مسلمان دوسرے لوگوں کے مقابلے میں ایک ہاتھ کی طرح ہیں، ان کا خون اور ان کا مال برابر ہے، ان کے کسی ادنی انسان…
Hasan (حسن) · Urdu & English translation by HadeethEnc
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- سنن ابو داؤدSunan Abi Dawudسنن ابن ماجہSunan Ibn Majahمسند احمدMusnad AhmadOriginal wording: اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔
- 2Grade درجہ
- Hasan حسنGood: acceptable, slightly below Sahihقابلِ قبول: صحیح سے کچھ کم درجہGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #64624Sunan Abi Dawud & Sunan Ibn Majah & Musnad Ahmad (HadeethEnc 64624)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ مسلمانوں کے اندر مکمل اتحاد و اتفاق رہنا چاہیے اور دشمن کے مقابلے میں انھیں ایک جان کی طرح کھڑا ہونا چاہیے۔ ان کے اندر انتشار اور آپسی پھوٹ کی بجائے اس قدر ہم آہنگی اور آپسی محبت ہو کہ وہ سچ مچ ایک ہی جماعت کی طرح دکھیں۔ اللہ تعالی نے فرمایا : {وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا} (اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور گروہ بندیوں کا شکار نہ بنو) ایک اور جگہ فرمایا : {لَا تَنَازَعُوا فَتَفْشَلُوا وَتَذْهَبَ رِيحُكُمْ} (آپس میں جھگڑو نہیں، ورنہ تم کمزور ہو جاو گے اور تمھاری ہوا اکھڑ جائے گی)۔ اسی طرح تمام مسلمانوں کا خون دیت اور قصاص کے معاملے میں بھی برابر ہے۔ کوئی کسی سے افضل نہیں ہے۔ نہ نسب کی بنیاد پر، نہ رنگ و نسل کی بنیاد پر اور نہ مسلک کی بنیاد پر۔ سارے لوگ اس حق اور واجب کے سامنے برابر ہیں۔ اس حدیث میں اس بات کا بھی ذکر ہے کہ کسی ایک مسلمان نے بھی جب کسی کافر کو امان دے دی، تو اس کی دی ہوئی امان سارے مسلمانوں کے لیے واجب التسلیم ہو گى، اس لیے اس کا احترام ضروری ہے اور اس کے عہد کی خلاف ورزی جائز نہیں ہے۔
ساتھ ہی اس بات کا بھی ذکر ہے کہ کسی سریے کو لشکر کی قوت کی بنا پر جو مال غنیمت حاصل ہو، وہ اس سریے میں شامل لوگوں کو بھی ملے گا اور فوج کے ان لوگوں کو بھی جو وہاں سے دور موجود ہوں، کیوں کہ یہ مال غنیمت فوج کی طاقت کی بنا پر حاصل ہوا ہے اور بیت المال میں جو فے کا مال آئے وہ یکساں طور پر قریب کے فوجیوں کے لیے بھی ہے اور دور کے فوجیوں کے لیے بھی، اگر چہ اسے حاصل کرنے میں قریب کے فوجیوں کی ہی تگ ودو شامل ہو۔
Explanation
This Hadīth indicates that all Muslims must preserve unity of word and stance as a united front in the face of their enemies. They should never be disunited or let each other down, since they are one community with one stance against their enemies. Allah, the Almighty, says: {And hold firmly to the rope of Allah all together and do not become divided} [Sūrat Āl-‘Imrān:103]. Allah also says: {and do not dispute and [thus] lose courage and [then] your strength would depart} [Sūrat al-Anfāl: 46]. Moreover, this Hadīth states that bloods of Muslims and believers are equal in terms of blood money and retribution, and that none of them is superior to the other because of lineage, race, or school of thought. They are all equal regarding this right and duty. According to the Hadīth, protection granted by a Muslim to a disbeliever is binding on all Muslims, who must respect this pledge of protection and never breach it. Finally, the Hadīth states that in the distribution of the spoils of war, seized by a detachment with the support of the army, not only the actual captors (soldiers of a detachment) but also the joint captors (the whole army) are entitled to share. Likewise, when spoils of war end up in the Muslim treasury, they must be distributed to all Muslims whether they directly participated in seizing them or not.