purpose is for the Muslims to disassociate themselves from disbelief and its people.

Topics موضوعات