کچھ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کچھ لوگ ہمارے پاس گوشت لاتے ہیں۔ ہمیں نہیں معلوم کہ وہ اس پر اللہ کا نام…
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- صحیح بخاریSahih al-BukhariOriginal wording: اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #64653Sahih al-Bukhari (HadeethEnc 64653)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
اس حدیث میں عائشہ رضی اللہ عنہا بتا رہی ہیں کہ کچھ لوگ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور پوچھا کہ ان کے پاس گوشت کچھ مسلمانوں کے یہاں سے آتا ہے، لیکن ان کے مسلمان ہونے کو زیادہ دن نہیں ہوئے ہیں، اس لیے ان کے پاس شریعت کے احکام سے واقفیت کی کمی ہوتی ہے، ایسے میں پتہ نہیں ہوتا کہ انھوں نے جانور ذبح کرتے وقت اللہ کا نام لیا ہے یا نہیں؟ اس پر آپ نے پوچھنے والوں کو حکم دیا کہ کھاتے وقت اللہ کا نام لے کر اسے کھا لیں۔ حدیث کی کچھ روایتوں میں وارد الفاظ "تم خود اللہ کا نام لے لو اور کھاو" سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس میں ایک طرح سے ان کی ملامت ہے۔ گويا کہ آپ فرما رہے ہیں: اگر ظاہر حلت ہو تو تمھیں دوسرے کے کام کی پروا نہیں کرنی چاہیے، بلکہ اپنے کام پر دھیان رکھنا چاہیے۔ لہذا، تم خود اللہ کا نام لے لو اور کھاو۔ اس سے یہ مستفاد ہوتا ہے کہ اگر کوئی یہودی یا نصرانی اپنا ذبح کیا ہوا ذبیحہ لائے، تو اس سے یہ پوچھا نہیں جائے گا کہ اس نے اسلامی طریقے پر ذبح کیا ہے یا نہیں؟ اسے بال کی کھال نکالنا سمجھا جائے گا۔ لیکن اس سے ایسے ذبیحے حلال نہیں ہوتے، جن کے بارے میں یقینی طور پر معلوم ہو کہ انھیں ذبح کرتے وقت اللہ کا نام نہيں لیا گیا ہے۔
Explanation
In this Hadīth, ‘Ā’ishah (may Allah be pleased with her) says that some people came to the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) and asked him about meat that they had received from Muslims who were new converts and were not yet familiar with the rulings of Islam. It was not known whether or not they had mentioned the name of Allah when they slaughtered the animals. The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) told those people to mention the name of Allah before eating the meat. He said in another narration: "You mention the name of Allah and eat." It is thus evident that he wanted to say to them, in a reproaching tone: you should not care for what others do if the thing is apparently lawful. Rather, you should care for what you yourselves do, so mention the name of Allah and then eat. Accordingly, if a Jew or a Christian offers meat of an animal that he has slaughtered to a Muslim, the Muslim should not ask if the animal was slaughtered in the Islamic manner. This question is irrelevant, for it goes too far. This does not mean that the slaughtered animals regarding which one is sure that the name of Allah was not mentioned over them are lawful.